شعور معراجِ انسانیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ قبل از اسلام عرب میں جہالت عام تھی، کیونکہ اسلام ایک عربی مذہب کی حیثیت سے جانا جاتا ہے تو اس لیے عربوں کو ہی اکثر اوقات جاہل گردانا جاتا ہے۔ اگرچہ ایسا نہیں ہے بلکہ کرۂِ ارض پر ایسے خطے موجود ہیں جنہوں نے وحشیانہ زندگی کی طرف سے ترقی کی منازل کو عبور کیا۔ حضرت محمد ص کی آمد کے بعد مسلمان نبوت کے اختتام کو ہی سب کچھ سمجھ کر بیٹھ گئے یعنی صرف نماز و روزہ ہی کو زندگی کا مقصد جاننے لگے اور بدقسمتی سے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

ان میں سے چند مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ نبی ص کے آنے کا مقصد شعور کی طرف رغبت دلانا ہے ناکہ ہمارے آبا و اجداد کے مذاہب کو برا بھلا کہنا ہے اور نہ ہی غور و فکر کو خدا کے منافی سمجھنا ہے۔ ان میں الرازی، ابن الہیثم، جابر بن حیان، الکندی اور بہت سے جید علماء شامل ہیں (جن کو نئے خیالات و افکار کی بنیاد پر کافر، ملحد مرتد اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا گیا۔ ) اسی طرح اس سے قبل آنے والے انبیاؤں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا رہا اور بعضوں کو تو قتل بھی کر دیا گیا (وہ لوگ بھی نئے افکار ونظریات کے تغیر و تبدل سے ڈرتے تھے ) ۔

اس سے قبل ہم بہت سے مفکرین و فلسفیوں کا ذکر بھی کر سکتے ہیں جنہوں نے دنیا کے لوگوں کو ایسے نئے زاویوں کی طرف سوچنے پر مجبور کر دیا جن کے بارے پرانے وقتوں کا انسان کبھی غور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ دورِ قدیم کا وحشی انسان شعور کی ترقی کے بعد چاند پر قدم رکھنے، سورج کی گرمی کو علم کی بدولت ٹھنڈا کرنے کا فن اور بلیک ہول جیسی مافوق الفطرت طاقتوں سے ٹکرانے کا ہنر سیکھ لے گا۔ ان مفکرین میں سقراط، افلاطون، ارسطو، ارشمیدس اور بہت سے علماء جنہوں نے ریاضی، کیمیا اور فزکس کے پیچیدہ نقات کو آسان کرکے انسانیت کی راہیں ہموار کیں قابلِ ذکر ہیں۔

تو بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ آیا آج کے جدید مسلمان جن کی میراث میں عظیم طبی ماہرین، کیمیا دان اور طبیعیات دان تھے ان کو کیوں بھلا دیا گیا ہے؟ کیا آج کا مسلمان اسی جہالت کے دور کی عکاسی تو نہیں کر رہا کہ جس نے یہ سمجھ لیا ہو کے بس ہمارے آباؤ اجداد کے مذہب پر کوئی بات نہ کی جائے یا ہم رجعت پسند رہیں گے اور صرف نماز و روزہ اور جسمانی عبادات تک محدود رہیں گے یا جس شعور کے پھیلانے کے لئے قرآن جیسی کتاب ہو کہ جس میں بارہا یہ بات باور کرائی گئی ہو کہ غور و فکر کرو، تو کیا ہم اس کی طرف بھی رغبت حاصل کریں گے۔

تو یہاں نئے علماء کے آنے کا مطلب وہ صاحب فکر انسان ہیں جنہوں نے بنا کسی لالچ و ڈراوے کے صرف اور صرف انسانیت کے لیے راہیں ہموار کرنے کا عندیہ اٹھایا ہے۔ نہ کہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف یہ جان رکھا ہے کہ ہمارے آباؤ و اجداد کا مذہب ہی ہمارے لئے سب کچھ ہے اور ہمیں اس سے زیادہ نہ تو کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کائنات کے بدلتے حالات کے بارے فکر کرنے کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سہیل مظہر کی دیگر تحریریں
سہیل مظہر کی دیگر تحریریں