آپ کا بچہ پڑھنے کے لیے اسکول نہیں جاتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کا بچہ اسکول ضرور جا تا ہے لیکن پڑھنے نہیں جاتا، وہ چند گھنٹے کے لیے جیسا جا تا ہے ویسا ہی آجاتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سنی بچہ اسکول سے پلٹا تو شیعہ ہو گیا۔ ہندو بچہ، مسلمان ہو گیا۔ جھوٹ بولنے کا عادی بچہ سچ بولنے لگا، بے انداذہ کمائی میں پلنے والا بچہ ہاتھ روک کر خرچ کرنے لگا۔ نمازی بچے نے نماز چھوڑ دی اور بے نمازی نماز پڑھنے لگا۔ لڑائی جھگڑے والے گھر کا بچہ امن پسند ہو گیا۔ جن گھروں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کامیابیاں حاصل کرنے کی دوڑ ہوتی ہے وہاں بچہ بھی اسکول میں بوکھلایا ہوا رہتا ہے۔ گھروں میں پرہیزگاری کے تکبر میں مبتلا والدین کا بچہ اسکول میں بھی سب کو حقارت سے دیکھ کر الگ تھلگ رہتا ہے۔  یعنی جو کچھ وہ گھر سے لے کر جا تا ہے وہی واپس لے آتا ہے۔

اسکول کے چند گھنٹوں میں وہ پڑھتا کچھ نہیں، سیکھتا ہے۔ ایک دوسرے سے کھانا شئیر کرنا، مل جل کر رہنا برداشت کرنا، اپنا دفاع کرنا، جذبات کا اظہار، اعتماد، وقت کی پابندی، ڈسپلن انتظار، برداشت، نئے نئے کھیل، اپنی پوشیدہ صلاحیت کو دریافت کرنا، صفائی ستھرائی، پلیز، سوری اور تھینک یو کہنا۔

بچوں کو ٹیچر نہیں پڑھا تے، وہ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ آگے بڑھنا، اپنے ساتھی کی کامیابی پر خوش ہونا، ایک دوسرے سے وہ سب کچھ سمجھنا جو ٹیچر سے سمجھ نہ آ سکا۔  بڑا ہونے پر وہ آہستہ آہستہ ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر لکھنا، اور پڑھنا بھی سیکھ لیتا ہے۔ یہاں بھی اساتذہ کا کوئی کمال نہیں ہے۔

اگر اساتذہ کا کوئی کمال ہے تو صرف اتنا کہ وہ آپ کے بچے کو اعتماد دیتے ہیں کہ وہ صلاحیتوں سے بھر پور ہے، اسے باور کراتے ہیں کہ وہ زندگی میں اعلیٰ مقام حاصل کر سکتا ہے، اس کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کو نظر انداز کر کے اسے اس کے بچپن سے محظوظ ہو نے کا موقع دیتے ہیں۔

بچہ اپنی فطری صلاحیتوں کے ساتھ خود آگے بڑھتا ہے۔ بچوں کو اساتذہ نہیں، والدین پڑھاتے ہیں۔ اگر آپ کسی وجہ سے خود نہیں پڑھا سکتے تو ٹیوشن کا وقت آدھ گھنٹہ اور قاری صاحب کو گھر بلا کر پندرہ منٹ دیں۔ بچے کو اسکول سے آنے کے بعد کھیلنے اور من پسند مشغلے ضرور کرنے دیں وہ خوش رہے گا تو اس کی صلاحیت اور ذہانت بڑھے گی۔ پھر دیکھیے اسکول میں گزرنے والے چند گھنٹے آپ کے بچے کی صلاحیت پر کس طرح اثر انداذ ہوتے ہیں۔

بچے کے ساتھ وقت گزاریں اس کی شرارتوں سے لطف اندوز ہوں۔ بچے کو اس طرح جینے دیں، جس طرح آپ جیتے ہیں، وہ تھکا ہوا ہے، لیکن مدرسے جانا ہے۔ نیند بری طرح ستا رہی ہے لیکن ٹیوشن بھی لازمی ہے۔

بیزار والدین کا بچوں کی شرارتوں اور دھینگا مشتی سے پیچھا چھڑانے کا صرف یہ ہی حل ہے کہ اسے پڑھائی کے بہانے گھر سے دور رکھیں۔ آپ بچے کی ماں ہیں۔ آپ کا بچہ ایک گھنٹہ وین میں گھوم پھر کر آنے کے بعد بری طرح تھک جا تا ہے، لیکن آپ اسے فوراً مدرسے اور اس کے بعد ٹیوشن بھیج دیتی ہیں۔ ٹیوشن والوں کو آپ کی بچے سے بیزاری کا اچھی طرح احساس ہے۔ اس لیے وہ آپ کے سامنے سر خرو ہو نے کے لیے بچے کو اسکول کا ہوم ورک کرانے کے بعد رٹا لگانے کے لیے بٹھائے رکھتے ہیں۔ تھکے ہو ئے ذہن سے کام صرف کاپی کیا جا سکتا ہے۔ یاد کرنا اور سمجھنا ممکن نہیں، کم سے کم تین گھنٹے بعد بچہ رات نو بجے گھر آکر تھک کر سو جا تا ہے۔

اب بچے کے پاس اپنی محرومی کے احساس کو باہر نکالنے اور اپنی ساری توانائیوں کے اخراج کا ذریعہ اسکول ہے، تختہء مشق استاد اور کمزور بچے ہیں۔ یہ آپ کا بچہ ہے۔ اس کا حال مستقبل اور کردار آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اسکول اور ٹیچرز کو الزام دے کر آپ اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہو سکتے۔

بچے کو ابتدائی جماعتوں میں آپ کی توجہ نہیں مل سکی، یا وہ ذہنی طور پر تھوڑ ا سا کمزور ہے اس کا الزام ٹیچر پر ڈالنے کے بجائے اسکول مینیجمنٹ کے مشوروں پر کان دھریں۔ بچے کی بات پر اعتبار مت کریں۔ اساتذہ خلوص سے آپ کے بچے کی بہتری چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ آپ کے بچے کی ذہنی صلاحیت کس طرح بڑھا ئی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر ابتدائی جماعتوں میں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ٓاپ کے بچے کو وہی جماعت دہرانی چاہیے تو اس بات کو انا کا مسئلہ نہ بنا ئیں، ابھی بچہ چھوٹا ہے اس کی بنیاد اچھی ہو گی تو ہر سال فیل نہیں ہوگا۔

اکثر گھرانوں میں بچوں کی پڑھائی پر اس طرح توجہ دی جاتی ہے کہ انہیں بیگار کی مشقِ بے مشقت میں جوت کر سمجھا جا تا ہے کہ بچے کا مستقبل محفوظ ہے۔ اسکول سے آکر مدرسے، اور پھر ٹیوشن جانے والے بچے بہت قابل رحم ہوتے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ خود کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا ازالہ، دوسروں کو تکلیف پہنچا کر کرتے ہیں۔ جھوٹ بولنا، چوری کرنا، اپنے ساتھیوں اور اساتذہ کو اذیت پہنچانا ان کی فطرت کا حصہ بن جا تا ہے۔

اسکول کے استادوں کی جھڑکیاں، قاری صاحب کی ڈانٹ، ٹیو شن ٹیچر کی مار، والدین کی ناراضی کا خیال آہستہ آہستہ اسے ڈھیٹ بنا دیتا ہے۔ پھر اسے فیل ہونے کا ڈر رہتا ہے نا اپنے مستقبل کی فکر رہتی ہے۔ اور اس سب کے باوجود امتحان میں ناکامی کا خوف اسے پڑھائی اس کے سبق کی طرف راغب کر ہی نہیں سکتی۔

ذاتی تجربے اور مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے بچے کالج جاتے ہی ہٹ دھرم اور باغی ہو جا تے ہیں۔ من مانی ان کا وتیرہ بن جا تی ہے۔ کبھی کبھی وہ منفی سرگرمیوں کا شکار ہو جا تے ہیں۔ نشہ کرنے لگتے ہیں۔ جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ بچے جو یہ سب نہیں کر سکتے وہ ڈیپریشن کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن جا تے ہیں، یا خود کشی کر لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •