خان کی رہائی بڑی عید سے پہلے کیوں ضروری ہے؟

بڑی عید اس لئے بھی بڑی ہوتی ہے کہ ذمہ داریوں کا بھار بڑا ہوتا ہے۔ بنی گالہ جیسے علاقے میں جہاں گھر بڑے ہیں وہیں مارکیٹیں، دکانیں اور آبادی بہت کم۔ گنجان آباد محلوں اور آبادیوں میں رہنے والے ہم لوگ قصائی باآسانی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بنی گالہ میں رہنے والوں کو قصائی آسانی سے مہیا نہیں ہوتا۔ قربانی کا جانور اور مالک قصائی کے انتظار میں ہلکان ہوتے رہتے ہیں اور قصائی ندارد۔ خان عید سے پہلے رہا

Read more

سید کاشف رضا کا شعری مجموعہ: ممنوع موسموں کی کتاب

ایسے میں جب شاعر کا تیسرا مجموعہ کلام شعری دُنیا میں وارد ہونے کو ہو تب اُس کے گزشتہ کلام کا ذکر چھیڑنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ایک شخص جو ادبی منظر نامے پر کئی جہتوں اور حوالوں سے جانا جاتا ہو اُس کی اصل شخصیت کو کھوجنا کسی طور مشکل کام ہے۔ سید کاشف رضا کا نام سُنتے ہی دو حوالے تو فوراً آپ کے ذہن میں آتے ہیں، بطور مترجم اور بطور فکشن نگار۔ تعارف کا حوالہ

Read more

مصنف بیچارا اب منظر میں کیسے رہے؟

آج کل کتابیں جس تیز رفتاری سے آ رہی ہیں اسی تیز رفتاری سے پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے پہلے چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک برس تک کتاب کے نام کا دیا روشن رہتا ہے تیرہویں مہینے وہ بھی پھڑپھڑانے لگتا ہے۔ پبلشر لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ چلو پانچ سو اشاعت کے دو ایڈیشن (یعنی ہزار کتب) ایک برس میں بیچ دیے۔ سال بعد بلکہ نو ماہ بعد مصنف کی

Read more

جیسے لہور لہور ہے، ویسے تارڑ، تارڑ ہے

راوی جو لاہور شہر کے کنارے بہتا تھا خشک ہو چلا ہے مگر معلوم ہوتا ہے وہ راوی کہیں تارڑ کی شخصیت اور اس کی تحریروں میں سمٹ آیا ہے۔ جس کے کنارے آباد ہیں، جس کا پانی شفاف ہے جو سننے دیکھنے اور پڑھنے والوں کو سیراب کیے جاتا ہے۔ جیسے لہور لہور ہے ویسے ہی تارڑ، تارڑ ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بعد تارڑ وہ واحد لکھنے والا ہے جس کے ہاں زندگی اور تجربات کا تنوع ہے۔

Read more

فرخ سہیل گوئندی کا نگار خانہ (The Thirty Two)

فرخ سہیل گوئندی کے بارے میں ایک بات تو وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے، یہ آدمی امریکہ کے سفر پر ہو یا دنیا کی کسی سرزمین پر جہاں گردی کرتا ملے اس کا دل اپنے آبائی شہر سرگودھا کے لئے دھڑک رہا ہو گا، آنکھیں لاہور کی شاموں و سیاسی محفلوں کی راہ دیکھ رہی ہوں گی، اور ذہن رفتگاں کی یاد سے خالی نہ ہو گا۔ فرخ سہیل گوئندی کی اس کتاب The Thirty Two کے بارے

Read more

ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی، مرزا فرحت اللہ بیگ کی زبانی

مولانا محمد حُسین آزاد کی آبِ حیات کے بارے میں محمود الحسن سے ہمکلام ہوتے ہوئے انتظار حُسین صاحب نے کہا تھا ”میں اسے ناول کہتا ہوں۔ اس میں پورا عہد جیتا جاگتا نظر آتا ہے۔ شاعر چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، لڑتے بھڑتے دکھائی دیتے ہیں، محفلیں تصویریں بن کر سامنے آ جاتی ہیں۔ اس میں ناول کے امکانات نظر آتے ہیں۔“ کہنے کو ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی ادب کی فارم کے مطابق خاکہ ہے اور بیشتر نقاد

Read more

نِکا: زندگی کی پرتیں کھولتا ہوا انیس احمد کا ناول

ناول کو پڑھنے سے پہلے ہی قاری اس ناول کے عنوان سے چونک اٹھتا ہے۔ نِکا؟ ارے یہ تو کسی کردار کا نام ہے۔ ناول میں کیا ہے؟ قاری کو ناول کے نام سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ اُسے تجسس رہتا ہے اور وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسا ناول نگار ہے جس نے ناول کے بارے میں کچھ بھی ناول کے عنوان میں نہیں بتایا۔ ہمارے ہاں ناول کے عنوان سے ہی ناول کا بیانیہ تشکیل

Read more

اقبال خورشید کا فن انٹرویو اور فکشن سے مکالمہ

”وہ بوڑھا ہو گیا تھا۔ چند دانت گر گئے۔ بہت سے بال سفید ہو گئے۔ مجھے وہ توقع سے زیادہ پراسرار اور تروتازہ محسوس ہوا۔ تو میں نے اسے دیکھا (گو میں اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا) ، اور اسے سنا، (گو پہلے بھی سن چکا تھا) ، اور اس آواز کو اتنا ہی جوان پایا، جتنی وہ پہلے تھی۔“ یہ کتاب محض مکالموں کا بیان نہیں، سپاٹ سوال و جواب کی تکرار نہیں، انٹرویو جب ہونے والی گفتگو

Read more

کتاب کی کشش کم نہ ہوگی

یہ کوئی سولہ برس پرانی بات ہوگی، جب اخبار پڑھنے کی چیز ہوا کرتا تھا، زیادہ صفحات کے ساتھ خریدنے کی استطاعت میں بھی تھا۔ ایک لڑکا جس نے آج تک غیر نصابی کتب کے سوا کوئی کتاب نہ خریدی تھی وہ اخبار متواتر خریدتا، ایڈیٹوریل صفحہ فولڈ کر کے کالج کے بستے میں ڈال دیتا۔ گھر سے کالج کی راہ تک دو سوزوکیاں بدل کر سفر انجام کو پہنچتا تھا۔ اس کا یہ معمول تھا کہ دو کالم کالج

Read more

گلاب گنج کی کہانی، کردار اور لینڈ اسکیپ

معلوم نہیں ہندوستانی سینما کا مستقبل فلم میں تاریک ہے یا روشن مگر سیزن کی حد تک تو انہیں کامیابی بہر حال حاصل رہی ہے۔ ہندوستانی سیزن کا مقابلہ قطعی طور پر ہالی ووڈ سیزن سے نہیں کیا جا سکتا مگر میرا ذاتی خیال ہے سیزن کی فارم ہندوستانی سینما کو کافی حد تک راس آ چکی ہے۔ فلم اور سیزن میں وہی فرق ہے جو شارٹ اسٹوری یعنی افسانے اور ناول میں ہے۔ افسانے کے اپنے حدود و قیود

Read more

رفعت عباس کا ناول: نمک کا جیون گھر

یہ ایک گمبھیر اور منفرد ناول ہے۔ یہ کسی ایک انسان اور اس کے معاشرے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ اس وقت سے لے کر جب سے انسان نے اس دنیا میں آنکھ کھولی ہے اور اب انسان جس مقام پر ہے یہ تب تک کی کہانی ہے۔ انسان کے زمین پر بسنے کی داستان سے لے کر اکیسویں صدی تک کے سفر میں انسان سے ایسی کیا غلطی ہوئی کہ خدا، جنگ اور موت انسان کے لئے لازم و

Read more

بینگن کھا کر دن میں جو خواب آتے ہیں

دو بجے کے قریب بستر پر بیٹھے بیٹھے لنچ کیا، لنچ کیا تھا بینگن تھے وہ بھی بنا گوشت کے، بنا آلو کے، ساتھ میں ماں نے سلاد بنا کر دے دیا تھا کہ ہائے سادہ سالن بنا گوشت کے دیکھ کر میرے پتر کا دل نہ اتر جائے۔ اب سلاد میں کیا تھا، پیاز، کھیرے اور گاجروں کے چند سلائس۔ گھر میں آٹا نہ کسی نے گوندھا تھا، نہ ہی ارادہ تھا۔ سو گھر کے پاس ایک تندور سے،

Read more

میری جان! مسئلہ چھوٹے کپڑوں کا نہیں ہے

ارض پاک میں لیڈران کی روح اور عوام کی روح میں بنیادی فرق کشف کا ہے۔ اس کشف کا دار و مدار کبھی ایک فقیر کی نگاہ پر ہے تو کبھی دوسرے فقیر پر۔ گو کہ ان فقراء نے چولا ضرور پہن رکھا ہے مگر رنگ سبز نہیں ہے۔ خیر ہم فقیروں سے آگے بڑھتے ہوئے فرق بیان کرتے ہیں لیڈران پڑھے لکھے بلکہ انتہائی پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹریٹ کی جو ڈگری حاصل کرنے واسطے عوام کو فرہادی تیشہ

Read more

”دل بھٹکے گا“ تک دل کیسے پہنچا!

کوئی خاص چیز جو آپ خرید کر کھاتے ہیں، پہنتے و اوڑھتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ رات خواب میں جھلک آوارد ہوئی اور اگلی صبح آپ تکمیل کو پہنچ گئے، ہاں معاملہ محبوب کو اس میں استثناء حاصل ہے۔ کچھ چیزیں آپ تبھی خرید اور دیکھ لیتے ہیں کہ چلو میاں یہ تو پوری قوم کر رہی۔ کھادی کے کپڑے، ارطغرل غازی اور گیم آف تھرانز کا سیزن، کچھ چیزیں صرف اس اس لیے چل رہی ہیں کہ کوئی

Read more

ایک لبرل جاوید منزل پر تلاشِ اقبال میں!

ہم تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ملک کے شہری ہیں۔ ہمارے سوچنے اور سمجھنے کے پیمانے مختلف ہیں۔ ہماری اپنی آنکھوں کی بینائی کم ہے کہ کبھی کبھی کسی شے کو دیکھنے کیلئے بھی ہم دوسرے کی آنکھوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اقبال کو ہم نے اتنے رنگوں میں رنگ دیا ہے کہ خود اقبال کا اپنا رنگ اب کھو سا گیا ہے۔ ہم یا تو اقبال کو ریاستی بیانئے کے توسط سے جانتے ہیں جسے ریاست نے قومیت

Read more

کیا فرشتہ مہمند نے چست ٹراؤزر پہن رکھا تھا؟

فرشتہ مہمند کا ریپ ہوا. ہم نے اپنی بیٹی کا جنازہ جنگل سے اٹھایا اور جنگل میں دفن کر آئے. 18 مئی 2019 کو رات کے دو بجے 22 سالہ لڑکی کا پنڈی کے رہائشی علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں تین پولیس کانسٹیبلز نے گینگ ریپ کیا. ریپ کے واقعات جتنے پہلے ہوتے تھے آج بھی کم و بیش اتنے ہی ہو رہے ہیں. آجکل فائدہ یہ ہے کہ میڈیا کے باعث یہ واقعات رپورٹ ہو جاتے ہیں. سوشل میڈیا میں

Read more

مہنگے پیٹرول کی خوبیاں

تحریر کے آغاذ میں ہی اعلان کرتا چلوں کہ میں لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انصافین بھی ہوں۔ سو مجھے تنقید برائے تنقید کا کوئی شوق نہیں۔ میں ان دائمی جراثیموں سے پاک ہوں۔ میں اس قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں جو مثبت تنقید کا داعی ہے۔ معلوم نہیں ہمارے عوام الٹا سیدھا کیسے سوچ لیتے ہیں۔ مثبت سوچنے کا تو ہمارے ہاں رواج ہی نہیں ہے۔ مثبت سوچنا کتنا آسان ہے اور اس کے کیا کیا فائدے ہیں

Read more