کیا ڈان بھی ”غداری“ کا مرتکب ہو گیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

چھے اکتوبر کو ڈان نے سیرل المیڈا کی جانب سے رپورٹ کی گئی ایک ایکسکلوسیو خبر شائع کی جس کا خلاصہ یہ تھے کہ اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں وزیراعلی شہباز شریف صاحب اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی رضوان اختر صاحب بھی شریک تھے۔ خبر میں بتایا گیا کہ پنجاب اور مرکزی حکومت اس بات پر نالاں ہے کہ جب بھی وہ انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ بچا لے جاتی ہے۔ خبر میں یہ بتایا گیا کہ سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری صاحب نے اس اجلاس میں یہ کہا کہ پاکستان اب شدید عالمی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے کیونکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف شفاف انداز میں کارروائی نہیں کرتا ہے۔ اس خبر میں خاص طور پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف صاحب اور آئی ایس آئی کے سربراہ رضوان اختر صاحب کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ جنرل صاحب اب قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ صاحب کے ساتھ تمام صوبائی دارالحکومتوں کا دورہ کر کے وہاں اپنے ادارے کے مقامی سربراہان کو نئی ہدایات جاری کریں گے کہ وہ صوبائی حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف کام کرنے میں مدد دیں۔

وزیراعظم کے ترجمان نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے تصوراتی، گمراہ کن اور حقائق کے برعکس قرار دیا۔ ترجمان نے کہا کہ تمام انٹیلی جنس ادارے، اور خاص طور پر آئی ایس آئی، ریاستی پالیسی کے مطابق قوم کے بہترین مفاد میں ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ وزیراعلی پنجاب کے دفتر کی جانب سے بھی ان سے منسوب کمنٹس کی تردید کی گئی۔

\"cyril-almeida-567x407\"

ڈان کے مطابق وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے خبر کی تین مرتبہ تردید کی گئی۔ کل پیر کے دن خبر جاری کی گئی کہ وزیراعظم کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے، اور من گھڑت خبر پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے عوام کو یہ بتایا گیا ہے کہ گمراہ کن مواد سے ریاستی مفاد خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ خبر کو رپورٹنگ کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میڈیا مفروضوں پر مبنی رپورٹنگ مت کرے۔ وزیراعظم نے اس من گھڑت خبر کا نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کے لئے ذمہ داروں کو تلاش کرنے کی ہدایت کر دی۔ ملاقات کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چودھری نثار، وزیر اعلی شہباز شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر صاحب بھی موجود تھے۔

ڈان کے سیرل المیڈا کے مطابق یہ خبر ان افراد سے گفتگو کے بعد جاری کی گئی ہے جو کہ گزشتہ ہفتے کی اہم اور حساس میٹنگوں میں شریک تھے۔ ڈان نے لکھا ہے کہ تمام افراد نے ریکارڈ پر گفتگو کرنے سے انکار کیا (یعنی اپنے نام سے بیان جاری نہیں کیا) اور خبر میں جن افراد کا نام لیا گیا ہے، ان میں سے کسی فرد نے بھی اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ سیرل المیڈا کے خلاف، جس نے یہ خبر دی ہے، یا ان افراد کے خلاف جن کے بیانات پر سیرل نے یہ خبر بنائی ہے۔ فی الحال تو تحریک انصاف کی محترمہ شیریں مزاری صاحبہ کی فرمائش پر سیرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سنہ 2014 میں سیرل المیڈا نے عمران خان کو طالبان کا سافٹ فیس قرار دیا تھا تو انہیں شیریں مزاری صاحبہ ہی کی جانب سے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا گیا تھا۔

گو کہ دائیں بازو کے اخبارات، مثلاً روزنامہ امت اور جسارت وغیرہ پڑھنے والے اس سے متفق نہیں ہوں گے، مگر ڈان کو عمومی طور پر پاکستان کا معتبر ترین اخبار سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی بھی خبر کا شائع ہونا اس خبر کو معتبر بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر خبر اگر وزیراعظم یا فوج کے بارے میں ہو، اور ایسی اہم ہو جیسی کہ یہ خبر ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ڈان کے تمام ادارتی بورڈ سے ہوتی ہوئی سربراہ تک جا کر اپروو ہوِئی ہو گی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے متعلق غلط خبر دینے پر جنگ گروپ کا حشر ابھی حال ہی کا واقعہ ہے۔ لیکن لیاقت علی خان صاحب کے دور میں واپس جائیں تو ایک ایسی کہانی بھی ملتی ہے جس سے ڈان کا تعلق بھی جڑا ہوا ہے اور ڈان خوب آگاہ ہے کہ ایسے معاملے پر غلط خبر دینے کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔

\"civil-and-military-gazette\"

قیام پاکستان سے پہلے اس خطے کا اہم ترین انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ ہوتا تھا جو کہ لاہور، شملہ اور قیام پاکستان کے بعد کراچی سے بھی شائع ہونے لگا۔ یہ اخبار 1872 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے ادارتی عملے میں ایک اہم ترین نام ممتاز انگریزی ادیب رڈیارڈ کپلنگ کا ہے۔ کپلنگ اسے اپنی محبوبہ اور سچا ترین عشق کہتے تھے۔ جناب لیاقت علی خان صاحب کے دور میں اس کے دہلی کے نمائندے نے ایک خبر بھیجی کہ پاک بھارت وزرائے اعظم نے کشمیر کی تقسیم کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے خلاف ایسا حکومتی ری ایکشن آیا کہ ملک کے اکثر اہم ترین اخبارات نے ”غداری“ کے نام سے ایک ہی ایڈیٹوریل شائع کیا۔ یہ اداریہ نوائے وقت، ڈان، پاکستان ٹائمز، امروز، زمیندار، غالب، نظام جدید، سندھ آبزرو، الوحید، انجام، اور سفینہ وغیرہ میں بیک وقت شائع ہوا۔ یہ بے پناہ پریشر اخبار برداشت نہیں کر سکا اور اس نے باقاعدہ معذرت شائع کی۔

مغربی پنجاب پریس مشاورتی کمیٹی کی قرارداد پر سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت بند کی گئی، اس کمیٹی کا ایک اجلاس 12 مئی کو ہوا۔اس کی صدارت فیض احمد فیض کررہے تھے۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمائندے بسٹن نے کہا کہ جب میرا اخبار اس مسئلے پر معافی مانگ چکا ہے تو پھر مزید سزا کیوں۔ اجلاس کے صدر فیض احمد فیض نے ان دلائل کو رد کر دیا جس پر بسٹن اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ کراچی، 31 مارچ 1953 کو بند ہو گیا۔ چھے ماہ کی بندش کے باوجود اس اخبار کا لاہور ایڈیشن 13 ستمبر 1963 تک شائع ہوتا رہا مگر بالآخر بند ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ یوں چورانوے سال کی ایک عظیم صحافتی روایت اپنے اختتام کو پہنچی۔ آج لاہور میں سول اینڈ ملٹری گزٹ کی بلڈنگ میں کپڑے بکتے ہیں اور وہاں پینوراما سینٹر کے نام سے ایک پلازہ کھڑا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈان کا ادارتی عملہ اس روایت سے آگاہ ہو گا۔ اس روایت سے آگاہی کے باوجود ڈان کا آفیشل بیان یہ ہے۔

”ڈان کچھ باتوں کی وضاحت اور کچھ چیزوں کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتا ہے.

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس اخبار نے اپنے قارئین سے عہد کیا ہوا ہے کہ شفاف، آزاد اور سب سے بڑھ کر مستند رپورٹنگ کو جاری رکھا جائے گا۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جس اسٹوری کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کیا گیا، ڈان نے اس کی تصدیق کی، کراس چیک کیا اور اس میں موجود حقائق کو جانچا تھا۔ دوسری بات یہ کہ ان میں سے بیشتر امور سے واقف سینئر عہدیداران اور اجلاس میں شریک افراد سے ڈان اخبار نے معلومات لینے کے لیے رابطہ کیا اور ان میں سے ایک سے زائد ذرائع نے تفصیلات کی تصدیق اور توثیق کی۔

لہذا منتخب حکومت اور ریاستی ادارے ذریعہ ابلاغ کو ہدف بنانے اور ملک کے سب سے قابل احترام اخبار کو ایک مہم کے ذریعے قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کریں“۔ ایڈیٹر ڈان

یہ خبر دینے والے سیرل المیڈا نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے وکالت پڑھی ہے۔ ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹر ہیں۔ ایک ذمہ دار صحافی کے طور پر عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ ڈان کا اداریہ بھی ان کے قلم سے لکھے جانے کی خبر سنی ہے۔ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جانے کی خبر نے دنیا بھر میں ارتعاش پیدا کیا ہے۔ اہم بین الاقوامی اخبارات نے یہ خبر دی ہے۔ اس خبر کو حکومت کی جانب سے اس قدر زیادہ سنجیدگی سے لینے پر واشنگٹن میں ٹویٹر کے ٹرینڈز میں ان کا نام آیا ہے۔ اس وقت بھی پاکستان میں سیرل کا نام ٹاپ دس میں سے دو ٹاپ ٹرینڈ لے رہا ہے۔ انگریزی اخبارات کو بالعموم اور ڈان کو بالخصوص لبرل طبقے کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود دائیں بازو کے انتہا پسند ترجمان سمجھے جانے والے انصار عباسی تک نے سیرل المیڈا کے نام کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جانے پر یہ ٹویٹ کی ہے ”کہ ڈان کی خبر پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں مگر سیرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنا غلط ہے۔ ڈان کی طرف سے تردید شائع کر دیے جانے کےک بعد اس کی ہرگز بھی کوئی ضرورت نہیں تھی“۔

کیا یہ خبر واقعی اتنی اہم تھی کہ اس کے لئے وزیراعظم نواز شریف، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چودھری نثار، وزیر اعلی شہباز شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر صاحبان پر مشتمل ایک خصوصی اجلاس بلایا جائے؟ اس اجلاس نے تو دنیا بھر پر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ بوکھلا گئی ہے اور اس خبر میں سچ کا پہلو موجود ہے۔ حکومتیں ایسی خبروں کو نظرانداز کر کے ان کی اہمیت گھٹایا کرتی ہیں۔ ان خبروں کو اس انداز میں خود ہی اچھالنے کا الٹا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔

ہماری مانیں تو وزیراعظم سب سے پہلے اس شخص کو تلاش کریں جس نے سیرل المیڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کروا کر دنیا بھر میں وزیراعظم اور افواج پاکستان کی ایسی بری منفی پبلسٹی کروا دی ہے۔ اس خبر سے مثبت پبلسٹی ہو رہی تھی کہ پاکستان اب بین الاقوامی دارالحکومتوں میں دہشت گرد سمجھے جانے والوں کے خلاف سنجیدگی سے کارروائی کرنے جا رہا ہے اور سول حکومت معاملات کی انچارج ہے۔ اب حکومت کی اس بے پناہ شدت والی تردیدی مہم سے یہ تاثر الٹ گیا ہے۔

بہرحال اگر حکومت نے حکمت سے اس معاملے کو حل نہ کیا تو لگتا یہی ہے کہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کی مانند ڈان بھی ”غداری“ کا مرتکب ہو چکا ہے۔ ملک بھر کے اخبارات اب اس کی ”غداری“ پر بھی ایک مشترکہ اداریہ لکھ دیں تو تعجب نہیں ہو گا۔


اسی بارے میں

سیرل المیڈا نہیں، مخبر کو سزا دی جائے: ”اعلی ترین عسکری ذرائع“

کیا سیرل المیڈا کی کہانی مریم نواز کو ڈبو گئی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1395 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *