خان صاحب کے بیانات پر اب ہنسی نہیں آتی، ڈر لگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تبدیلی سرکار کو ایک سال سے کچھ اوپر ہو گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران آنے والی تبدیلیوں پر بحث جاری ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ جس کا انتظار تھا وہ سحر ابھی نہیں آئی جس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ اینکران کرام اور تجزیہ کاران عظّام کا ایک گروہ جو کبھی خان صاحب کا دم بھرتا تھا اب آہیں بھرتا ہے۔

راقم اپنا شمار چونکہ ان لوگوں میں کرتا ہے جنہیں جنّت کی حقیقت معلوم ہونے کا دعوٰی ہے اس لئے راقم کی مایوسی صرف اس حد تک ہے کہ خان صاحب نے اپنی اس تقریر کی لاج رکھتے ہوئے، جس وہ گذشتہ چند برسوں سے ہر موقع پر (اور بعض اوقات بے موقع) کرتے رہے ہیں، اپنے اقتدار کے پہلے برس میں کوئی ایک قدم بھی ایسا نہیں اٹھایا جس پر انقلابی ہونے کی تہمت لگائی جا سکے۔ تاہم یہ راقم کی رائے ہے، خان صاحب کے مداحوں کی رائے یقیناً مختلف ہے۔

خاکسار اگر کسی چائے کی محفل میں خان صاحب کے مداحین میں گھر جائے تو سیاسی بحث سے گریز کرتا ہے کہ ایسی بحث کا لامحالہ نتیجہ خاکسار کی چائے ٹھنڈی ہونے کی صورت میں نکلتا ہے اور خاکسار عمر کے جس حصّہ میں ہے اس میں گرما گرم چائے گرما گرم بحث سے کہیں زیادہ لطف دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک راقم کبھی کبھی ریکارڈ کی درستگی کے لئے ایک آدھ جملہ جڑ دیتا تھا۔ مثلاً جب میاں صاحب کی نا اہلی پر یہ غلغلہ اٹھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی طاقتور کو سزا ہوئی ہے تو یہ یاد کرانا پڑا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک طاقتور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی گزرے ہیں جنہیں قانون میں موجود سخت ترین سزا کو بھگتنا پڑا۔

جب اس بات کا ڈھول پیٹا گیا کہ خان صاحب پہلے وزیر اعظم ہیں جن کی ذات اقدس پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تو ایک بار پھر بھٹو صاحب کے ساتھ ساتھ جونیجو صاحب کی بھی یاد دلانا پڑی۔ ذاتی کرپشن تو الگ، ان اصحاب کو اے ٹی ایم مشین کا کردار ادا کرنے والے ساتھیوں پر انحصار کرنے کا الزام بھی نہیں سہنا پڑا۔ تاہم اب راقم اس سے بھی پرہیز کرتا ہے کہ جہاں بات سے پھر جانے کو منافقت کی بجائے قائدانہ عظمت کی نشانی تسلیم کر لیا جائے وہاں ریکارڈ درستگی کی کوشش بے معنی سے لگتی ہے۔

پچھلے دنوں اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر پر جب ڈونگرے برسائے گئے تو راقم سر جھکائے چائے کی چسکیاں لیتا رہا۔ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کا تردّد نہیں کیا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں کشمیر بزور تقریر آزاد کروانے کا کارنامہ بھٹو صاحب بھی انجام دے چکے ہیں۔ کشمیر پر بھارتی عزائم اور مقبوضہ وادی کے باسیوں کے حالات میں تبدیلی نہ اس معرکتہ الآرا خطاب سے آئی تھی نہ اس شاندار تقریر سے آنے کا اندیشہ ہے۔

تاہم راقم کو اس بات کا اعتراف ہے کہ پہلے راقم کو خان صاحب کے جن بیانات پر ہنسی سی آتی تھی اب اس قسم کے بیانات پر فکرمندی سی ہونے لگی ہے۔

خان صاحب کی طرز فکر سے پریشانی کی وجہ چین میں ان کا تازہ ترین بیان ہے جس میں انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کے پاس مجرموں کے خلاف تیر رفتار کارروائی کا اختیار نہیں۔ خان صاحب کے تگڑے سیاسی حریفوں کے بڑی تعداد پابند سلاسل ہے، اس کے باوجود خان صاحب کا ان کو فی الفور سزائیں نہ ملنے پر افسوس راقم کے نزدیک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یا تو تاریخ و جغرافیہ کی طرح خان صاحب قانون و انصاف کے تقاضوں سے بھی نابلد ہیں یا اپنے حریفوں نے نبٹنے کے لئے ان تقاضوں کو روندنے پر آمادہ ہیں۔

خان صاحب کے بیانات کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ ان کے نزدیک سب سے بڑا جرم مالی کرپشن ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب اس کا ارتکاب ان کے حریف کریں۔ خان صاحب اس بات پر بضد ہیں کہ ان کے جن حریفوں پر کرپشن کے الزامات ہیں انہیں اسمبلی میں آ کر حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں البتّہ جن کارباری حضرات پر اسی قسم کے الزامات ہیں وہ اگر خان صاحب کی حکومت کے خلاف شکایات لے کر فوج کے سربراہ کے پاس جانا چاہیں تو خان صاحب کو یا تو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں یا اس کو روکنے کا اختیار نہیں کہ ان کے وزراء فوجی سربراہ کے دائیں بائیں بیٹھ کر گھنٹوں حکومتی پالیسیوں پر تنقید سنیں۔

خان صاحب اور ہمارے میڈیا کا ایک حصہ نہ جانے اس بات پر کیوں مصر ہے کہ کرپشن میں کمی کا واحد حل فوری اور سخت سزائیں دینا ہے۔ اگر اس منطق اور اس سلسلے میں دی گئی چین کی مثال کو درست مان لیا جائے تو اب تک چین میں کرپشن کا نام و نشان تک نہ ہوتا لیکن ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کی 2018 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کرپشن کا تاثر رکھنے والے ممالک میں چین ایک سو اسّی میں سے ستّاسیویں نمبر پر ہے۔ اس اعشاریہ کے مطابق 2018 میں چین کا سکور وہی تھا جو 2012 میں تھا۔ خان صاحب اور ان کے ہمنواؤں کے بقول کرپشن مقدمات کے دنوں میں فیصلے اور سزائے موت تک سنا دینے کے باوجود گذشتہ چھ برس میں، جب سے چین کے موجودہ قیادت اقتدار میں ہے، چین میں کرپشن میں کوئی کمی نہیں آئی۔

ایک سال میں نظام عدل کو درست کرنا ممکن نہیں لیکن خان صاحب اگر اس باب میں واقعی سنجیدہ ہوتے اور مقصد محض مخالفین کی سرکوبی نہ ہوتا تو اس پہلے سال میں ان کے پاس اس معاملے میں پیشقدمی کرنے کے ایک سے زائد مواقع تھے۔ سانحہ ساہیوال ایک مثال ہے۔ فوری انصاف کے داعی ہمارے وزیر اعظم نے واقعہ کے تین ماہ بعد مارے جانے والوں کے لواحقین کو لاہور میں پنجاب کے وزیراعلی کے گھر پر شرف ملاقات بخشا، تین کروڑ روپے عطا کیے اور اپنے تئیں اپنی ذمّہ داری سے سبکدوش ہو گئے۔

دس ماہ گزرنے کے بعد بھی اس واقعہ کے کسی ذمہ دار کو قانون کی گرفت میں نہیں لایا جا سکا۔ پرانے پاکستان میں بھی ایسا ہی ہونا تھا۔ فرق صرف اتنا ہوتا کہ لواحقین کو تین کروڑ روپے تین ماہ کی بجائے ایک ہفتے میں شہباز شریف خود جا کر دے آتے۔ ذمّہ داروں کے خلاف معطلی سے زیادہ کارروائی نہ شہباز شریف نے کرنا تھی نہ خان صاحب اب تک اس کا حوصلہ کر پائے ہیں۔

پچھلے دنوں سپریم کورٹ نے اٹھارہ سال تک قید رہنے والے وجیہ الحسن کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بہا الدین ذکریا یونیورسٹی کے جنید حفیظ نامی ایک لیکچرار کے لئے آواز اٹھائی ہے جو پچھلے پانچ سال سے قید تنہائی میں ہے، باوجود اس کے کہ اس کو کسی عدالت نے ابھی تک سزا نہیں سنائی۔ لیکن ہمارے نظام انصاف کی سست روی سے شاکی وزیر اعظم کی ترجیح نواز شریف اور آصف زرداری کو جیل میں ائرکنڈیشن کی فراہمی کو روکنا ہے نہ کہ سالہا سال سے جیل میں بند ممکنہ طور پر بیگناہوں کی داد رسی کرنا۔

خان صاحب کی کابینہ کے ایک رکن فیصل واوڈا نے کچھ عرصہ پہلے میں فرمایا تھا کہ اگر پانچ ہزار افراد کو لٹکا دیا جائے تو پاکستان کے مسائل راتوں رات حل ہو جاہیں گے۔ یار لوگوں نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی کہ موصوف کی شہرت ہی انٹ شنٹ کہنے کی ہے۔ تاہم راقم کو اب شک ہونے لگا ہے کہ اس قسم کی خطرناک حد تک غیر سنجیدہ سوچ محض واوڈا صاحب جیسے ناپختہ کاروں تک محدود نہیں۔

گذشتہ انتخابات کی شفافیت کی بحث سے قطع نظر خان صاحب کی عوامی مقبولیت مسلّمہ ہے۔ خان صاحب کے حامیوں کی بڑی تعداد ’مستند ہے ان کا فرمایا ہوا‘ کی قائل ہے۔ جب ایسے مقبول لیڈر کی ترجیحات میں سیاسی مخالفین کو پابند سلاسل کرنا اور میڈیا پر تنقیدی آوازوں کو دبانا ہو تو پاکستان کا ریاست مدینہ دوئم کی بجائے سیسی کا مصر یا اردوگان کا ترکی بننے کے امکان زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں خاکسار کو خان صاحب کے بیانات پر ہنسی کی بجائے فکر مندی آ گھیرے تو اس میں کیا تعجّب ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •