نئی تازی خبریں اور حکومت کی پریشانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمن ایک طوفان خیز دھرنے سے چاروں جانب جس ہلچل اور سیلاب بلا خیزی کا طوفان اُٹھائے ہوئے ہیں اس کے بطن سے کم ازکم عمران خان اور اس کی حکومت کی رخصتی ہرگز بر آمد نہیں ہوگی۔ بے شک دھرنا ہوگا اور مولانا اس کے ذریعے ”اپنی طاقت“ کا پیغام مطلوبہ منطقوں تک پہنچانے کی بھرپور کوشش بھی کریں گے لیکن ”مطلوبہ منطقے“ بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔

اس لئے وہ بھی مولانا کی ”مذہبی طاقت“ کی خوفناک تصویر اپنے ”مطلوبہ منطقوں“ کو پہنچا دیں گے، یعنی مذہبی مدارس سے نکلتا جم غفیر اصل میں ”پیغام رسانی کا ایک سلسلہ“ ہوگا جس سے ہر کوئی بقدر استطاعت اپنا اپنا فائدہ اٹھا ئے گا حتی کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی بھی اور چونکہ نقصان کسی کا نہیں ہو رہا ہے اس لئے دھرنے کو روکنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ مولانا بھی شاید عمران خان کی حکومت گرانے میں اتنی دلچسپی نہیں لیتے جتنا یہ پیغام دینے میں کہ عمران خان کو مجھ ہر فوقیت دینے اور مجھے دیوار سے لگانے یا سیاسی طور پر نظر انداز کرنے کی روش سے اجتناب برتا جائے خصوصًا کے پی کے اور بلوچستان کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں۔

گویا وہ تنبیہ (یا درخواست ) کی شکل میں اگلے سیاسی منظر نامے میں اپنے لئے کردار اور فوقیت کی تلاش میں ہیں لیکن دھرنے کا ایک اور رُخ بھی ہوگا اور وہ یہ کہ مولانا کے ہزاروں بلکہ ان کے بقول لاکھوں مذہبی پیروکار اسلام آباد کی سڑکوں پر اپنے مخصوص حلیے سمیت بیٹھ جائیں گے اور عالمی میڈیا ان پر اپنے کیمرے فوکس کریں گے تو پیغام سرحد پار کن کو جائے گا، یعنی دھرنے سے مولانا اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں ہقیناً کامیاب ہوں گے ۔

لیکن عمران خان کی حکومت بھی چلتی رہے گی اور مقتدر طبقے بھی ”پیغام دینے“ کا ہدف حاصل کر لیں گے۔ تاہم پاکستان دشمنوں اور ان کے ہمنواؤں کی نیند وں کا کیا بنے گا۔ اسے سمجھنے کے لئے کسی اعلٰی ترین دانائی کی ضرورت ہرگز نہیں۔ سو نئی تازی یہ ہے کہ دھرنا بھرپور ہوگا۔ حکومت چلتی رہے گی اور مقتدر قوتوں کے مقاصد بھی پورے ہوتے رہیں گے۔

ایک اور نئی تازی یہ ہے کہ مقتدر حلقوں کی آشیرباد سے آئی اس سمری کو کابینہ نے مسترد کردیا ہے جس سمری میں ایک ریٹائرڈ افسر کو ایک ایشیائی ملک میں سفیر تعینات کر دیا گیا تھا۔ گویا پنڈی سے ہو کر آنے والی سمری اسلام آباد نے نہیں مانی لیکن بعض با خبر دوست بتاتے ہیں کہ سمری کا مسترد ہونا ”پیج“ کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اہم وفاقی وزیر اور ریٹائرڈ افسر کی ذاتی چپقلش اور گرائیں ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ذاتی اختلافات ہی ہیں۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر کو کا بینہ کے اندر اس کے گروپ نے بھرپور سپورٹ فراہم کی یعنی گروپ بندی کے ماہر وہاں بھی اپنا ہنر دکھا کر عمران خان کی انتظامی گرفت پر سوالیہ نشان چھوڑ گئے۔

ایک تازہ خبر یہ بھی ہے کہ فارن فنڈنگ کیس خطرناک اور دشوار مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور یہ خطرہ اور دشواری موجودہ حکومت خصوصًا عمران خان کے لئے دھرنے سے بھی زیادہ بڑا درد سر بنا ہوا ہے۔ اور اسی ”درد سر“ سے چھٹکارا پانے کے لئے مختلف تراکیب اور نسخے آزمانے کے لئے ”ماھرین“ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں کچھ با خبر دوست بتاتے ہیں کہ قاسم سوری کی ”کامیابی“ سے نہ صرف حکومت کی جان میں جان آئی ہے بلکہ اس فیصلے کو بہت ”اُمید افزاء“ بھی سمجھا جا رہا ہے۔

ایک نئی تازی یہ ہے کہ ایک سیاست زدہ بزنس مین آج کل ایک مشکل پراجیکٹ کو لے کر چل پڑے ہیں۔ موصوف اہل طوق و سلاسل کو سمجھا رہے ہیں کہ اگر آپ صرف ہاں کر لیں تو باقی معاملات مجھ پر چھوڑ دیں حتٰی کہ پیسوں ٹکوں کا بندوبست بھی ہم دوست مل کر کرلیں گے لیکن سنا ہے کہ ان کو جواب اتنی تلخی سے دیا گیا ہے کہ بیان کرنے کے قابل بھی نہیں۔

خبر یہ بھی ہے کہ بعض ایجینسیوں نے پشاور میں موجود ایک ”قائم خانی“ کا نہ صرف سراغ لگایا ہے بلکہ بعض نا قابل یقین معاملات تک رسائی بھی حاصل کرلی ہے۔ ایک ذریعہ بتاتا ہے کہ مکمل چھان بین اور ثبوتوں کے بعد مضبوط ہاتھ ڈالا جائے گا اس سلسلے میں ایک با اثر شخصیت کو بھی معلومات فراہم کرکے ان کی اجازت اور ہدایات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ایک خبر یہ بھی ہے کہ وفاقی حکومت کی ایک اہم مشیر کو فارغ کرنے کا منصوبہ حتمی مراحل میں ہے۔ سنا ہے وزیراعظم عمران خان اسے دیکھنے کا روادار بھی نہیں، پچھلے دنوں اس مشیر نے بنی گالہ جا کر کچھ مشورے دینے کی کوشش کی تو نہ صرف انہیں اجازت نہیں دی گئی بلکہ آئندہ کے لئے اس طرح کی کسی کوشش سے باز رہنے کو بھی کہا گیا بلکہ سخت تنبیہ بھی کی گئی۔

خبر یہ بھی ہے کہ انگوٹھے لگوانے کے ماہر ایک اینکر اس کی جگہ پُر کرنے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

ایک خبر یہ بھی ہے کہ دورہ امریکہ کے دوران عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور ملیحہ لودھی کی اچھی خاصی کلاس لے لی اور پوچھا کہ آپ لوگ کشمیر کے مسئلے پر اڑتالیس ممالک کی حمایت کے دعویدار تھے لیکن یہ تعداد ڈیڑھ درجن تک بھی نہ پہنچا سکے جس کی وجہ سے پاکستان کی سخت سبکی ہوئی، سنا ہے تلخی اس حد تک بڑھی کہ ایک بندے کے لئے تو گٹ آؤٹ کا لفظ بھی استعمال ہوا۔
اور آخری خبر یہ ہے کہ ڈیل کے معاملات فی الحال مکمل طور پر رک گئے ہیں اور ایک بھی چینل متحرک نہیں یعنی خاموشی بلکہ سناٹا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •