لفافہ جرنلزم اور انکم ٹیکس ریٹرن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر ریڈیو ٹی وی نشریات کو کھلے دِل سے صحافت شمار کر لیا جائے تو مجھے یہ پیشہ ورانہ زندگی اختیار کئے چالیس سال ہونے کو ہیں۔ تعلیم و تدریس کے شعبہ سے وابستگی کا دورانیہ اِس سے زیادہ ہے۔ لفافہ جرنلزم سے دوچار ہونے کا اتفاق البتہ پچھلے ہفتے پہلی بار ہوا۔ آج کے کالم کا پھڑکتا ہوا عنوان دیکھ کر گمان ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ کسی میڈیا کانفرنس یا پریس بریفنگ میں پیش آیا۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو عین ممکن ہے کہ کہنہ مشق ناظرین یا اخبار پڑھنے والے اِسے معمول کی خبر سمجھ کر بالکل نظر انداز کر دیتے۔ ٹِکر چلانے کا جواز تو اِس انکشاف سے پیدا ہوگا کہ یہ لفافہ جرنلزم میرے ساتھ ایک نجی یونیورسٹی میں ہوا۔ وہ اِس لئے کہ ابلاغِ عامہ کے بورڈ آف اسٹڈیز کا رکن ہونے کے ناتے سے یہ کالم نویس ایک اعلی سطحی اجلاس میں شریک تھا۔ اعلیٰ سطحی تو آج کل ہر اجلاس ہوتا ہے۔ نئی بات کیا تھی، یہ ابھی بتاتا ہوں۔

اِس بورڈ آف اسٹڈیز کی میٹنگ کا کوئی پہلے سے طے شدہ کیلنڈر نہیں۔ تاہم شرکت کا ذاتی فائدہ اُن دوستوں سے ملاقاتیں ہیں، جن سے عام حالات میں ملنا جلنا کسی دعوتِ ولیمہ یا تقریب چہلم کے سوا نہیں ہوتا۔اجلاس میں تعلیمی مسائل زیر بحث آتے تو ہیں، مگر چونکہ یہ نجی سیکٹر کا ادارہ ہے، سو غور اُسی حد تک جس سے مالکان سمیت کسی ’اسٹیک ہولڈر‘ کی عزتِ نفس پہ زد نہ پڑے۔ ہاں، حکومتی پریس نوٹ یا ہینڈ آؤٹ کے لہجہ میں بات کروں تو ’قومی ضروریات اور جدید تقاضوں کو ہم آہنگ کرنے کے لئے نئے کورسز کو آخری شکل دینا‘ بھی اِسی بورڈ کا کام ہے۔ اجلاس کی کارروائی عام طور پہ دو سے تین گھنٹے تک چلتی ہے اور اِس بیچ میں چائے کافی کا دَور جو توجہ کا مرکز نہیں ہوتا، یوں مجموعی فضا وضعداری کی۔ تو پھر ہوا کیا؟ ہوا یہ کہ اِس مرتبہ جسِ الگ الگ فائل میں نئی تجاویز کا مسودہ شرکا کو دیا گیا، اُس میں پہلی بار ایک ایک لفافہ بھی تھا۔

اگر میری نیت پہ شبہہ نہ کیا جائے تو یہ بتاتا چلوں کو مجھے لفافے کا اندازہ گھر پہنچ کر ہوا۔ اگر پہلے ہو جاتا تو کیا رقم سب کے سامنے واپس کر دیتا؟ یہ تو پارسائی کا ڈرامہ ہوا۔ تو کیا علیحدگی میں صدرِ شعبہ کے پاس جا کر لفافہ لوٹا دینا مناسب تھا؟ گھر میں فائل دوبارہ کھول کر مَیں اپ سیٹ تو ہوا۔ لیکن مالیت سے قطعِ نظر جو بظاہر علامتی سی تھی، یہ بتانا آسان نہیں کہ بروقت احساس ہو جانے کی صورت میں میرا ردِ عمل کیا ہوتا۔ ایک دفعہ کینیڈا کی میک گِل یونیورسٹی میں ایک کانفرنس میں پُر مغز مقالہ پڑھنے پر چند سو ڈالر ملے تھے، مگر انہوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ہوائی ٹکٹ کی رقم کے علاوہ یومیہ الاؤنس بھی پیش کیا جائے گا۔ گولڑہ شریف والے پیر نصیر الدین شاہ کی زیر صدارت برسوں پہلے پی او ایف واہ کی محفلِ مسالمہ میں جو کچھ ملا، وہ بھی نظامت کے فرائض ادا کرنے کا ’نذرانہ‘ تھا۔ تو یہ تازہ فیس کس کھاتے میں؟

خود کو تسلی دینے کے لئے خاصی گہرائی میں جا کر مَیں نے یہ مفروضہ قائم کرنے کی کوشش کی کہ ہو نہ ہو، یہ لفافہ میری کار کے پٹرول کا خرچہ ہے۔ پھر خیال آیا کہ بیوی سے مانگی ہوئی تیرہ سو سی سی کی میری موٹر سو روپے میں دس کلومیٹر کر لیتی ہے۔ آنے جانے کا فاصلہ پچاس کلومیٹر بھی لگا ؤں تو پٹرول کا خرچ 500 روپے بنا جو کل رقم کا دسواں حصہ ہے۔ اب اگر باقی رقم کا جواز نہ نکلا تو ضمیر کی احتساب عدالت کو کیا جواب دوں گا؟ چنانچہ اِس پہ غور ہونے لگا کہ میٹنگ کی کارروائی میں میرا رول تھا کیا۔ اچانک ایک دلیل سوجھی کہ درجن بھر ماہرین تعلیم کے اجتماع میں ایک خاتون اور ایک مَیں دو ہی لوگ ایسے تھے جو پی ایچ ڈی نہیں اور اسی کامپلیکس کو چھپانے کے لئے ہمیں باقی شرکا سے زیادہ بولنا پڑا۔ دونوں میں میری بلند گوئی اول نمبر پہ رہی کیونکہ میرے پاس ڈاکٹریٹ یا ایم فل تو کجا ابلاغیات کی ابتدائی ڈگری بھی نہیں۔

میٹنگوں کے تمدن سے آشنا لوگ میری نا سمجھی پر طنز کرسکتے ہیں کہ ’نواں آیا ایں سوہنیا؟‘ مراد یہ کہ اعلیٰ سطحی اجلاس یہی کچھ ہوتے ہیں اور اُن کی کارروائی ولا یوڑ قسم کی ہوتی ہے۔ میرے دوست سہیل قمر کے والد میجر جنرل قمر علی مرزا زندہ ہوتے تو ولا یوڑ کا ترجمہ ’لایعنی‘ کرتے اور بات ختم ہو جاتی۔ ہماری بات آسانی سے ختم نہ ہو سکی ، اِس لئے کہ اعتراض اٹھانے والی خاتون نے یونیورسٹی کی ویژن اسٹیٹمنٹ میں ایک غلطی کی نشاندہی کر دی۔ بیان کے تعارفی الفاظ ہیں ’یہ ادارہ اکنامکس، فنانس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور متعلقہ مضامین میں تدریسی اور تحقیقی ڈگریاں جاری کرتا ہے اور کرتا رہے گا‘۔ آپ نے ’متعلقہ مضامین‘ کو نشان زد کرتے ہوئے کہا ’کل کو ہم کوئی نیا کورس متعارف کرانا چاہیں تو اعتراض ہو گا کہ یہ متعلقہ مضمون نہیں۔اپنے اوپر خود ہی پابندی لگا کر اپنے اختیارات کے اسکوپ کو محدود کیوں کیا جائے؟‘

چونکہ فالتو علمیت کا بے موقع اظہار پنجابی دانشوری کا خاصہ ہے،اس لئے مَیں نے بھی مصنوعی متانت سے کام لیتے ہوئے کہہ دیا کہ ’متعلقہ مضامین‘ کی اصطلاح جورسپروڈنس کی رُو سے قانون کا سوال نہیں، حقائق کا سوال ہے۔ گویا یہ پیشگی طور پہ ہمیشہ کے لیے تو طے نہیں کیا جا سکتا کہ کون سا مضمون متعلقہ سمجھا جائے اور کون سا نہیں۔ اِس کا فیصلہ وقت آنے پہ ہم خود کریں گے۔ دلیل میں وزن پیدا کرنے کے لئے بندہ نے یہ بھی کہہ دیا کہ اکنامکس اور بزنس ایڈمنسٹریشن کو بنیاد بنائیں تو نفسیات، فلسفہ، تاریخ، زبان و ادب سبھی متعلقہ مضمون سمجھے جائیں گے۔ اِس چھوٹے سے نکتہ پر، پطرس بخاری کے بقول، وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھیے، بعض کم بخت تو دو غزلے بلکہ سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ آخر داد کا شور تھما تو اِس پہ اتفاق رائے ہو گیا کہ متعلقہ مضامین کو ’انسانی اور سماجی علوم‘ کے الفاظ سے بدل دیا جائے۔ دل نے کہا ’گل ہوئی نا‘۔

اب آپ سے کیا پردہ کہ اِس احساسِ تفاخر میں ایک گونہ اطمینان بھی شامل تھا کہ ہم نے ہائر ایجوکیشن کو بڑھاوا دینے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ اِس طرح کا ماڑا موٹا کردار ادا کرنے کی ابتدائی مشق پینتیس چھتیس سال پہلے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پہ ہوئی تھی۔ بزنس انگلش کورس کے جنرل ایڈیٹر کا کام چنداں مشکل نہ لگا کہ نصابی مواد کے انتخاب میں برٹش کونسل کے کنسلٹنٹ آلیور ہنٹ اور اور پروف ریڈنگ کے ضمن میں روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کے تربیت یافتہ صحافی مسعود سلمان کی رہنمائی حاصل تھی۔ آزمائش اُس وقت شروع ہوتی جب بندہٗ ناچیز کو کسی کسی دِن شعبہء انگریزی کی صدر کے غیر حاضر ہونے کی شکل میں کسی اعلی سطحی اجلاس میں شریک ہونا پڑتا۔ ایسے موقعوں پہ کبھی کبھار فارورڈ ہو کر جارحانہ شاٹ، وگرنہ بیک فٹ پہ مدافعتی اسٹروک اور اکثر و بیشتر محض ویل لیفٹ۔

پریکٹس جاری تھی کہ محدود اوور کے کھلاڑی کو ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لئے ایک دن اچانک وزارتِ تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ مَیں یونیورسٹی کی ایک میٹنگ میں صدرِ شعبہ کی ایکٹنگ کر رہا تھا کہ وائس چانسلر صاحب کو فون سننے کے لئے اُٹھ کر جانا پڑا۔ واپس آئے تو میرے قریب ہو کر کہنے لگے کہ ابھی ایجو کیشن منسٹر کے پاس چلے جائیں۔ تعمیل کرنے پہ پتا چلا کہ یہ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں ایک دوست کی شرارت ہے، جنہیں منسٹر صاحب کا دفتر چلانے کی خاطر اردو انگریزی جاننے والے کسی نوجوان کی خدمات فراہم کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ وزارت میں اُس کمیٹی کا ایک سچ مچ کا اعلی سطحی اجلاس برپا تھا، جسے کہتے تھے ’کمیٹی برائے تشہیرِ افکارِ اقبال‘۔ وزیر صاحب نے مجھے کارروائی قلم بند کرنے کی ہدایت کی، جس کی نقول صدرِ مملکت اور چیف جسٹس سمیت کئی مملکتی عہدیداروں تک پہنچانی مقصود تھیں۔ ساتھ ہی مجھے بھی اجلاس کے شرکا کے درمیان ’آگے ہو کر‘ بیٹھنے کے لئے کہا گیا تاکہ ٹی وی پہ کوریج بھرپور لگے۔ پھر میرے ہوتے ہوئے کئی اجلاس ہوئے اور میرے برطانیہ چلے جانے کے بعد بھی ہوتے رہے۔ اللہ کی قسم کبھی کسی نے نہ پوچھا کہ اِن کاوشوں کی بدولت فکر ِ اقبال کی ترویج میں کیا مدد ملی۔

نئے پاکستان میں بھی نیب نے تاحال نہیں پوچھا کہ ہر دو تین ماہ گزرنے پر ایک آراستہ و پیراستہ کمرے میں جمع ہونے والے ماہرین نے فروغِ تعلیم کے لئے اب تک کیا کچھ کیا ہے۔ خیر، ایک تو یہ نجی یونیورسٹی ہے، دوسرے ہم ایسا تحریری مواد اپنے قبضہ میں کر چکے ہیں جسے پڑھ کر اوسط درجہ کے سرکاری دانشور مطمئن ہو جائیں گے۔ یہی نہیں بلکہ عین ممکن ہے کہ تازہ اجلاس میں اردو کی افادیت پر (بزبانِ انگریزی) جن محترمہ نے زوردار تقریر کی اُن کی تعلیمی خدمات پہ تمغہئ حسن ِ کارکردگی کی سفارش بھی کر دی جائے۔ میرا مسئلہ اُن سے ذرا ہٹ کر ہے اور وہ یہ کہ اگلے مالی سال کے اختتام پر پانچ ہزار روپے کے اِس لفافہ جرنلزم کو قانونی آمدنی ڈکلیئر کروں یا نہ کروں۔ ایف بی آر اِس پر رہنمائی کرنے سے رہا۔ تو کیوں نہ ماضی میں لاہور کے بی بی سی بیورو میں ٹیلی فون لائن مین کو دی گئی دو ہزار روپے کی ماہانہ بخشش کی طرح اِس رقم کے آگے بھی لکھ دوں ’سروس چارجز اِن فارمل‘ یعنی خدمات کا غیر رسمی معاوضہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •