اجمل نیازی کی علالت اور حکومتی بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں میرا ایک بھائیوں جیسا دوست ایسا بھی ہے جو دوستیوں اور محبتوں میں مجھ سے چار قدم آگے ہے۔ یہ میں نے بارہا عملی طور پر دیکھا ہے کہ وہ جب بھی کہیں بھی میرے ساتھ ہوتا ہے تو لوگوں کا رخ اس کی جانب ہوجاتا ہے۔ یہ بات میرے لئے قابل فخر بن جاتی ہے کہ میرے اس دوست کو لوگ کتنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ہی نہیں، بیرونی ممالک میں بھی اس کی مقبولیت کا یہی عالم ہے، میرے اس دوست کا نام ہے ڈاکٹر اجمل نیازی۔

گورنمنٹ کالج اور ایف سی کالج کے سابق معلم، ممتاز شاعر، ادیب، کالمسٹ اور نقاد جناب ڈاکٹر محمد اجمل نیازی جنہیں دائیں بازو والے بائیں اور بائیں بازو والے دائیں بازو کا دانشور تصور کرتے رہے۔ یہ انہی کا کمال ہے کہ دونوں دھڑوں میں انہوں نے خوب عزت کمائی۔ اپنی عزت اور احترام کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے زندگی بھر اور کچھ نہیں کمایا۔ پچھلے پنتیس سال سے وحدت کالونی کے ایک بوسیدہ کوارٹر میں خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اجمل نیازی کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کے قبیلے کا سردار منیر نیازی تھا۔ منیر نیازی سے والہانہ محبت کی انہیں ”ادبی خداؤں“ نے بہت سزائیں بھی دیں، لیکن انہوں نے اپنا ”سردار“ نہیں بدلا۔ احمد ندیم قاسمی صاحب کے قبیلے نے تو انہیں رجعت پسند مشہور کرنے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اجمل نیازی صاحب کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں ”مندر اور محراب“ بھی شامل ہے، وہ ”ستارہ امتیاز“ سے بھی نوازے جا چکے ہیں۔ لیکن یہ سرکاری اعزاز لوگوں کی محبت کے سامنے بہت چھوٹا ہے۔

تین ہفتے پہلے خودی اور انا کے مارے ہوئے اجمل نیازی اپنے بوسیدہ مکان کے باتھ روم میں گر گئے اور ان کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ گھر والے انہیں بحریہ اسپتال لے گئے، ہڈی کا جڑنا گھر والوں کو لاکھوں میں پڑا، کسی حکمران کو احساس تک نہ ہوا کہ اسپتال کا ”بڑا بل“ کیسے ادا کیا گیا ہوگا۔ اسی دوران اسپتال میں ہی اجمل نیازی صاحب کو ڈبل نمونیہ کا اٹیک ہوگیا۔ بھابی رفعت مزید ”بڑے بل“ کے خوف سے ڈاکٹر صاحب کو اس اسپتال سے دوسرے اسپتال لے گئیں۔

ڈاکٹر اجمل نیازی کی حالت بہت خراب تھی۔ انہیں کئی روز تک آئی سی یو میں بھی رکھنا پڑا۔ اس دوسرے اسپتال میں ان کی اہلیہ کے لئے بڑی مشکل یہ آن پڑی کہ وہاں علاج کے لئے روزانہ نقد ادائیگی کرنا پڑتی ہے، یا دس لاکھ روپے ایڈوانس جمع کرانا پڑتے ہیں۔ لاکھوں کا علاج اور وہ بھی روزانہ ایڈوانس پیسے دے کر، یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ اس کی تفصیل خود اجمل نیازی صاحب کی اہلیہ ہی دے سکتی ہیں۔ پتہ نہیں روزانہ کس کس سے اور کہاں کہاں سے علاج کے لئے رقم کا بندوبست کیا جاتا رہا اور اب اس رقم کی ادائیگی کیسے ہوگی؟

اس کا بھی میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ میں تو وطن عزیز کے خود دار دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کو یہی مشورہ دے سکتا ہوں کہ وہ بیمار نہ ہوا کریں اور قدم قدم پھونک پھونک کر چلا کریں کہ کہیں پاؤں نہ پھسل جائے اور کولہے کی ہڈی نہ ٹوٹ جائے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ڈاکٹر اجمل نیازی اب تندرست ہیں اور گھر واپس پہنچ چکے ہیں، اس ملک میں اجمل نیازی صاحب جیسے ایک ”غریب دانشور“ کا مفت علاج نہیں ہو سکتا تو بائیس کروڑ غریبوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے ناں۔

بکھرتی خاک میں کوئی خزانہ ڈھونڈتی ہے تھکی ہاری زمین اپنا زمانہ ڈھونڈتی ہے اب اجمل نیازی صاحب کے ساتھ ایک سفر کی ہلکی پھلکی یادیں۔ کئی سال پہلے ناروے کی حکومت نے چند پاکستانی قلم کاروں کو اپنے نظام حکومت سے متعارف کرانے کے لئے اوسلو بلوایا۔ اس وفد میں، میں اور اجمل نیازی صاحب بھی تھے۔ ہمیں ایک غیر ملکی ائیر لائن کی ٹکٹیں بھجوائی گئیں۔ جہاز نے راستے میں دبئی میں کئی گھنٹوں کا ”سٹے“ کرنا تھا۔ جہاز کے مسافروں کو یہ چھ یا آٹھ گھنٹے گزارنے کے لئے ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔

میں نے اور نیازی صاحب نے ایک ہی کمرہ لیا اور وہاں پہنچ گئے۔ گھنٹہ آدھ گھنٹہ آرام کے بعد میں نے نیازی صاحب سے پوچھا ”کیوں نہ ہم تھوڑا سا باہر گھوم آئیں؟ انہوں نے جواب دیا تم چلے جاؤ، میرا موڈ نہیں ہے، ہم دبئی کے اس ہوٹل کے چوتھے فلور پر تھے، میں نے کمرے سے باہر نکل کر سوچا کہ لفٹ استعمال کرنے کی بجائے کیوں نہ سیڑھیوں سے نیچے اترا جائے؟ ہوٹل کی تیسری منزل پر اترا تو وہاں انگلش میوزک کا شور سنا، ایک انڈین نے بتایا کہ اس ہوٹل کی پہلی تین منازل پر کئی ڈانسنگ فلور ہیں جہاں مختلف ممالک کی رقاصائیں اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

میں اس سے پہلے بھی دبئی جا چکا تھا لیکن ایک مڈل کلاسیے کا مہمان تھا اور دبئی کا یہ رنگ دیکھنے سے محروم رہا تھا۔ میں نے ہوٹل کے ایک اور انڈین ملازم سے پوچھا کہ سب سے پاپولر ڈانس کس ملک کی رقاصاؤں کا ہوتا ہے اور کس فلور پر؟ اس نے بتایا کہ عربی رقص والے فلور پر سب سے زیادہ رش ہوتا ہے اور انڈین اور پاکستانی رقاصائیں دوسرے نمبر پر آتی ہیں۔ میں ایک فلور اور نیچے اترا اور ”دیسی“ ڈانسنگ ہال کا رخ کیا۔

ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور دو لڑکیاں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ ہال میں موجود لوگ ان پر نوٹوں کی برسات کر رہے تھے، کوئی ایک کرسی بھی خالی نہ تھی۔ ”تماشا“ دیکھنے والوں میں مقامی لوگوں کی تعداد زیادہ تھی یعنی دبئی کے باشندے۔ میں نے اسٹیج کی جانب دیکھنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ فلور کے پیچھے جہاں پرفارمنس جاری تھی، نیلے رنگ کا ایک صوفہ پڑا ہوا ہے، جو خالی ہے اور اس پر کوئی براجمان نہیں ہے، سوچا کہ لازمی اس پر رئیس لوگ بیٹھتے ہوں گے۔

پھر خیال آیا کہ جا کر بیٹھ جاتے ہیں کسی نے اعتراض کیا تو اٹھ جائیں گے۔ میں وہاں اس عالی شان صوفے پر تین چار منٹ تک بیٹھا رہا۔ کسی نے کوئی توجہ نہ دی۔ اسی اثناء میں سوچا کہ کیوں نہ نیازی صاحب کو بھی یہ نظارہ دکھایا جائے۔ میں اس صوفے سے اٹھ کر چوتھے فلور پر اپنے کمرے میں پہنچا تو نیازی صاحب سو رہے تھے، انہیں زبردستی اٹھایا، اس زمانے میں اجمل نیازی صاحب کی داڑھی کچھ زیادہ ہی لمبی ہوا کرتی تھی، میں نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ جانا کہاں ہے؟

صرف یہ کہا کہ ایک زبردست نظارہ انہیں کرانا ہے، نیازی صاحب نے اپنی روایتی پگ سر پر رکھی، پاؤں میں شاید کھسہ تھا۔ انہیں جلدی سے لفٹ کے ذریعے دوسرے فلور پر لایا۔ ڈانسنگ ہال کی رونق اسی طرح برقرار تھی۔ رقاصاؤں کے پیچھے رکھا ہوا نیلا صوفہ پھر خالی تھا۔ میں نیازی صاحب کا ہاتھ تھام کر جونہی اس صوفے پر بیٹھا، وردیوں میں ملبوس پولیس اہلکار تیزی سے ہماری جانب بڑھے۔ میں حالات کو بھانپ گیا، نیازی صاحب کے حلیہ نے پولیس کو متوجہ کیا تھا۔ میں انتہائی پھرتی سے نیازی صاحب کا ہاتھ تھامے اس فلور سے باہر نکل گیا، پولیس ہمارے پیچھے نہیں آئی تھی۔ ۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •