فرانزک لیبارٹری کا حیرت کدہ

پنجاب میں صحتِ عامہ میں انقلاب کی کہانی باقی ہے ( اس کی تین اقساط آپ ملاحظہ فرماچکے۔ ) ”ورائٹی“ کے لئے آج ایک مختلف موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ سنگین جرائم کی تفتیش و تحقیق کا جدید سائنسی ادارہ جس نے اصل مجرموں تک رسائی کو ممکن اور آسان بنا دیا۔ مکمل سہولتوں کے ساتھ فرانزک لیبارٹری، جسے پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ چونیاں ( ضلع قصور ) کے علاقے میں معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کے قتل کے حالیہ واقعات کی تفتیش اور ملزم کی گرفتاری میں بھی جس نے اہم کردار ادا کیا۔

Read more

بیمار اور لاچار خواتین کی کہانی اور ہماری حکومت کے اقدامات

ایک پسماندہ شہر کے ہسپتال کے باہر ایک بیمار اور لاچار سی خاتون ایک نوجوان کا سہارا لیے کھڑی تھیں، پریشانی جس کے چہرے سے عیاں تھی۔ میرے استفسار پر لڑکے نے بتایا کہ یہ اس کی والدہ ہیں جنہیں ڈاکٹرز نے سی ٹی سکین کروانے کے لیے کہا ہے اور یہاں قرب و جوار میں یہ سہولت موجود نہیں، اس کے لئے انہیں دور دراز کا سفر کر کے ملتان جانا ہوگا۔

یہ غریب لوگ لمبے سفر کے اخراجات (جس کے لیے بسا اوقات ادھار بھی پکڑنا پڑتا ہے ) اور صعوبتیں برداشت کرکے کسی بڑے شہر کے سرکاری ہسپتال میں پہنچ بھی جائیں تو اس بات کی کیا ضمانت کے وہاں سی ٹی سکین مشین درست حالت میں ہوگی اور مریض اس مفت سہولت سے فائدہ اٹھا سکے گا؟ سرکاری ہسپتالوں میں اس طرح کی مشینیں جان بوجھ کر بھی خراب رکھی جاتی ہیں تاکہ اس سے پرائیویٹ کلینکس اور لیبارٹریوں کا دھندا چلتا رہے جس میں سرکاری ہسپتال کے بدعنوان عملے کابھی حصہ ( کمیشن) ہوتا۔

Read more

ہم نے لاہور میں 25 ہزار اموات کر سکنے والے ڈینگی پر کیسے قابو پایا تھا

دوسری میٹنگ میں سری لنکن ٹیم نے مفصل جائزہ رپورٹ کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے لیے ضروری تجاویز بھی پیش کیں۔ 30 سالہ تجربے کے حامل ڈاکٹر فرنینڈونے میٹنگ کے بعد مجھ سے علیحدگی میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میرے پاس آپ کے لیے اچھی خبر نہیں۔ میں آپ کو جھوٹی توقعات اور غیر حقیقی خوش فہمی میں نہیں رکھنا چاہتا۔ اگر میں یہ کہوں کہ یہ دنیا میں ڈینگی کی وبا کا سنگین ترین حملہ ہے جس میں 25 ہزار تک اموات بھی ہوسکتی ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا“۔ 25 ہزار اموات کا سن کر مجھے اپنے پاؤں تلے زمین سرکتی محسوس ہوئی۔

Read more

قید تنہائی اور کرنل سے مکالمہ

اس کہانی کا آغاز لاہور کی نکلسن روڈ پر ایک مفلوک الحال گھرانے سے ہوتا ہے، لیکن اس سے پہلے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔ 1985 ء کے انتخابات میں میاں صاحب (محمد نواز شریف) لاہور میں قومی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے (قومی اسمبلی حلقہ NA۔ 95 اور اس کے نیچے پنجاب اسمبلی حلقہ PP۔ 123 ) سیاست میں میری دلچسپی ”نظری حد“ تک تھی اورفیملی بزنس ہی میری توجہ اور سرگرمیوں کا مرکوز و محور تھا۔

Read more