بے صبری قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب وزیر اعظم پاکستان صاحب آپ نے بجا طورپر فرمایا کہ اس قوم میں صبر نہیں ہے۔ اور آپ یہ بیان دینے میں حق بجانب ہیں کہ آپ ایک غریب قوم کے حکمران ہیں اور سائیکل سے شر وع ہونے والا آپ کا سفر گھر سے دفتر تک کے ہی سفر میں ہیلی کاپٹر تک جا پہنچا ہے۔ اور اس سے پہلے بھی آپ کی ذاتی مصروفیات کے لئے دوستوں کے ذاتی جہاز اور دیگر جدید وسائل تک ہمہ وقت موجود رہتے تھے تو یہ بیان حالیہ معاشی پالیسیوں کے بدلے رستے ذخموں پر نمک چھڑکنے کے مترداف بھی نہیں ہو سکتا ہے۔

اور اس قوم کی بے صبری کا تو یہ عالم ہے۔ کہ اپنے ملک اپنی آزاد زندگی کا خواب ملتے ہی اپنی لاکھوں جانوں، عزتوں اور مال و اسباب کی قربانی دے کر اس سرزمین کی جانب کھنچے چلے آئے اور جب کشمیر کے ایک حصے پر بھارتی قبضے کی اطلاع ملنے پر بے صبرے پختون و قبائلی بھائی بناء حکومتی امداد کے اپنے ہتھیار لئے بھاگے چلے گئے پھر 65 ء اور 71 ء کی جنگوں میں بھی بے صبری دکھاتے ہوئے اپنا مال واسباب اور جانیں ملک پر وارنے کے لئے سرحدوں پر شانہ بشانہ لڑنے پہنچ گئے

اور بے صبری اتنی کے روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضروریات کا نعرہ لگانے والے ایک قلندر کے پیچھے سب بھول گئے جس کے بعد اپنے ساتھ مسلسل کھلواڑ ہوتے دیکھ کر بھی بے صبری سے قرض اتارو ملک سنوارو اور ڈیم بناؤ اپنے لئے ملک کے لئے دنوں میں کروڑوں روپے جمع کرا دیے جبکہ ابھی تو 72 سالوں میں ان کو پینے کا صاف پانی تک گھروں میں حکومت مہیا نہیں کر سکی لیکن 13 ماہ قبل پھر نئے پاکستان کے قیام کے لئے آپ کے پیچھے دوڑے چلے آئے اور ابھی تو معاشی پالیسیوں کی ابتدائی نتائج میں میڈیا اور دیگر انڈسٹری کے بند ہونے پر ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونا شروع ہوئے تو آپ نے اس قوم کی بے صبری کو دیکھتے ہوئے فوراً اپنے دست مبارک سے ان کے لئے لنگر خانوں کا افتتاح کر دیا ہے۔

جہاں پوری قوم آرام سے مفت کھانا کھا کر آپ کے حکم پر پہلے سے بنی پناہ گاہوں میں رہ بھی سکتے ہیں تو قوم کو تمام اخراجات سے بھی نجات مل گئی اور یوں لگتا ہے۔ کہ جیسے من و سلویٰ کا دور واپس آ گیا ہو لیکن یہ ٹھہری بے صبری قوم کہ 13 ماہ میں ہی ریاست مدینہ بنانے کے لئے بے صبری شاید اس لئے دکھا رہی ہے۔ کہ اس وقت انصار نے معاشی بحالی کے لئے اپنا تمام مال و متاع حوالے کر دیا اور اب حکومتی ایوانوں میں موجود انصار برادران چینی، گھی، آٹا اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء ہی مہنگی کیے جا رہے ہیں۔

جناب والا سے دست بستہ صرف یہ گزارش ہے۔ کہ اس بے صبری قوم کے مزید صبر کا امتحان نہیں لیں اور صرف ان کا صبر دیکھنے کے لئے ایک بار ریاست مدینہ کا سربراہ ہونے کے طورپر بھیس بدل کر ان کی دیواروں سے کان لگا کر تو سن لیں اس لئے نہایت ادب سے عرض ہے۔ کہ ان کو پناہ گاہیں، لنگرخانے، نقد امداد اور صحت کارڈ دینے کی بجائے موجودہ انڈسٹری کو بحال کرنے کے ساتھ نئی انڈسٹری لگا کر ان کو روزگار دیں اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھائیں پھر آپ کشمیر تو کیا افغانستان، فلسطین، عراق، برما، لبنان اور مصر سمیت کہیں بھی مظالم کا شکار مسلمانوں کی امداد کے لئے نکل کھڑے ہوں یہ قوم آپ کے ساتھ ہو گی ورنہ یہ بے صبری قوم روز آپ کو تنگ کرتی رہے گی کیونکہ یہ بھی بجا ہے۔ کہ غربت جب انقلاب نہیں لاتی تو جرائم کو جنم دیتی ہے۔ جس کا شکار بھی ان جیسے ہی ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
یوسف عابد کی دیگر تحریریں
یوسف عابد کی دیگر تحریریں