کسی بابل کی جیب خالی نہ ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد مارگلہ کی پہاڑیوں پہ شام کے سائے بڑھتے ہی ہوا میں ٹھنڈک کا احساس بڑھنے لگا۔ رب نواز بوجھل قدموں سے سڑک کنارے چلتا ہوا ان گنت سوچوں میں گم تھا۔ اُس کے کانوں میں بار بار اپنی بیٹی کے الفاظ گونج رہے تھے۔

بابا مجھے ڈرائنگ کی کاپی اور پینسل کلر لے دو نا۔ استانی مجھے کلاس سے باہر کھڑا کر دیتی ہیں۔ بابا آج ضرور میرے لیے ٹفن بکس لے آنا روز شاپر میں کھانا لے کے جانے سے کتابیں گندی ہو جاتی ہیں۔

رب نواز سے ضبط نہ ہو سکا وہ پھوٹ پھوٹ کے روتا ہوا چلتا رہا۔ گھر کے قریب پہنچا تو بیٹی کو دلاسا دینے کے لیے الفاظ جمع کرنے لگا۔ رب نواز نے گھر کا دروازہ کھولا تو اس کی بیوی زاروقطار رو رہی تھی۔

رب نواز گھبرا کے اس کی طرف بھاگا۔

سکینہ؛ کیا ہوا تمہیں۔ سب ٹھیک تو ہے نا۔

سکینہ کی آواز ساتھ نہیں دے رہی تھی بمشکل رب نواز کو بتایا کہ ہماری رضیہ سکول سے ابھی تک گھر نہیں آئی۔ شام ہونے کو آگئی ہے ہر جگہ ڈھونڈ آئی ہوں۔ خُدا کے لیے مجھے میری بچی لا دو۔

رب نواز کے تو جیسے پاؤں تلے زمین ہی نکل گئی۔ سو طرح کے وسوسوں نے اُسے آن گھیرا۔ انہی قدموں سے وہ واپس لوٹا اور دیوانوں کی طرح ہر جگہ ڈھونڈا مگر بے سود۔

آخر کار تھانے کا رخ کیا۔ تمام روداد سنائی۔ خدا خدا کر کے رپورٹ درج ہوئی۔ وہ اپنے گھر چلا آیا۔ اپنی بیوی کو دلاسا دیا کہ ہماری رضیہ کو کچھ نہیں ہوگا میں تھانے میں رپورٹ درج کروا آیا ہوں صاحب بہادر ضرور ہماری بچی کو ڈھونڈ لائیں گے۔

جاگتی آنکھوں کے ساتھ رات گزری۔ سورج کی کرنوں کی سلامی سے پہلے رب نواز گھر سے رضیہ کو ڈھونڈنے نکل پڑا۔ آس پاس کے گاؤں بھی چھان مارے۔ تمام جاننے والوں کو مطلع کیا کہ اگر کسی کو رضیہ کی خبر لگے تو ہمیں بتا دے۔ رب نواز مایوس ہو کر گھر کی جانب چل پڑا۔ شام کے سائے پھر گھر کی دہلیزوں کو چھو رہے تھے۔ اسی اثناء میں چند پولیس کے جوان رب نواز کے گھر کی طرف آتے دکھائی دیے۔ رب نواز فوراً اُن کی طرف لپکا۔

حضور؛ میری بیٹی کا کچھ پتہ چلا۔ ہاں رب نواز مل گئی تمہاری بیٹی چلو ہماری ساتھ کچھ قانونی کارروائی کر کے لے آنا اپنی بیٹی کو۔ پولیس والا نظریں چُرا کر بولا۔ رب نواز نے دھول میں اٹی چادر سر پہ باندھی اور پولیس والوں کے پیچھے چل پڑا۔ اسے عجیب وحشت ہو رہی تھی۔ جیسے ہی تھانے پہنچا تو وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر گھبرا گیا۔ صاحب میری بچی ٹھیک تو ہے نا؛ رب نواز نے پولیس والے سے پوچھا۔

پولیس والے نے بنا جواب دیے لوگوں کو ہٹانا شروع کر دیا۔ سامنے چادر میں لپٹی خون سے لت پت لاش کو دیکھ کر رب نواز چکرا گیا۔

یہ ہے تمہاری بیٹی رب نواز، کسی نے اسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا ہے۔ ہماری تفتیش جاری ہے ملزمان جلد ہماری حراست میں ہوں گے۔ پولیس والے نے تسلی دیتے ہوئے رب نواز کو معاملے سے آگاہ کیا۔ رب نواز چپ چاپ کھڑا بچی کو دیکھتا رہا۔ قانونی کارروائی کے بعد لاش کو اُٹھا کے گھر روانہ ہو گیا۔ بیٹی کی لاش دیکھ کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ آس پڑوس کے لوگ سب جمع ہو گئے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی مگر رب نواز کو جیسے سکتا ہو گیا تھا۔ رب نواز کے ذہن میں بچی کے چہرے کا کرب تھا مر کے بھی اس کے چہرے پہ تکلیف عیاں تھی۔ زخم چیخ چیخ کے بتا رہے تھے کے کتنی بے دردی سے اسے قتل کیا گیا۔

مولا کیا قصور تھا میری بچی کا۔ اللہ اُن ظالموں کو کیوں رحم نہ آیا۔ مالک کتنا تڑپی ہو گی میری بچی۔ کس گھٹن میں اس کی جان نکلی ہو گی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ آخر تدفین کا وقت آیا۔ رب نواز قبر میں اترا ہاتھ سے چھوٹے چھوٹے کنکر پتھر ہٹائے اپنی بیٹی کا لاشہ قبر میں رکھتے ہوئے آخری دیدار کیا۔

رضیہ پُتر؛ جا رب دے خوالے۔ اس کا ایک آنسو گر کر کفن میں جذب ہو گیا۔ تدفین کے بعد سب چلے گئے مگر وہ بیٹھا قبر کو سہلاتا رہا۔ وقت گزرتا رہا۔ وہ ہر دو تین دن بعد تھانے جا کر ملزمان کے پکڑے جانے کا پوچھتا۔ مگر جواب ہمیشہ کی طرح تسلیاں۔ ایک دن دیہاڑی کے بعد اجرت ملتے ہی نہ جانے اس کے من میں کیا سمائی۔ ڈرائنگ کی کاپی کلر پینسل خرید کر سیدھا قبرستان چلا گیا۔ کچھ پھول خرید کر قبر پہ ڈالے اور قبر کے سرہانے بیٹھ گیا۔

دیکھ رضیہ بیٹے تیرا بابا تیرے لئے ڈرائنگ کی کاپی اور پینسل لے کے آیا ہے۔ تیرے بابا نے بہت کوشش کی مگر تیرے قاتل نہیں ملے۔ بیٹے تیرا بابا تیرا مقدمہ رب کی عدالت میں چھوڑ آیا ہے۔ لیکن رضیہ تو بھی رب کو کہنا کہ جس وقت بیٹی فرمائش کرے تو کسی بابل کی جیب خالی نہ ہو۔ بابل ہر آنے والے سانس کے ساتھ مرتا ہے۔

رب نواز اتنا رویا کے اس کی ہچکی بندھ گئی۔ مگر اپنا مقدمہ اللہ کے حوالے کر کے اسے اطمینان ضرور ہو گیا تھا۔ وہ کاپی اور کلر قبر پر رکھ کے گھر روانہ ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
منصور انجم کی دیگر تحریریں
منصور انجم کی دیگر تحریریں