بھارت میں اپنی شناخت کے لیے لڑنے والے لورالائی کے ہندو پشتون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لورالائی بلوچستان کے پشتون بیلٹ میں واقع ہے، جسے انگریزوں نے 1903 میں ضلع کا درجہ دیا۔ لورالائی قصبہ اس کا صدر مقام تھا۔ 1992 میں لورالائی کو مزید حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ جب موسیٰ خیل اور بارکھان کو انتظامی طور پر ضلع کا درجہ دیا گیا۔ دو سال قبل لورالائی سے تحصیل دکی کو بھی الگ کر کے ضلع کا درجہ دیا گیا ۔ لورالائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے بعد صوبے کا واحد شہر ہے، جس میں مختلف زبانیں بولنے والی قومیں، باہم امن وخوش حالی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ پاکستان کی آزادی سے قبل ضلع لورالائی میں بڑی تعداد میں ہندو بھی آباد تھے۔ بالی وُڈ کے لیجنڈری ایکٹر آں جہانی راج کمار کا تعلق بھی لورالائی کے ایک کشمیری پنڈت خاندان سے تھے۔ وہ 8 اکتوبر 1926 کو لورالائی میں پید اہوئے۔ قیام پاکستان سے قبل وہ ممبئی گئے۔ جہاں راج کمار نے بحیثیت سب انسپکٹر، پولیس جوائن کی۔ انھوں نے بعد میں اداکاری شروع کی۔ انھوں نے نا صرف ہندی سینما پر، بلکہ کروڑوں دلوں پر بھی راج کیا۔

قیام پاکستان کے بعد ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان اور ضلع لورالائی سے ہندو برادری نے بھارت ہجرت کی۔ جب ہندو پاکستان چھوڑ کر جا رہے تھے، تو ضلع لورالائی کے مختلف علاقوں سے جانے والے ہندووں کو مقامی پشتونوں نے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ رخصت کیا۔ قبائل نے ہندوں کے قافلوں کو اپنی حفاظت میں بھارت کی سرحد تک پہنچایا ۔

لورالائی سے ہجرت کرنے والے بعض ہندوں نے جے پور میں سکونت اختیار کی، جہاں آج بھی ان کے بڑے پشتون ثقافت کی طرز پر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے بزرگ آج بھی ٹو ٹی پھوٹی پشتو میں بات کرتے ہیں۔ وہ خود کو پشتون کاکڑ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ بوڑھی خواتین وہی کپڑے پہنتی ہیں، جو آج بھی بلوچستان کی پشتون خواتین پہنتی ہیں۔ قمیص پر کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ پہلے اس پر سکے لگائے جاتے تھے، اب یہ رواج بہت کم ہو گیا ہے۔ کشیدہ کاری والے کپڑے عام ہیں، لیکن اب قمیصوں پر سکے بہت کم لگائے جاتے ہیں۔ ان خواتین کے چہروں پر شین خال لگے ہوتے ہیں، جو آج بھی پشتون خواتین شوق سے لگاتی ہیں۔

گزشتہ سال برطانوی نشریاتی ادارے نے ان خواتین اور مردوں سے انٹرویو لیا۔ ہندو کاکڑ خواتین نے بتایا کہ وہ آج بھی پشتو بولتی ہیں اور خود کو پشتون کہنے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔ ایک معمر خاتون نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے پشتو نہیں بولتے، جس کی وجہ سے ہماری مادری زبان ختم ہوتی جا رہی ہے۔ تلسی داس جو دس سال کی عمر میں لورالائی سے جے پور گئے تھے، کہتے ہیں کہ جب ہم یہاں آئے تو مقامی لوگ ہمیں ہندو نہیں سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تم لوگ مسلمان ہو، تمھارے کپڑے، رہن سہن سب کچھ مسلمانوں جیسا ہے۔ ایک خاتون نے بات چیت کرتے کہا کہ لورالائی (پاکستان) میں ہم اچھی زندگی گزار رہے تھے۔ ہمارے گھروں میں ہر وقت بادام اور کشمش سمیت دیگر خشک میوہ جات کی بوریاں پڑی رہتی تھیں۔ یہاں ہمیں چنے بھی میسر نہیں۔ خاتون نے کہا کہ ہم سب کچھ میختر اور بوری میں چھوڑ کر روانہ ہوئے۔ ہم بھارت میں ستر سال سے اپنی شناخت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہندو برادری کی یہ بزرگ خواتین ایک بار پھر اپنے آبائی علاقے لورالائی جانے کی خواہش مند ہیں۔

اس خاندان کی تیسری نسل کی ایک لڑکی شیلپی جو اپنی مادری زبان پشتو کو بچانے کے لیے ایک ڈاکیومنٹری فلم ”شین خالئی“ بنا رہی ہے، کا کہنا ہے کہ میرے خاندان کی بوڑھی عورتیں آج بھی جب اپنے ماضی کو یاد کرتی ہیں، تو پشتون روایتی رقص (اتن) کرتی ہیں۔ پشتو گانے ”کاکڑی ٹپے“ گاتی ہیں۔ وہ بتاتی ہے، کہ جب ہماری برادری میں شادی بیاہ کی تقریبات ہوتی ہیں، تو پشتون روایتی رقص ”اتن“ کا اہتمام ضرور کیا جاتا ہے۔ شیلپی خود بھی کاکڑی ٹپے اور غاڑی شوق سے سنتی ہے۔ شیلپی نے کہا کہ جب ہم بچپن میں اپنی دادی اور نانی کو اپنے ساتھ بازار یا کہیں اور لے جانے کی ضد کرتے تھے، تو وہ ہمارے ساتھ جانے سے انکار کر دیتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ ہمارے چہروں پر ”خال“ لگے ہیں، لوگ ان کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں، ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ شیلپی نے اپنے ہاتھ پر شیلپی نام خال سے لکھا ہوا ہے۔ شیپلی کہتی ہیں کہ جے پور میں پانچ چھے سو نفوس پر مشتمل ہمارا خاندان آباد ہے۔ ان کا کہنا کہ میری دادی اور والدہ اچھی پشتو بولتی ہیں۔ میں نے اپنی دادی اور نانی سے لورالائی پاکستان کی کہانیاں سنتی ہوں۔ وہ اپنے آبائی علاقے میختر اور لورالائی کو بہت یاد کرتی ہیں اور بہت تعریف کرتی ہیں۔

شیلپی نے افغان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھارت میں ہمارے لوگ اپنی شناخت پنجابی بتاتے ہیں، جو کہ غلط ہے، کیوں کہ ہم پشتون ہندو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں ڈاکیومنٹری فلم بنا رہی تھی تو مجھے معلوم ہوا کہ بھارت کے دیگر شہروں میں پشتو بولنے والے ہزاروں افراد موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے، کہ ہم اپنی نئی نسل کو پشتو کی طرح راغب کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم پشتون نوجوانوں میں کتابیں بھی تقسیم کر رہے ہیں، تا کہ ہم ایک بار پھر اپنی مادری زبان پشتو کو فروغ دے سکیں۔

زیر نظر تصویر میختر کی ایک دکان کی ہے، جو ایک ہندو کی ملکیت تھی۔ یہ دکان آج بھی اسی مقفل حالت میں موجود ہے، جیسے وہ چھوڑ کے گیا تھا۔ تصویر ایک فیس بک پیج (دکی نیوز) سے لی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •