نواز شریف کی غیرت اور عدالت کا دروازہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں نواز شریف کو ایک بار پھرکوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کر کے لاہور کی احتساب عدالت لایا گیا تو عدالت میں سانس لینا مشکل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عین اس وقت جب نیب حکام نواز شریف کو عدالت میں لے کر پہنچے تو امیر مقام،  برجیس طاہر اور پنجاب اسمبلی کے کئی اراکین عدالت سے باہر آچکے تھے۔ نواز شریف عدالت میں جانے سے پہلے اپنے دکھ کا اظہار کرگئے کہ کاش انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی بات مان کر اسمبلیوں سے استعفی دے دیا ہوتا۔ اب مولانا کے آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے وہ تمام تر ہدایات تحریری طور پر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو دے چکے ہیں۔

نواز شریف عدالت میں آئے تو ہر رہنما اور کارکن ان کے ساتھ ہی داخل ہونا چاہتا تھا جس کی وجہ سے شدید دھکم پیل ہوئی اور زور دار آواز کے ساتھ معزز عدالت کا دروازہ ٹوٹ گیا۔ لیگی وکلا ء اور رہنماؤں نے عدالت میں موجود میز پر چڑھ کر شدید نعرے بازی کی جس سے میز ٹوٹ گیا اور طلال چوہدری سمیت دیگر اہم رہنما زمین پر گر پڑے، کچھ رہنما کرسیوں پر کھڑے ہو کر نعروں کا جواب دیتے رہے۔

میز ٹوٹنے کے بعد رہنما کرسیوں پر چڑھ کر شدید نعرے بازی کرنے لگے۔ جس سے معزز عدالت کی کرسیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ کارکن عدالتی ڈیکارم کی دھجیاں اڑاتے ہوئے موبائل فون پر نواز شریف کے ساتھ کمرہ عدالت میں سلفیاں بناتے رہے۔ یہاں تک میں نے کئی کارکنان کو فیس بک لائیو بھی کرتے دیکھا۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی وجہ سے صوبائی اسمبلی کے ممبران کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی۔ نواز شریف کی موجودگی میں کارکنوں کی طرف سے ریاستی اداروں کے بارے میں سخت جملے اور آوازے بلند ہوتے رہے۔ نعرے بازی اور دھکم پیل کے دوران ایک لیگی کارکن کی طبیعت خراب ہوگئی جس پر ریسکیو کے جوانوں نے فوری طوری پر اسے ہسپتال شفٹ کیا۔

سماعت کے دوران کیپٹن ر صفدر جو میاں نواز شریف کے پیچھے کھڑے تھے انگلی منہ پر رکھ کر کسی استاد کی طرح کارکنوں کو خاموش کرواتے رہے مگر وہ کارکن ہی کیا جو خاموش ہوجائیں۔ کچھ دیر بعد کیپٹن ر صفدر باہر آئے اور پرویز رشید، مریم اورنگزیب کی موجودگی میں ہماری طرف رخ کرکے بتاتے رہے نواز شریف کے پاؤں پر خفیہ ادارے کے اہلکار نے زور سے پاؤں مارا ہے۔ یہ کہہ کر وہ دوبارہ عدالت میں چلے گئے، وہ سماعت کے آخر تک مسلسل عدالت کے باہر موجود کارکنوں کو چپ رہنے کے اشارے کرتے رہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا ہے۔ پراسکیوٹر نے نواز شریف کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 25 اکتوبر کو عدالت میں دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

نواز شریف نے عدالت کے سامنے بات شروع کی تو ان کے ہاتھ میں کاغذ تھا جس پر وہ بولنے کے ساتھ ساتھ دیکھتے رہے انہوں نے کہا کہ آج صبح نیب کے لوگ جیل میں آئے۔ میں نے کہا کہ وکیل سے رابطہ نہیں ہوا۔ جو الزامات لگائے ہیں وہ پڑھے ہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ 1937 ء سے 1971 ء تک پیسہ کاروبار سے آیا۔ میرے والد کاروباری آدمی تھے۔ ہماری اسٹیل ملز تھیں۔ اس وقت کی حکومت نے تمام ادارے قومیا لیے تھے تو ہماری ملز بھی قبضے میں گئیں۔ بتائیں کرپشن کہاں ہوئی؟ میں وزیر اعلی بھی رہا اور تین بار وزیراعظم بھی رہا۔ پانچ بار کی وزارت میں ایک پیسے کی بھی کرپشن دکھا دیں، سیاست سے دستبردار ہو جاؤں گا۔

میں سیاست میں بہت بعد میں آیا، اثاثے بہت پہلے کے ہیں۔ نیب پرویز مشرف نے صرف میرے خلاف بنائی تھی۔ یہ کالا قانون صرف اور صرف مسلم لیگ ن کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ مجھے کالا پانی، گوانتا موبے لے جانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ن لیگ گھبرا جائے گی تو ان کی بھول ہے۔

نواز شریف نے موقف اختیار کیا کہ جو الزامات لگائے ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ 23 انڈسٹریز کے اندر ہمارا نام تھا بتائیں کہاں کرپشن ہوئی؟ وزیر بھی رہا، وزیراعلیٰ بھی، وزیراعظم بھی بتائیں کرپشن کہاں ہوئی؟ کسی کو انسداد منشیات کے مقدمے میں پکڑا جا رہا ہے۔ یہ کیا طریقہ ہے؟

ایک موقع پر جب نواز شریف نے کہا یہ لوگ سمجھتے ہیں ”ایسے میرا سر جھک جائے گا تو یہ ان کی بھول ہے“ اس بات پر کارکنوں نے بھری عدالت میں تالیاں بجائیں اور نعرے لگا دیے۔ نواز شریف عدالت کے باہر آئے تو مجھ سمیت کچھ دوستوں نے سوالات کیے۔ لگتا تھا جیسے وہ میڈیا سے خود بات کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا وہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم ہیں۔ ووٹ کی عزت کو بحال کروائیں گے۔ مولانا کا ساتھ دیں گے۔ شدید دھکم پیل کے دوران جاتے جاتے میاں صاحب نے ہمیں اکبر الہ آبادی کا یہ شعر ہمیں سنایا

اکبر نے سنا ہے اہل غیرت سے یہی
جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا

نواز شریف کی باتوں سے تو صاف لگتا تھا کہ ان کی غیرت کو للکارا گیا ہے، اب چاہے کچھ بھی ہو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ عدالت کے دروازے سے گزرے تو وہ اپنی جگہ پر سلامت نہیں رہا تھا۔ اب کی بار وہ تاریک راہداریوں میں رہ کر تاریخ میں امر ہونا چاہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •