فرانزک لیبارٹری کا حیرت کدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب میں صحتِ عامہ میں انقلاب کی کہانی باقی ہے ( اس کی تین اقساط آپ ملاحظہ فرماچکے۔ ) ”ورائٹی“ کے لئے آج ایک مختلف موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ سنگین جرائم کی تفتیش و تحقیق کا جدید سائنسی ادارہ جس نے اصل مجرموں تک رسائی کو ممکن اور آسان بنا دیا۔ مکمل سہولتوں کے ساتھ فرانزک لیبارٹری، جسے پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ چونیاں ( ضلع قصور ) کے علاقے میں معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کے قتل کے حالیہ واقعات کی تفتیش اور ملزم کی گرفتاری میں بھی جس نے اہم کردار ادا کیا۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے قیام سے پہلے جرائم کی ”سائنسی“ بنیادوں پر تفتیش کے لیے نہر کنارے ایک لیبارٹری ہوتی تھی، فرسودہ آلات، پرانی ٹیکنالوجی اور ضروری تعلیم و تربیت کے بغیر سٹاف۔ قتل کے ایک اندوہناک مقدمے میں معلوم ہوا کہ ٹیسٹ بدل دیے گئے ہیں، ثبوت ضائع کر دیے گئے ہیں۔ انکوائری ہوئی تو اس سنگین بددیانتی کے مرتکب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ان میں ایک بہت با اثر سرکاری افسر کا بھائی بھی تھا۔ میں نے ان سب کے خلاف بلا امتیاز کارروائی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ اب تک نہ جانے کتنے لوگ اس ”فرسودہ نظام“ کے باعث انصاف سے محروم رہے ہوں گے اور کتنے مجرم بچ نکلے ہوں گے؟ تو اصلاح احوال کے لیے کیوں نہ ایک فول پروف جدید نظام وضع کیا جائے۔

میں نے اپنے ایک با اعتماد ڈپٹی سیکرٹری سے بات کی ( صوبائی سول سروس کا یہ افسر اپنی محنت، قابلیت، ایمانداری اور فرض شناسی کے باعث سیکرٹری کے منصب تک پہنچا۔ ) حسن ِاتفاق کہ ان کے جاننے والے ایک پاکستانی ڈاکٹر محمد اشرف طاہر اس میں مہارت رکھتے تھے اور اُن دِنوں امریکہ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ میری درخواست پر وہ پاکستان آئے۔ میں نے ایک جدید فرانزک لیبارٹری کا آئیڈیا ان کے سامنے رکھا اور اس سلسلے میں تعاون اور رہنمائی کی درخواست کی۔ وہ آمادہ ہوگئے، انہوں نے اس کے لیے پلاننگ کی جس کی تکمیل کے لیے حکومت پنجاب انہیں تمام ضروری سہولتیں بلا تاخیرفراہم کرتی رہی۔ مغربی ممالک میں اس معیار اور اس سطح کی فرانزک سائنس لیبارٹری، مہارت اور وسائل کی فراوانی کے باوجود پانچ سے سات سال لے جا تی ہے۔ لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم، متعلقہ افسران و اہلکاران کی شبانہ روز محنت اور میر ی دلچسپی کاباعث یہ منصوبہ دو سال کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہو گیا۔ ظاہر ہے اس میں ڈاکٹر محمد اشرف طاہر کی خصوصی نگرانی کی اپنی اہمیت تھی۔

پاکستان میں اپنی نوعیت کی یہ جدید ترین لیبارٹری اکتوبر 2009 میں تیار ہو گئی۔ اب اسے چلانے کا چیلنج در پیش تھا۔ میں نے ڈاکٹر اشرف طاہر سے یہ ذمہ داری قبول کرنے کی درخواست کی کہ اس منفرد تجربے کے لیے پاکستان میں مطلوبہ مہارت موجود نہ تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو ایک اہم فیصلہ کرنا تھا۔ ایک طرف امریکا، وہاں کے وسائل اور وہاں کی آسائشیں، دوسری طرف اپنے ملک اور یہاں کے عوام کی خدمت کا تقاضا۔ میں نے ایک دن ہنستے ہوئے کہا، ڈاکٹر صاحب! آپ کو اپنے پاکستان کا یہ قرض تو لوٹانا ہی پڑے گا۔ یکسوئی کا لمحہ آن پہنچا تھا۔ وہ جواباً مسکرا دیے اور پنجابی کے اس مقولے کے ساتھ یہ ذمہ داری قبول کرلی کہ ”جہڑا بولے، اوہی کنڈا کھولے“ (جو آدمی دستک کا جواب دے، وہی جا کر دروازہ کھو لے۔ )

اب مختلف ذمہ داریوں کے لیے سٹاف کی بھرتی کا مرحلہ تھا جس میں سو فیصد میرٹ کو بنیاد بنایا گیا۔ حسبِ ضرورت امریکہ میں ٹریننگ بھی دلوائی گئی۔ یہ اربوں روپے کا منصوبہ تھا، جس میں آلات سمیت تمام اشیاء کی خریداری قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ عمل میں آئی۔ اس کا انتظام و انصرام حکومت پنجاب کے محکمہ داخلہ کے سپرد ہوا۔ وزیر قانون رانا ثناء اللہ (جن کے پاس وزارت داخلہ کا چارج بھی تھا) کی خدمات فرانزک لیب کی تاریخ کا سُنہری باب ہیں۔ ٹھوکر نیاز بیگ ( ملتان روڈ) پر جدید ترین لیبارٹری میں ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر محمد اشرف طاہرکی سربراہی میں 400 سے 600 ملازمین خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سروس کسی ناغے اور وقفے کے بغیر چوبیس گھنٹے دستیاب ہوتی ہے۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی ایک حیرت کدہ ہے، جس نے تفتیش و تحقیق کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ اس کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کی فنی تفصیل میں جا کر میں آپ کوبو ر نہیں کرنا چاہتا۔ مختصرا ً ان کے نام بیان کر دیتا ہوں :۔

1۔ آڈیو ویژول اینلیسز (Audio Video Analysis)
2۔ کمپیوٹر فرانزک (Computer Forensic)
3۔ ڈی این اے اینڈ سیرولوجی (DNA & Serology)
4۔ فائر آرمز اینڈ ٹول مارکس) Fire Arms and Toolmarks)
5۔ پتھالوجی (Pathalogy)

6۔ لیٹینٹ فنگر پرنٹس (Latent Finger Prints)
7۔ ٹریس کیمسٹری (Trace Chemistry)
8۔ نارکوٹکس (Narcotics)
9۔ ٹوکسی کالوجی (Toxicology)
10۔ پولی گراف (Polygraph)
11۔ کوسچنڈ ڈاکومنٹ (Questioned Document)

مختصراً یہ کہ اگر جائے وقوعہ پر مجرم کا ایک بال بھی پایا گیا یا وہ ٹشو پیپر جس سے اس نے پسینہ پہنچا اوربے خیالی میں وہیں پھینک دیا، وہ گلاس یا کپ جس میں اس نے پانی یا کوئی اور مشروب پیا اور اس کے ہونٹوں کے آثار اس پر پائے گئے، فرانزک لیب اس تک رسائی کا ذریعہ بن جائے گی۔ بداخلاقی کے واقعات میں ڈی این اے ٹیسٹ سینکڑوں مشکوک لوگوں میں سے اصل ملزم کی نشاندہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ تفصیل میں جانا ممکن نہیں میں یہاں دو تین مشہور واقعات کا ذکر کر دیتا ہوں۔

چار جنوری 2018 کو قصور شہر میں 6 سالہ زینب غائب ہوگئی۔ بدقسمت بچی کے والدین عمرہ کے لئے سعودی عرب میں تھے اور یہاں وہ اپنے چچا کے پاس تھی۔ وہ گھر کے قریب ہی قرآن پاک پڑھنے گئی اور غائب ہوگئی۔ CCTV ویڈیو میں وہ سفید شلوار قمیض اور جیکٹ پہنے ہوئے ایک باریش شخص کی انگلی تھامے جاتی نظر آ رہی تھی ( ویڈیو میں چہرے کی شناخت مشکل تھی۔ ) 9 جنوری کو اس کی لاش کوڑے کے ایک ڈھیر میں پائی گئی۔ اٹاپسی میں قتل سے قبل زیادتی کی تصدیق بھی ہوگئی تھی۔

گزشتہ دو سال میں اس علاقے میں یہ اس طرح کا آٹھواں واقعہ تھا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی رپورٹنگ نے آگ لگادی۔ شہرمظاہروں کی لپیٹ میں تھا۔ لوگ واقعی دکھی تھے، بعض عناصر پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کے لیے لاہور سے بھی پہنچ گئے۔ میں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ انویسٹی گیشن (JIT) ٹیم بنادی اور تعزیت کے لیے قصور جاپہنچا۔ تفتیش کے روایتی طریقوں کے ساتھ سائنسی بنیادوں پر بھی کام شروع ہوا۔ علاقے سے تقریبا گیارہ سو افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوا اور آخرکار 24 سالہ عمران علی پکڑاگیا۔ ڈی این اے فہرست اس کا نمبر 700 تھا۔ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق اس طرح کے سات دیگربہیمانہ واقعات کا مجرم بھی یہی تھا۔

کوٹ لکھپت جیل میں چار روزعدالتی کارروائی کے بعد وہ سزائے موت کا مستحق قرار پایا۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بعد ایوانِ صدر سے بھی رحم کی اپیل مسترد ہونے پر وہ 17 اکتوبر 2018 کوکوٹ لکھپت جیل کے پھانسی گھاٹ میں کیفرکردار کو پہنچ گیا۔ چونیاں میں بچوں سے زیادتی اور قتل کے حالیہ واقعات میں بھی فرانزک سائنس لیبارٹری ہی اصل ملزم کی نشاندہی کا ذریعہ بنی۔ اس میں اگرچہ ہیومین انٹیلی جینس بھی بروئے کار آئی، پولیس اہلکاروں نے مختلف بھیس بدلے اور بازاروں میں پھیل گئے بعض نے پھل، چپس، پکوڑے، پاپڑ، قلفیاں اور غبارے فروخت کیے۔ کسی نے رکشہ چلایا۔ لیڈی پولیس نے خریداری کے بہانے مارکیٹوں پر نظر رکھی۔ لیکن اصل نشاندہی ڈی این اے رپورٹ سے ہوئی۔ 1700 سے زائد افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے اور 1471 ویں نمبر والا سہیل شہزاد ملزم قرار پایا۔

لاہور میں یہ جدید فرانزک لیبارٹری ملک کے دیگر حصوں میں بھی ملزموں کی نشاندہی کے کام آئی۔ ان میں مردان کی چار سالہ بچی کا کیس بھی تھا جس کی لاش 14 جنوری 2018 کو گنے کے کھیت میں ملی تھی۔ ان دنوں ”ڈان“ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں پشاور میں قائم ہونے والی خیبرپختونخوا کی واحد لیب 2018 ء میں بھی ڈی این اے ٹیسٹنگ کِٹس کی عدم فراہمی کے باعث غیر فعال (Non Functional) تھی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کے پی کے حکومت نے ایچ ا ے شا ہ اینڈ سنز نامی پرائیویٹ کمپنی کو 600 کِٹس کی خریداری کے لیے 20 ہزار ڈالر کی ادائیگی بھی کر دی تھی، لیکن ان میں سے ایک بھی کٹ اسے نہ ملی۔ کمپنی جو پاکستان میں ان کِٹس کی واحد امپورٹر تھی، کا موقف تھا کہ اس کی تمام پنجاب نے زینب کے کیس کی انویسٹی گیشن کے لیے خرید لی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •