شعور اور وجود: مظہریت پسندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی شعور کیا ہے؟ اس کی بنیادی ساخت کیا ہے؟ اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ یہ کچھ ایسے دشوار سوالات ہیں جن کا جواب ہر عظیم مفکر نے دینے کی کوشش کی ہے۔ کبھی شعور یا ذہن کو اصل حقیقت مان کر مادے کو اس کا ایک مظہر قرار دیا گیا ہے تو کبھی مادے کو اصل مان کر شعور کو اس کا ایک مظہر قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ صدی کے دوران سائنسی آلات کی ترقی اور عمومی طور پر تمام علم کو سائنسی فلسفے میں ڈھالنے کا کام تیزی سے ہوا ہے۔

لہذا سماج، معیشت، سیاست اور تاریخ کی طرح شعور کو بھی اسی پیمانے سے سمجھنے کی کوشش ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم نام ایڈمنڈ ہسرل (Edmund Husserl) کا ہے۔ جس کو مظہریت پسندی (Phenomenology) نامی فلسفے یا تحریک کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے اس مضمون کے ذیل میں اس تحریک کے بنیادی خیالات کو دیکھا گیا ہے۔

ایک شے جس کے بارے میں ہم مطلق طور پر یقین رکھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم جان رہے ہیں یعنی باشعور ہیں۔ لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ ہم باشعور ہیں تو یہ لازم ہوگا کہ ہم کسی شے کے بارے میں شعور رکھتے ہیں۔ یعنی شعور ہمیشہ کسی شے کا شعور ہوتا ہے۔ ہم کبھی بھی شعوری کیفیت اور شعورکے معروض کے مابین فرق نہیں رکھ پاتے۔ یعنی یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ جن اشیاء کا شعور ہو رہا ہے ان کا وجود ہمارے شعور سے آزاد بھی قائم ہے یا کہ یہ صرف ہماری شعوری کیفیات ہیں۔

ایڈمنڈ ہسرل کے مطابق جن اشیاء کو شعور جان رہا ہوتا ہے ان کا وجود شعور سے آزاد بھی قائم ہوتا ہے۔ اور ان کی دیگر حیثیتوں کے علاوہ ان کی یہ حیثیت کافی ہے کہ یہ شعور کے لیے اشیاء کا کام کرتی ہیں۔ اشیاء کا شعور سے بلاواسطہ ربط انہیں ایک الگ موضوع کی حیثیت عطا کرتا ہے کہ جس پر تحقیق و تفکر ہو سکتا ہے۔ اس مکتبہ فکر کو فینامینالوجی یا مظہریت پسندی کا نام دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں شعوری اشیاء سے مراد تمام مادی، ریاضیاتی و جذباتی یعنی مجرد و نیم مجرد اشیاء شامل ہیں۔ ایڈمنڈ ہسرل کے اس مکتبہ فکر نے وجودیت نامی تحریک کو مغرب میں پروان چڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس تحریک کے دو اہم اور بڑے نام مارٹن ہائیڈگر (Martin Heidegger) اور ژاں پال سارتر (Jean Paul Sartre) ہیں۔ اس کے علاوہ موریس مورلے پونٹی (Maurice Merleau Ponty) کا نام بھی قابل ذکر ہے۔

ایڈمنڈ ہسرل کا تعلق فلسفے کی اس شاخ سے ہے جسے کارتیسی روایت (Cartesian) کہا جاتا ہے۔ رینے ڈیکارٹ نے شعور اور مادے کی دوئی کی بنیاد پر جدید سائنس کے لیے میکانکیت کے فلسفے کو جنم دیا اور اس کے ساتھ ہی انسانی روح یا شعور سے متعلق دلائل مہیا کرتے ہوئے اسے مادے سے آزاد وجود بخشا۔ لیکن مغربی فلسفہ مادے اور شعور کی اس دوئی کے عمل میں باہمی تعلق کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد مہیا نہ کر سکا۔ کبھی مادے کو حتمی مان کر شعور کی آزاد حیثیت کو ختم کیا گیا تو کبھی شعور کو مطلق مان کر مادے کو اس کا مطیع کر دیا گیا۔

شعور اور مادے کی یہ بحث اب مغربی فلسفے کی تاریخ میں اپنی اہم جگہ بنا چکی ہے اور اسے کسی بھی تاریخ فلسفہ کی کتاب میں پڑھا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہی وہ روایت ہے کہ جس میں ایک اہم پیش رفت ایڈمنڈ ہسرل کی مظہریت پسندی کی صورت میں نظر آئی۔ ہسرل کا نام بڑے فلسفیوں جیسے افلاطون و ارسطو، کانٹ و ہیگل، مارکس و کیرکیگارڈ وغیرہ کے ہم منصب ہے۔

ہسرل کے مطابق انسانی شعور ہمیشہ کسی نہ کسی شے کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ جیسے اس وقت آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہیں تو آپ کا شعور اس کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اب یہ رابطہ کسی بھی شکل میں ہو۔ آپ میری بات سے اختلاف کر رہے ہیں یا اتفاق اور یا پھر آپ شاید کسی اور سوچ میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ آپ جذباتی ہو رہے ہیں۔ یا شاید متفکر۔ میرے مطابق آپ شاید بور بھی ہورہے ہوں گے۔ بہرحال الفاظ ایک روشنی کے مانند آپ کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے ذہن پر اپنا اثر ڈال رہے ہیں اور یوں کسی نہ کسی شکل میں آپ کا ذہن اس شے کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ایسے ہی ہر لمحہ ذہن مختلف اشیاء کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ یہ رابطہ ذہن یا شعور کو باہر کی دنیا سے جوڑے رکھتا ہے اور یوں شعور ہمیشہ کسی نہ کسی شے کا شعور بن کر عمل کرتا ہے۔ اس رابطے کو مظہریت پسند ”ارادیت“ (Intentionality) کا نام دیتے ہیں۔ یہاں ارادیت سے مراد ہماری مرضی نہیں بلکہ ذہن کا دوسری اشیاء کے ساتھ یہ ربط ہے۔ یہ ارادیت ہمارے شعور کا ایک مطلق جزو ہے۔ مثال کے طور پر ہم اس بات پر تو شک کر سکتے ہیں کہ ہم اس وقت جس شے کو دیکھ رہے ہیں وہ ایک کرسی ہے یا نہیں ہے۔

لیکن یہ کہ میرا ذہن کرسی نامی شے کے ساتھ ربط میں ہے اس پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔ ایک جگہ ہسرل نے مثال دی ہے کہ ایک ماہر بڑھئی کو دیکھو۔ جب وہ کسی لکڑی میں کیل لگانے کے لیے ہتھوڑا چلا رہا ہوتا ہے تو اس کا ذہن لازمی نہیں کہ ہتھوڑے کی ہر چوٹ کے ساتھ ربط قائم کرے۔ بلکہ اگر وہ ایک ماہر ترین بڑھئی ہے تو اس کے ذہن میں شاید ہتھوڑے کا خیال تک نہ ہو اور وہ ہتھوڑا چلاتے وقت اپنے دیگر معاملات پر سوچ بچار کر رہا ہو۔ اس صورت میں ہم نہیں کہہ سکتے کہ بڑھئی ایک ”ذہن“ ہے جو ہتھوڑے نام کی ”شے“ پر عمل کر رہا ہے۔ گویا کارتیسی روایت کے برخلاف یہاں شعور یا دھیان بھی اس عمل میں حصہ دار ہے اور ذہن کی ارادیت اس شعور یا دھیان کو ہتھوڑے کی بجائے کسی اور شے سے منسلک کیے ہوئے ہے۔ اس عمل کے دوران ہتھوڑا شامل نہیں ہے۔

گویا ہسرل نے ایک ایسی مطلق بنیاد دریافت کی ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ اپنا فلسفہ تشکیل دے سکتا ہے۔ گویا منظر میں ناظر اور نظر کی وحدت قائم ہوجاتی ہے اور جب تک یہ وحدت قائم رہے وقت ایک طرح سے ساکن رہتا ہے۔ یوں کسی شے کا علم حاصل کرنے کے لیے شعور کو اپنی خالص حالت میں اشیاء کے ساتھ ربط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ شعور کی خالص حالت سے مراد یہ ہے کہ ہم کسی پہلے سے طے شدہ قانون، عقیدے یا فکر سے آزادانہ اشیاء کے ساتھ ایسے رابطہ قائم کریں جیسے کہ ایک نومولود بچہ اس دنیا کا مشاہدہ کر تا ہے۔ گویا فطرت کو اس کی اصل حالت میں دیکھا جائے تاکہ اشیاء اپنا اظہار ویسا ہی کریں جیسی کہ وہ دراصل ہیں۔

مارٹن ہائیڈگر کے مطابق انسانی شعورصرف اپنی مشاہدہ کردہ اشیاء سے آزاد ہو کر ان اشیاء پر عمل نہیں کرتا بلکہ وہ ان اشیاء ہی کی طرح اس سارے عمل کا حصہ ہے جسے ہم مظہر کا نام دیتے ہیں۔ کیونکہ شعور بذات خود اسی جہاں کا حصہ ہے جس میں دیگر اشیاء موجود ہیں۔ گویا شعور کا عمل وجود کے ساتھ چلتا ہے نہ کہ اس سے آزاد۔ مثال کے طور پر اگر بڑھئی کا ہتھوڑا کیل پر ٹھیک سے جا کر نہ لگے تو اس کا ذہن اس عمل میں ملوث ہوجائے گا اور وہ اپنی گزشتہ سوچ سے ہٹ جائے گا اور اس طرح ذہن کا ربط ایک سے دوسری شے میں منتقل ہوجائے گا۔

یعنی اب ہتھوڑا بھی اس عمل کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ تبدیلی نہ ہو اور ہتھوڑا برابر رفتار سے چلتا رہے لیکن ہم مسلسل اس کی جانب دیکھ رہے ہوں۔ ہمارے ذہن میں ہتھوڑے کا لفظ یا خیال آئے نہ آئے لیکن ایک لکڑی جس پر لوہا جڑا ہوا ہے وہ ہمارے ذہن میں اپنی تصویر جمائے رکھے گا۔ یہ بھی ایک طرح سے ہتھوڑے کی مظہر میں مداخلت ہوگی۔ ہائیڈیگر کے مطابق دنیا ایسی شے نہیں کہ جسے میرا ذہن دریافت کرتا ہے بلکہ میرا ذہن خود اس دنیا کا حصہ ہے۔

لہذا ہائیڈگر کے نزدیک بنیادی شے ”ارادیت“ نہیں بلکہ ”وجود“ ہے جس کی وجہ سے ارادیت عمل میں آتی ہے۔ یعنی وجود بنیادی اور مطلق شے ہے جس کے اندر ایک ذہن اپنے اردگرد کی اشیاء سے ربط میں آتا ہے۔ لیکن یہاں وجود سے مراد کوئی بنی بنائی شے نہیں ہے بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یعنی انسان ایک شے نہیں بلکہ وجود ہے جو کہ ایک عمل کی صورت میں قائم ہوتا ہے۔ یعنی ہتھوڑا چلانے کے عمل نے بڑھئی بنایا ہے۔ بڑھئی کا وجود ہتھوڑا چلانے کے عمل کے ساتھ قائم ہے۔ اور ہتھوڑا چلانے کا عمل اپنے دیگر لوازمات یعنی لکڑی، کیل، میز کرسی وغیرہ کی وجہ سے دنیا سے منسلک ہے۔ یہ دنیا اس سارے عمل میں شامل ہے جس کی وجہ سے بڑھئی کا وجود بن رہا ہے۔ بہرحال انسان بیک وقت ایک مسلسل عمل کر رہا ہے اور خود بھی اسی عمل کا حاصل ہے۔

وجود کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ ہر لمحہ کسی نہ کسی صورت احوال میں ملوث رہتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وجود ان اشیاء سے قائم ہے کہ جو موثر ہیں یعنی ان اشیاء میں اثر کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس لیے وجود ہمیشہ کسی نہ کسی حال میں رہتا ہے۔ ہم کبھی بھی مطلق خلا میں نہیں ہوتے۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ وجود میں ایک طرح کا نظام یا ترتیب یا معنویت بھی پائی جاتی ہے۔ ہم ہر شے کو اس کی معنویت میں رکھ کر سمجھتے ہیں اور پھر خود بھی اس کو معنویت عطا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

جیسے کہ ہتھوڑا اپنے اندر ایک معنویت رکھتا ہے کہ اسے کیل لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ہم چاہیں تو اس سے دیگر کام لے کر اسے ایک نئی معنویت عطا کر سکتے ہیں۔ تیسری جہت یہ ہے کہ وجود ہمیشہ مستقبل کی طرف متوجہ ہے۔ اور یہ تیسری جہت وجود کو زماں کے ساتھ منسلک کرتی ہے۔ یعنی وجود کا سارا عمل ایک لمحے سے دوسرے لمحے یا ایک وجودی حالت سے دوسری وجودی حالت میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ گویا وجود زمانے ہی کی ایک مجسم شکل ہے۔

جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے یا جو کچھ بھی ہمارے شعور میں ہے سب کا سب زمانے کی پیداوار ہے۔ ایک فرد دراصل ایک وجود ہے اور وجود ایک عمل ہے۔ یعنی فرد کے اعمال فرد کا وجود قائم کرتے ہیں اور ہر فرد اپنے اعمال کے انتخاب میں آزاد ہے۔ یہ وہ تصور ہے جو بعد میں ژاں پال سارتر کے ہاں زیادہ واضح شکل میں وجودی فلسفہ (Existentialism) کہلایا۔

ہسرل نے شعور کو ایک باقاعدہ سائنسی موضوع کے طور پر متعارف کروانے کی جو کوشش کی تھی، ہائیڈگر نے اس پر کڑی تنقید کی اور یہ کہا کہ سائنس خود ایک ثانوی حیثیت کی شے ہے جب کہ وجود اصل اور بنیادی ہے۔ فلسفہ، سائنس سے زیادہ بنیادی ہے کیونکہ یہ وجود کے مختلف مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔ دوسرے الفاظ میں سائنس وجود کو جاننے کے مختلف طریقوں میں سے ایک ہے کہ جس میں شعور خود کو مادے سے آزاد کرتے ہوئے مادی مظاہر کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کے قوانین دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

سائنسی طریقہ کار میں ایک انتہائی بنیادی اصول یہ ہے کہ فطرت انسانی ذہن سے آزاد وجود رکھتی ہے اور اس کے قوانین میں انسانی شعور سے تبدیلی نہیں آتی۔ ایسا تبھی ممکن ہے کہ اگر شعور کو مادے سے الگ رکھا جائے لیکن دراصل یہ دونوں ایک ہی اصل یعنی وجود کے دو مظاہر ہیں۔ لہذا ہسرل کی مظہریت پسندی کسی قسم کی سائنس نہیں بلکہ ایک طرح کی وجودی مابعدالطبیعات ہے۔ یاد رہے ایسے ہی کچھ مباحث جدید طبیعات خصوصی طور پر کوانٹم فزکس میں بھی پائے جاتے ہیں جہاں ایک مبصر جو کہ کسی عمل کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے، خود بھی ا س عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔

اصطلاح میں اسے ویوفنکشن کولیپس (Wavefuntion Collapse) کہتے ہیں۔ یعنی تجربے یا مشاہدے کے دوران ایک ناظر اپنے آلات کی مدد سے حقیقت کو ایک خاص جہت میں لے جاتا ہے۔ اب چونکہ ناظر جب بھی مشاہدہ کرے گا تو آلات کی مدد ہی سے کرے گا لہذا وہ جتنی بھی حقیقت کا مشاہدہ کرے گا وہ حقیقت خود اس کے آلات کے معیار کے مطابق ہوگی۔ گویا حقیقت کا مطلق معروضی مشاہدہ ناممکن ہے۔ معروض اور موضوع کی وحدت سے ہی حقیقت کا ادراک ممکن ہے یا یوں کہیے کہ حقیقت اتنی ہی قابل فہم ہے جتنا معروض و موضوع میں اتحاد ہو گا۔

ہائیڈگر کے یہاں موت اور گناہ وہ اشیاء ہیں جو وجود میں پریشانی اور یاسیت کے جذبات کو ابھارتی ہیں۔ اس لایعنی دنیا میں کسی عمل کا کوئی حتمی یا مطلق معنی نہیں ہے۔ ہم جو بھی کر رہے ہیں وہ کسی گہری رمز یا آفاقی مقصد کے بغیر کر رہے ہیں۔ تو کیا ایسی صورت احوال میں ہم بلاوجہ زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا یہ زندگی اور وجود ایک کرب ہے یا ایک مجبوری کہ جس سے ہم باہر نہیں نکل سکتے؟ اگر ہم اپنے انتخاب میں آزاد ہیں تو کیوں نہ زندگی کو ختم کر لیا جائے؟

ہائیڈگر کے مطابق وجود کو ہر لمحہ تازہ رہنا چاہیے۔ وہ دنیا کی اشیاء سے نت نئے رابطے قائم کرے اور یہ جانتے ہوئے جیتا رہے کہ جینے کا کوئی گہرا یا حتمی مقصد نہیں ہے۔ وہ خود کو موت کی طرف نہ لے جائے کیونکہ مر جانے سے بھی اس کو کسی حتمی مقصد کا سامنا نہیں ہوگا۔ لہذا یہاں مرنا اور جینا برابر ہے تو کیوں نہ دنیا کی اشیاء سے جس قدر ممکن ہو زندگی کا لطف و تازگی نچوڑ لی جائے۔

بہرحال مظہریت پسندی کا فلسفہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ انسانی زندگی کی ہر کیفیت اور عہد کو سموئے ہوئے ہے۔ ایک سائنسدان جو اپنے ٹھوس ریاضیاتی دلائل سے مادی مظاہر فطرت کا مطالعہ کرتا ہے یا ایک شاعر و ادیب جو تجربے کی کلیت کا اظہار اپنے فن میں کر رہا ہوتا ہے اور یا پھر ایک نقاد، دانشور یا فلسفی جو منطق اور زبان کے آلات سے کسی مظہر پر تبصرہ کر رہا ہوتا ہے سب کے سب مظہریت پسندی کے فلسفے کے تحت لائے جا سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ صدی کے وسط میں مظہریت پسندی کو جمیع علوم کی بنیاد سمجھا جانے لگا تھا۔ اردو ادب میں اگرچہ اس پر بہت کم کام ہوا ہے لیکن اگر احباب چاہیں تو اسے ایک فریم ورک کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ادب کی ایک نئی تشریح کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد علی شہباز کی دیگر تحریریں
محمد علی شہباز کی دیگر تحریریں