تعلیم، نوکری اور کاروبار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند سال قبل ایک محترم کو کمپنی کے سیلز مینجر سے احوال پرسی کے بعد پیسے لیتے ہوئے دیکھا پتہ چلا کہ وہ شخص کسی محکمہ میں ملازم ہوا کرتا تھا جسے چند وجوہات کی بنا پر نوکری سے برخاست کیا گیا تھا اب چونکہ کاروبار زندگی مفلوج ہو چکا تھا اس لیے اپنے دوستوں رشتہ داروں سے مدد کا طالب تھا۔

غریب والدین پیہم روایتی نصیحتوں سے بچوں کے دماغ کو خاص قالب میں ڈالتے ہیں کہ بیٹا اچھے نمبروں سے تعلیم حاصل کرو تاکہ مستقل اور مستحکم نوکری مل سکے۔ ملازمت ملنے کے بعد ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور اپنی محنت، ریاضت اور جان فشانی معمولی رقم کے عوض بیچ دیتے ہیں شومئی تقدیر سے زندگی کا ورق اور بود و باش پنجرے میں قید ہو جاتا ہے یہ تسلسل یونہی محور کے گرد گھومتی رہتی ہے جیسے چکی آٹا پستی ہے اور محنت کا پھل کوئی اور کھاتا ہے۔

جیسے ایک سکول ٹیچر کا بیٹا اپنے باپ کی محدود آمدنی کے سبب آئے دن گھریلوں جھگڑوں سے تنگ ہے لیکن اس کے باپ نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو اچھی تعلیم اور مستحکم نوکری کی صلاح دی تھی اپنی سوچ کے مطابق بیٹے کو گریجوئیشن کے بعد کسی فرم میں نوکری پر لگا دیتا ہے۔ اس کا بیٹا ایک سال کے بعد یہ نوکری چھوڑ کر مال بردار طیارے کی نوکری میں جٹ جاتا ہے تاکہ درآمدات اور برآمدات کے کاروبار کے طریقوں سے واقف ہو جائیں اسی طرح بتدریج کئی کمپنیوں سے تجربہ حاصل کرکے کمائی ہوئی رقم سے امپورٹ، ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کرتا ہے۔

یونہی یہ لڑکا اپنے اثاثہ جات میں اضافہ کرتا جاتا ہے اب اس کی کمپنی میں بہت سے لوگ جنہوں نے بزنس ایڈمنسٹریشن اور اکاؤنٹس پڑھا ہے ملازمت کر رہے ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو مستحکم نوکری کرنے کے بجائے مستحکم مالک بننے کے بارے میں کیوں نہیں بتاتے؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ مڈل پاس کاروباری حضرات اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو اپنے ہاں نوکری پر رکھ لیتا ہے؟

کیا آپ مالی بوجھ یا بڑھتی ہوئی اخراجات اور محدود آمدنی سے خوش ہیں؟ ہرگز نہیں۔

مالی بوجھ ان عوامل کو کہتے ہیں جو آپ کے اخراجات میں اضافہ کا باعث بنتا ہے جیسے کہ آپ نے گاڑی خریدی اب آپ کو لازماً گاڑی کے لوازمات ( ٹیکسس، آئل، پیٹرول اور مرمت) اپنی محدود آمدنی سے پورے کرنے ہوں گے۔ بہت سے لوگ اپنے رہائشی مکان کو اثاثہ سمجھتے ہیں در حقیقت یہ مالی بوجھ کی سب سے بڑی صورت ہے کیونکہ آپ کی سب سے زیادہ آمدنی اس پر خرچ ہو رہا ہے۔

فارسی میں ضرب المثل ہے کہ ”غم نداری بوز بِخر“۔

اثاثے آپ کو مالی بوجھ سے تحفظات فراہم کرتے ہیں۔ اگر آپ کی ذرائع آمدنی اور مالیاتی تعلیم پائیدار ہے تو آپ کو کامیابیوں کی سطح چھو لینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد کے افکار و سکنات اور طرز زندگی میں خاصہ فرق پایا جاتا ہے جیسے کہ ملازمت پیشہ افراد کو اکثر اوقات دائرے میں ایک عمل بار بار دہرانا پڑھتا ہے سالوں سے بچائی ہوئی رقم سے، مکان یا گاڑی خرید لیتا ہے۔ کاروباری افراد بندشوں کو توڑ کر آزادی سے مختلف ممالک میں بہترین طرز زندگی گزارنے کے ساتھ سرمایہ گزاری کرکے لوازمات اور سہولیات زندگی مرتب کر لیتے ہیں۔

تعلیم، تحقیق، اجتہاد، تجربہ اور مطالعہ، افکار میں وسعت، روح میں پاکیزگی، حقیقی خوشی، سہل زندگی، دولت و ثروت اور پر سکون زندگی مہیا کرتے ہیں۔

والدین بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی کامیاب کاروباری شخص کے پاس بلا معاوضہ کے کام پر لگا دینا چاہیے تاکہ وہ کاروبار کے طریقوں سے واقفیت حاصل کر سکے اور مستقبل فرم میں نوکری کرنے کے بجائے نوکری دینے والا بن جائے۔
اس تحریر کا مقصد کسی کی دل شکنی ہرگز نہیں بلکہ کامیابی اور کامرانی کی جانب قدم رکھنے کا اشارہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کبیر الاحسن کی دیگر تحریریں
کبیر الاحسن کی دیگر تحریریں