حکومت کی جبری تبدیلی ہوئی تو پرامن نہیں ہو گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاسی حالات دلچسپ ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں صرف دھرنوں اور جلسے جلوسوں سے حکومت نہیں جاتی۔ ہاں اگر ان دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے پیچھے کوئی بڑی طاقت ہو تو پھر دوسری بات ہوتی ہے، پھر جنرل ایوب، بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کی طاقتور حکومت بھی چلی جاتی ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ نصرت جاوید صاحب نے لکھا تھا کہ وہ بھٹو کے خلاف تحریک نظام مصطفٰی کا جی جان سے حصہ تھے۔ بھٹو حکومت کے رخصت ہونے کے کئی دہائیوں بعد انہیں پتہ چلا کہ عوامی دکھائی دینے والی تحریک نظام مصطفیٰ کسی کے اشارے پر تھی۔ یعنی اس کا ظاہر کچھ تھا اور باطن کچھ۔

اسی وجہ سے ہم نے مولانا کے دھرنے کو بھی تقریباً اتنا ہی سیریس لیا تھا جتنا عمران خان کے دھرنے کو۔ یعنی شغل میلہ اچھا لگ جائے گا اور کچھ مطالبات مانے جائیں گے، لیکن باقی سب یہی رہے گا۔

لیکن اب اس اعتماد میں کچھ کمی آ رہی ہے۔ مولانا کے دھرنے سے حکومت جس طرح حواس باختہ ہو رہی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ معاملہ کچھ سیریس ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومتی وزرا ہم عام لوگوں سے زیادہ باخبر ہیں۔ اگر انہیں کوئی خوف محسوس ہو رہا ہے تو اس کی وجہ صرف مولانا تو نہیں ہو سکتے۔

ہم وسی بابے جتنے باخبر اور مستعد نہیں کہ اصل بات کا سراغ لگانا شروع کر دیں اور کنسوئیاں لیتے پھریں۔ ہم تو ہمیشہ اس اصول پر چلتے ہیں کہ جب ہم تکا لگا سکتے ہیں تو تحقیق کیوں کریں؟ اسی اصول پر چلتے ہوئے ہم سمند خیال کو اڑاتے ہیں۔

موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ لگ رہا ہے کہ صاحبان اقتدار میں کسی نہ کسی لیول پر بڑی تبدیلی آئے گی۔ یہ بھی شبہ ہو رہا ہے کہ حکومت اصل نشانہ نہیں ہے بلکہ اس دھرنے کے ذریعے حکومت کے پرجوش حامیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سب حامی خوفزدہ ہوں گے۔ کچھ اتحادی ساتھ بھی چھوڑیں گے۔ کچھ کو ہٹایا جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ اسمبلی میں نمبر پورے کرنے بھی مشکل ہو جائیں۔ دباؤ بڑھانے کی خاطر اپوزیشن کچھ دنگا فساد بھی کر سکتی ہے۔ بدامنی ہو تو حکومت کمزور پڑتی ہے۔

فضا میں جو تناؤ کی کیفیت ہے اسے دیکھتے ہوئے وہم سا ہونے لگا ہے کہ اگر مولانا یا ان کے اتحادیوں نے حکومت گرانے کی ضد ہی باندھ لی تو یہ معاملہ پرامن نہیں رہے گا۔ صاحبان اقتدار حسنی مبارک کی طرح عرب بہار کے جھونکے سے نہیں جائیں گے بلکہ آخر تک اپنے بچاؤ کی جنگ کریں گے اور اس مقصد کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے اس تحریک کو طاقت سے کچلنے کا بھرپور امکان موجود ہے جس کے نتیجے میں حالات خراب ہوں گے۔ رب ہی خیر کرے کیونکہ ”ہٹلر بھی بہت ڈاہڈا (طاقتور) ہے اور ہمارا سردار بھی غصے کا بہت تیز ہے“۔

خیر ہم یہ بتا چکے ہیں کہ یہ سب تکے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری خام خیالی اسی امریکی سرکاری افسر جیسی ہو جو ایک ریڈ انڈین سردار کی بے چینی دیکھ دیکھ کر خود بھی بے چین ہوا جاتا تھا۔

روایت ہے کہ ریڈ انڈینز کے اپاچی قبیلے کا بزرگ سردار انتقال فرما گیا تو جدید یونیورسٹی کے پڑھے ایک نوجوان نے دیگر نوجوانوں کو ساتھ ملا کر سرداری پر قبضہ کر لیا۔ چند ماہ بعد خزاں کا موسم آیا تو قبیلے والے اس کے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ سردار اگلی سردیاں عام سردیوں جیسی ہوں گی یا زیادہ برف پڑے گی؟

اب اس نوجوان کے پاس قدیم بزرگوں کی دانش تو تھی نہیں جو زمین آسمان دیکھ کر بتا سکتے تھے کہ کیسا موسم آنے والا ہے۔ وہ تو شہر کی یونیورسٹی سے پڑھ کر آیا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر کہہ دیا کہ عام سی سردی ہو گی اور زیادہ برف پڑ گئی تو قبیلہ مارا جائے گا۔ اس لئے اس نے ازراہ احتیاط کہہ دیا کہ کچھ سخت سردی ہو گی، لکڑیاں جمع کر لو۔ قبیلے کے جوان لکڑیاں اکٹھی کرنے میں جٹ گئے۔

ہفتہ بھر سردار بے چین رہا۔ قبیلے کی زندگی کا دار و مدار اس کے فیصلے پر تھا اور وہ تکا لگا کر فیصلہ کر چکا تھا۔ لیکن وہ یونیورسٹی کا اتنا زیادہ پڑھا لکھا تھا کہ بالکل امریکی لہجے میں انگریزی بول سکتا تھ، اسے جدید علوم کا خیال آ گیا۔ اس نے مقامی محکمہ موسمیات کو گمنام فون کر کے پوچھ لیا کہ ”موسم سرما کتنا سخت ہو گا؟ “ محکمہ موسمیات کے افسر نے جواب دیا ”بہت ٹھنڈ پڑے گی“۔

اپاچی سردار نے اپنے جوانوں کو مزید لکڑیاں اکٹھی کرنے پر لگا دیا۔ اگلے ہفتے اس نے پھر محکمہ موسمیات کو فون کر کے پوچھا ”یہ سرما کتنا سخت ہو گا؟ “ محکمہ موسمیات کے افسر نے جواب دیا ”ہمارے گزشتہ اندازے سے کہیں زیادہ سردی ہو گی۔ ہر چیز جم کر رہ جائے گی“۔

نوجوان سردار نے اپنے قبیلے والوں کو مزید لکڑیاں اکٹھی کرنے پر لگا دیا اور کہا کہ لکڑی کا جو چھوٹا بڑا ٹکڑا ملے، لے آؤ۔ ہفتے بھر بعد اس نے پھر محکمہ موسمیات کو فون کیا اور پوچھا ”کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ بہت سخت موسم سرما ہو گا؟ “ محکمے کے افسر نے جواب دیا ”یہ معلوم تاریخ کا سرد ترین موسم سرما ہو گا۔ سارے اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے“۔

سردار گھبرا گیا۔ اب تو مزید لکڑیاں بھی باقی نہیں بچی تھیں جو وہ کٹوا سکتا۔ اس نے ڈوبی ہوئی آواز میں پوچھا ”تم اتنے پریقین کیسے ہو کہ سردی اتنی زیادہ سخت ہو گی؟ “
محکمہ موسمیات کے افسر نے جواب دیا ”ہمیں یقین ہے کہ موسم بہت زیادہ سرد ہو گا کیونکہ اپاچی قبیلہ پاگلوں کی طرح لکڑی جمع کر رہا ہے اور اس کی پیش گوئی کبھی غلط نہیں نکلی۔ “

تو صاحبو، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے ہیں اور ہم بھی ارد گرد کے حالات دیکھ کر پیش گوئی کیا کرتے ہیں۔ اس لئے مولانا کی حرکات اور وزرا کا ہراس دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ حکومت کی تبدیلی ہوئی تو پرامن نہیں ہو گی کیونکہ وزرا کا ایسا ہراس کبھی غلط نہیں نکلا۔ اس لئے بہتر ہے کہ حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی بجائے حالات کو نارمل کرنے کے لئے کچھ سوچ بچار اور سودے بازی کر لی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1202 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar