ایک لبرل جاوید منزل پر تلاشِ اقبال میں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ملک کے شہری ہیں۔ ہمارے سوچنے اور سمجھنے کے پیمانے مختلف ہیں۔ ہماری اپنی آنکھوں کی بینائی کم ہے کہ کبھی کبھی کسی شے کو دیکھنے کیلئے بھی ہم دوسرے کی آنکھوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اقبال کو ہم نے اتنے رنگوں میں رنگ دیا ہے کہ خود اقبال کا اپنا رنگ اب کھو سا گیا ہے۔ ہم یا تو اقبال کو ریاستی بیانئے کے توسط سے جانتے ہیں جسے ریاست نے قومیت اور ملت اسلامیہ کے غلبے سے دوچار کر رکھا ہے۔ یا پھر لبرل دانشوروں کی نظر سے جو اقبال کو اس کے مقام سے صفر تک لانے میں دیر نہیں لگاتے۔

ہمارے علم و منطق کا طریقہ کار ناقص۔ عمر فاروق رضی اللہ کی قابلیت کے لئے ہمیں گاندھی جی کے توصیفی جملوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مولانا رومی کی زندگی سے ہم نا واقف۔ بس اتنا جانتے ہیں کہ وہ اقبال کے مرشد تھے۔ اب اقبال کے مرشد تھے تو اعلیٰ شخصیت ہی ہوں گے۔ نطشے کو ہم نہیں پڑھتے۔ جی اس لئے نہیں پڑھتے کہ اقبال کی نطشے بارے رائے کوئی اچھی نہیں تھی۔ یہ حال ہے ہماری علمی تحقیق و دلیل کا۔ ہم اپنی نظر کا استعمال نہ کرنے سے دوچار ہیں۔

اسی برس کا ماہِ مارچ تھا۔ سفرِ لاہور تھا اور بادشاہی مسجد کا دورہ تھا۔ مسجد سے باہر نکلے تو دوست نے مزارِ اقبال پر حاضری دینے کا کہا۔ میں نے اندر جانے سے انکار کیا اور باہر ہی دوست کا انتظار کرتا رہا۔ اقبال پر ریاستی بیانیے پر میری نفرت کا غلبہ تھا۔ سو اقبال کو سلام کرنے پر دل آمادہ نہ ہوا۔ کبھی کبھی مقام پاس سے ہوکر نکل جاتا ہے اور قدموں کو بھنک بھی نہیں ہوتی۔ دل قائل نہ ہو تو قدم بھی ذہن کا ساتھ نہیں دیتے۔

دو ماہ پہلے خشونت سنگھ کی کتاب ہاتھ تھی۔ نام Lessons of my life تھا۔ ایک باب تھا Dealing with death خشونت جی آخر میں اقبال کا ایک شعر لکھ کر موت آنے کے بارے میں اپنا نظریہ بتاتے ہیں۔

نشان مرد مومن با تو گویم

چوں مرگ آید تبسم برلبِ اوست

میں تجھے بندہ مومن کی نشانی بتاتا ہوں

جب اُسے موت آتی ہے تو اس کے زیرلبِ تبسم ہوتا ہے

یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ خشونت جی اس معاملے میں ہمارے اقبال سے متاثر ہیں مگر سوال نے سر اٹھایا کہ جس شاعر کا شعر پیش کیا جا رہا ہے کیا مرتے وقت وہ خود بھی اس کی مثال رہا ہوگا؟ بات آئی گئی ہوگئی میں اقبال سے متاثر نہ ہوسکا۔ تین ہفتہ پہلے ڈاکٹر جاوید اقبال کی خودنوشت “اپنا گریباں چاک” شروع کی۔ وہ بھی اس غرض سے کہ جاوید اقبال کی شخصیت کو جان سکوں۔ سوانحی کے شروع کے صفحات میں جاوید اقبال کا بچپن صفحات پر نقش کرتا نظر آتا ہے۔ ذرا آگے چل کر جاوید باپ کی موت کا ذکر کرتے ہیں:

آخری رات علامہ کی چارپائی گول کمرے میں بچھی تھی۔ عقیدت مندوں کا جمگھٹا تھا۔ میں کوئی 9 بجے کے قریب کمرے میں داخل ہوا تو پہچان نہ سکے۔ پوچھا کون ہے؟ میں نے جواب دیا “میں جاوید ہوں”۔ ہنس پڑے اور بولے “جاوید بن کر دکھاؤ تو جانیں”۔ گھر میں ان کے احباب کا بکھرا ہوا شیرازہ تھا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا تھا کہ بساط عنقریب الٹنے والی ہے۔ اس کے باوجود وہ اس رات ضرورت سے زیادہ ہشاش بشاش نظر آتے تھے۔

یہ سطریں جس لمحے میں نے پڑھیں تو خیال میں خشونت کی کتاب میں درج اقبال کا وہی شعر آنے گا۔ مجھے میرے ایک سوال کا جواب تو مل چکا تھا کہ یہ شعر کہنے والا جب خود اس دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس نے موت کو بخوشی گلے لگایا۔ ایک تجسس اٹھا کہ برصغیر کے اس دماغ نے جہاں زندگی کے آخری ایام گزارے وہاں جا کر اس شخص کے بارے میں جاننا چاہیئے۔ پچھلے ہفتے لاہور پہنچا۔ طے کر کے آیا تھا کہ جتنی بھی مصروفیت ہو جاوید منزل ضرور جاؤں گا۔

افسوس یہ جان کر ہوا کہ لاہور والوں کو بھی نہیں معلوم کہ جاوید منزل نام کی کوئی شے لاہور میں ہے جہاں برصغیر کے اس دماغ نے وقت گزارا ہے۔ کیا کریں کہ ریاست آپ کو اور ہمیں صرف “خودی” اور “شاہین” تک ہی محدود رکھنا چاہتی ہے۔ جاوید منزل کے میوزیم میں قدم رکھا تو نگاہ ایک فریم پر پڑھی۔ اقبال جائے نماز پر ہیں اور مسجد قرطبہ کا احاطہ ہے۔ وہی فریم والی جائے نماز نیچے ایک میز پر میوزیم میں رکھی پڑی ہے۔ دوسری دیوار پر بالِ جبریل کی ایک نظم” دعا” جو کہ مسجد قرطبہ میں لکھی گئی ہے اس کے تین اشعار فریم پر درج ہیں۔ نظر ایک شعر پر جاتی ہے اور رک جاتی ہے۔ دل اور دماغ، داد سے بلند تر ہو کر اس اقبال کو سجدہ کرتے ہیں۔

کبھی کبھی کسی  بڑے انسان پر لکھی گئی تنقیدی کتب، طویل لیکچرز،  ڈگریاں بھی اقبال کا وہ مقام نہیں سمجھا پاتیں جو ایک شعر سمجھا دیتا ہے:

راہِ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق

ساتھ مرے رہ گئی ایک میری آرزو

اقبال، مرزا اسد اللہ خاں غالب کے سلسلہ کی ایک لڑی ہے۔ آپ فکر اقبال سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ اس کے فلسفے سے بے گانگی اختیار کر سکتے ہیں مگر آپ اسے انکار نہیں کر سکتے کہ اقبال واقعی برصغیر کا ایک عظیم دماغ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •