لاہور شہر میں کبھی مجسمے ہوا کرتے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ باغوں اور درسگاہوں کا شہر اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ کبھی سڑکیں کشادہ صاف اور ہوادار ہوا کرتی تھیں۔ شہر اور شہروں کی خاص وجہِ شہرت یونہی نہیں بن جاتی یہ نصف صدی سے بھی زیادہ کا قصہ ہوتا ہے اور بسا اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں ایک شہر کو ایک خاص نہج کا شہر بنانے کے لیے کئی صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ یہ شہرِ لاہور علم او باغوں کا شہر یونہی نہیں بن گیا اس کے پیچھے اور پسِ پردہ ہزارہا افراد ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے جیسے فلم بنانے میں نظر نہ آنے والے افراد کاحصہ کم اہمیت کا حامل نہیں ہوتا۔

کبھی مال روڈ کا حسن آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے اور پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج کی پر شکوہ عمارات دیکھ کر آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔ ان عمارات کا طرزِ تعمیر ایک الگ شان رکھتا ہے۔ یوں تو اس شہر میں بادشاہی مسجد، بادشاہی قلعہ، مقبرہ جہانگیر، مقبرہ نور جہاں، کامران کی بارہ دری اور رنجیت سنگھ کی مڑھی بھی قابلِ دید تھیں مگر تعلیمی درسگاہوں کی جدا حیثیت تھی۔ کامران کی بارہ دری کو پہلے راوی میں پانی کی عدم دستیابی نے ویران کیا اور رہی سہی کسر وہاں نشے کی لت میں مبتلا لوگوں نے پوری کر دی۔ اب نہ وہاں راوی ہے نہ راوی کا پانی اور نہ کشتیاں۔ بلکہ وہ گیت بھی راوی کی ریت میں دفن ہو گئے ہیں جو راوی کو مخاطب کر کے کہے گئے تھے۔

وگدی اے راوی وچ سٹاں کنگھیاں

نی میں کنہوں کنہوں دساں ے تیرے نال منگیاں۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (یونیورسٹی) اور ہائی کورٹ کے سامنے جو مجسمے نصب تھے وہ نہیں رہے اور تاریخ کی کتب میں محفوظ ہو گئے یا ہمارے دلوں میں ایستادہ ہو گئے۔ ایک نادرِ روزگار مجسمہ اب بھی محفوظ ہے اور وہ بھی شایداس لئے کہ اسے درختوں کے جھنڈ نے اپنی پناہ میں لیا ہوا ہے۔ کانسی کا یہ مجسمہ الفریڈ کوپر وولنر کا ہے جو 1937 سے یہاں نصب ہے۔ وولنر نے پنجاب میں تعلیم کے لیے بہت کام کیا۔ پاکستان کی پہلی یونیورسٹی میں تین عشروں تک کام کیا اور وائس چانسلر کے عہدے تک پہنچے۔

سنسکرت اور پراکرت کے ماہر تھے اور ان کے سنسکرت کے علمی خزانے کی آٹھ سو پچاس کتب موجود تھیں۔ اشوکا کے عہد کی تحریریں اور ان کا متن ان کا اختصاص تھا۔ ان کا انتقال 1936 میں ہوا اور گورا قبرستان لاہور میں مدفون ہیں۔

وولنر کے کام کو جانفشانی سے آگے بڑھانے میں ہماری دوست رضوانہ علی سید کے والد احسان ملتانی کا نام بہت اہم ہے۔ وہ سنسکرت کے عالم تھے اور اس زبان کی ترویج میں بھی انہوں نے بہت کام کیا۔ وہ اس قدیم زبان کے لحاظ میں خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔

وہ اسی شعبہ سنسکرت پنجاب یونیورسٹی کے لائبریرین تھے۔ وہ ملتان کے دور افتادہ گاٶں احسان پور میں 1910 میں پیدا ہوئے اور 1961 میں انتقال ہوا۔ وہ 1958۔ 1959 میں لائبریری میں شعبہ سنسکرت کے انچارج تھے۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی قدیم زبان کا یہ خزانہ زمانے اور یونیورسٹی کی دست برد سے محفوظ رہا یا نہیں ہمیں علم نہیں ہے اور فی الحال یہ ہمارا موضوع بھی نہیں۔ بہرحال حال ان کا ملتانی اور سنسکرت کا تقابلی جائزہ معرکے کی تخلیق ہے۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے سامنے ایڈورڈ ہفتم کا مجسمہ بھی ہوا کرتا تھا جس کے نام پر یہ کالج قائم ہوا تھا۔ 1974 میں چیرنگ کراس میں ’ملکہ کا بت‘ بھی مال کی رونق بڑھاتا تھا جسے اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ اس شہر کو باغوں کا شہر بنانے اور مشہور کرنے میں گورنر لارنس کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس نے مال وڈ پر لارنس گارڈن بنوایا جو اب باغِ جناح کے نام سے معروف ہے۔ اس کا مجسمہ ہائی کورٹ کے سامنے نصب تھا جس کے ایک ہاتھ میں قلم اوردوسرے ہاتھ میں تلوار تھی۔ مگر 1920 کے ہنگاموں میں اس مجسمے کو آئر لینڈ منتقل کر دیا جہاں اس کے ہاتھ میں قلم تو محفوظ ہے مگر تلوار ٹوٹ گئی ہے۔

گنگارام اور آزادی کے سپاہی لالہ لاجپت رائے کے مجسمے تقسیم کے وقت شملہ بھیج دیے گئے تھے۔ لالہ رائے نے سائمن کمشن کی مخالفت میں مظاہرے میں جان دی تھی۔ یہ مجسمے اس شہر کی ثقافتی تاریخ کے مظہر تھے مگر اب کسی کو معلوم نہیں ہے کہ یہ مجسمے کہاں ہیں۔ ایک لارڈ میو کا مجسمہ ہوتا تھا جو لارڈ میو کی بجائے منٹو کے افسانے کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گیا ہے اگرچہ وہ مجسمہ لاہور میں نہیں ہے مگر منٹو کے افسانے کا مجسمہ یہیں لاہور میں ہی ہے۔

پچھلی حکومت نے پہلے ملتان روڈ اور بعد میں میکلوڈ روڈ پر واقع لکشمی چوک کا ساراحسن پامال کیا۔ شکر ہے کہ مال اس حکومت کے ہاتھوں سے محفوظ رہا۔ لاہور اقبال کا بھی شہر ہے اور فارسی دان طبقہ انہیں اقبال لاہوری کے نام سے جانتا اور پہچانتا ہے۔ ان کا ایک خوبصورت مجسمہ الحمرا کی چار دیواری کے اندر نصب کیا گیا ہے۔ اس مجسمے کو چیرنگ کراس کے خوبصورت لوکیشن پر نصب ہونا چاہیے۔ اقبال اور محمد علی جناح کے مجسمے رضوان حیدر کی صلاحیتوں اور محنتِ شاقہ کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو خود ان کے بقول پچاس سال تک محفوظ رہیں گے اور ہم بحیثیت پاکستانی بھی ان کی حفاظت کریں گے۔ البتہ وولنر کے مجسمے کو مال روڈ پر درختوں کے جھنڈ چھپانے اور محفوظ رکھنے میں شاباش کے مستحق ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقتدار جاوید کی دیگر تحریریں
اقتدار جاوید کی دیگر تحریریں