اپنے ہی گھر کا دروازہ نہ کھلے تو کوئی کہاں جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے وہ دن یاد ہے، جب میں بنک میں اپنے روزمرہ معمولات نپٹا رہی تھی۔ ہلکے میک اپ، اچھی تراش خراش کے سوٹ میں ملبوس، وہ جھجکتے جھجکتے، آہستہ خرام میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ میں نے اس پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی، تو اس کی ڈریسنگ سینس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
’’سلام۔ میرا نام شیزی ہے‘‘۔
اس کی بھاری مردانہ آواز سن کر میں چونکی، لیکن مشاق اور خوش اخلاق سیلز مین کی طرح اسے بیٹھنے کو کہا۔ ’’فرمائیے؟ میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں‘‘؟
میں نے محسوس کیا، کہ اس دوران میں بنک میں موجود ہر شخص کی نظر ہمیں پر ہے۔ لبوں پر طنزیہ مسکانیں، آنکھوں سے تمسخر عیاں تھا۔

شیزی نے بتایا، کہ وہ ایک ماڈل ہے۔ مختلف ایجنسیوں کے ساتھ اس کے معاہدے ہیں۔ وہ بنک میں اپنا اکاؤنٹ کھولنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ اُسے کار لیزنگ کی معلومات درکار تھیں۔ میں نے تسلی سے اسے سمجھایا، اس کے ساتھ وہ سلوک برتا، جو ایک معزز گاہک کا حق ہوتا ہے۔ ایسے عزت سے بات کرنا ہی اس کے اعتماد میں کئی گنا اضافہ کر گیا۔ میں نے اس کے میک اپ کی تعریف کی، تو وہ کھلکھلا کے ہنس دی۔

گزشتہ روز میں نے سوشل میڈیا پر ایک وائرل وڈیو دیکھی۔ یقین جانیے، میں ابھی تک اسی کے ٹرانس میں ہوں۔ اُس کی بھیگی آنکھوں اور لڑکھڑاتی آواز سے چھلکتا درد ستائے چلا جا رہا ہے۔ وہ اپنا قصہ یوں بیان کرتی ہے، کہ کام سے واپسی پر وہ تھکن سے چور ہے۔ اسے گھر جیسی جائے پناہ چاہیے۔ یہ جاننے کے باوجود کہ اُس بستے مکان میں کوئی اُس کا منتظر نہیں، پھر بھی اُس کے قدم وہیں کو اُٹھتے ہیں۔ وہ دروازے پر کھڑی دستک دیتی ہے۔ ایک بار، دو بار، تین بار، بار بار۔ مکان میں موجود نفوس کی صدائیں، باہر دروازے پہ سنائی دیتی ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اندر بیٹھے، وہ اُس کی دستک کی آواز سن رہے ہیں، لیکن اُن میں سے کوئی بھی اس کے لیے دروازہ نہیں کھولتا۔ یہ کہانی ہر روز خود کو دُہراتی ہے اور اس کی اکثر راتیں یونہی سڑکوں پر گزر جاتیں۔

اس کی کہانی سن کے مجھے ٹریفک سگنل پر کھڑی صائمہ یاد آ گئی۔ شام کو دفتر سے گھر جاتے، اس سگنل پر رکنا ہو، تو وہ کھڑکی پر دستک دیتی ہے۔ میک اَپ کی دبیز تہہ میں چھپا ایک مسکراتا ہوا چہرہ۔ وہ دست سوال دراز کرتی ہے۔ ریزگاری دینے کے لیے کھڑکی کا شیشہ نیچے کرتی ہوں، تو اُس کے بدن سے اُٹھتے پسینے کی نا خوش گوار بو میرے نتھنوں سے ٹکراتی ہے۔ بھیک لینے کے بعد وہ مخصوص انداز میں دعائیں دے کر اگلی گاڑی کی طرف بڑھ جاتی ہے۔

ٹرانس جینڈر، مخنث، تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے یہ تین کردار۔ عام لوگوں کی طرح ان تینوں کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں، لیکن معاشرے کے دھتکارے ہوئے یہ تینوں کردار، یکساں نہیں ہیں۔ وہ جسے ماں، باپ اور سگے رشتوں نے ٹھکرا دیا، جو ساری رات سڑک پر صرف اس لیے چلتے چلتے گزار دیتی ہے کہ کہیں رُکنا محفوظ نہیں ہے۔ باوقار  لباس پہنے، سلیقے سے کیے میک اپ کے ساتھ، اپنے ایک محفوظ معاشی مستقبل کے بارے میں بینکر سے گفتگو کرنے والی شیزی، اور ٹریفک سگنل پر بھیک مانگتی صائمہ، بہ ظاہر ایک جیسے دکھائی دیتی ہیں، لیکن ایک سی نہیں ہیں۔ یہ تین زندگیاں آخر ایک جیسے کیوں نہیں ہیں؟ جب اپنی ماں، ماں جائے، اور اولاد کے درد کو اپنے کلیجے میں محسوس کرنے کا دعوا کرنے والا باپ ہی، اپنی اولاد کو قبول کرنے پر تیار نہیں، تو سماج سے کیسا شکوہ؟

شیزی کو اس کے والدین، بہن بھائی اور دوستوں کی توجہ حاصل رہی۔ اس کے والدین نے اسے تعلیم دلائی۔ شیزی کے پاس محبت اور قبولیت کا بخشا ہوا اعتماد تھا۔ آج شیزی معاشرے میں ایک آزاد اور خود مختار زندگی بسر کر رہی ہے، اگر چہ اسے تمسخرانہ رویوں کا سامنا رہتا ہو گا، لیکن پھر بھی باقی دو سے اس کی کہانی الگ ہے۔ باقی دو شائد اتنی خوش قسمت ثابت نہیں ہوئیں، جتنا کہ شیزی، جس کا گھر اُس کی جائے پناہ ہے۔

’’تیسری جنس کے متعلق قانون سازی کی جائے‘‘، ’’ان کے لیے شیلٹر ہوم بنائے جائیں‘‘، ’’سرکاری ملازمتوں میں ان کا کوٹا مختص کر دیا جائے‘‘۔ عموماََ اس طرح کے مطالبے کیے جاتے ہیں، اور کہیں نہ کہیں ارباب اختیار شاید اس بارے میں کچھ کر بھی رہے ہوں گے۔ اب تک ایسے کتنے منصوبے پایہء تکمیل کو پہنچے؟ لیکن محض اس سے کیا ہو گا؟

یہاں اس کمیونٹی کی بہبود کے لیے، حکومتی اقدامات کے بارے میں مجھے کچھ نہیں کہنا۔ یہاں میرے مخاطب آپ ہیں۔ مجھے آپ سے فقط اتنا کہنا ہے، کہ جب بھی کسی ٹرانس جینڈر سے سامنا ہو، آپ اپنی نگاہوں اور لہجے میں چھپے تجسس کو قابو میں رکھیے۔ ان سے اسی طرح عزت سے پیش آئیے، جیسا کہ کسی عام مرد، عام عورت یا عام بچے سے پیش آیا جانا چاہیے۔ جس طرح قدرت نے، پیدایش سے پہلے ہمیں اپنی جنس کے تعین کا اختیار نہیں دیا، اسی طرح ان کے پاس بھی اختیار نہیں تھا، کہ انھیں کس روپ میں پیدا کیا جائے۔ معاشرے کی طرف سے بحیثیت فرد قبولیت، ان کے اعتماد کے لیے پہلا زینہ ہے۔ ممکن ہے آپ  کے مہذب رویوں سے کئی صائمائیں، کل کو شیزی کی طرح ماڈل بن پائیں، دفتروں میں کام کریں، ہنر مند بن کر اپنی زندگی جی سکیں۔ آدمی تو یہاں بہت ہیں، اتنے جتنے سر گنے جا سکتے ہیں، انسان کم کم ہیں۔ ہم آپ انسان ہیں، تو انسانوں جیسے رویے کیوں نہ اپنائیں!

لمحے کے لمحے ٹھیر کر، زرا اس کا کرب محسوس کیجیے، جس پر اپنے ہی گھر کا دروازہ نہ کھلے اور وہ سوچتا ہو، کہ اب کہاں جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آمنہ سویرا کی دیگر تحریریں
آمنہ سویرا کی دیگر تحریریں