لیاقت علی کی شہادت کے بعد جنرل ایوب خان نے کیا دیکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیام پاکستان کے بعد، قائد اعظم نے مسلم لیگ کی قیادت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد خرابی صحت کے با وجود، قائد اعظم کی شدید خواہش تھی، کہ وطن عزیز کے لیے جلد از جلد جمہوری و فلاحی  قابل عمل آئین تشکیل دے سکیں۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی قائد اعظم، وزیر اعظم لیاقت علی خان کی کارکردگی  سے مطمئن نہیں تھے۔ دونوں رہنماوں کے کشیدہ تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے تھے، جس کی خبر اور توقع عوام کو نہ تھی۔  قائد اعظم اور قائد ملت کے درمیان کشیدہ تعلقات کا تذکرہ اہم سرکاری و حکومتی عہدوں پر فائز معروف قانون دان مرحوم  شریف الدین پیر زادہ نے اپنی کتاب ‘لاسٹ ڈیز آف دا قائد ‘ میں کچھ اس طرح کیا ہے، کہ جب قائد ملت زیارت میں قائد اعظم کی عیادت کو پہنچے، تو قائد اعظم نے اپنی ہمشیرہ سے کہا (ترجمہ):  ‘تم جانتی ہو کہ وہ (قائد ملت) کیوں آیا ہے؟ وہ جاننا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور میں کتنی دیر زندہ رہوں گا’۔
قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ دوسری طرف وطن عزیز کے مشرقی بازو کے عوام بھی حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں تھے اور طلبہ اپنے حقوق کی جدوجہد کے لیے مظاہرے کر رہے تھے۔ جنرل ایوب خان کی مشرقی پاکستان میں بحیثیت جی او سی تعنیاتی قائد اعظم کے حکم پر ہوئی تھی۔ قائد اعظم نے جنرل ایوب خان کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر تو کر دیا تھا، لیکن کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم نے جنرل ایوب خان کے بارے میں فائل پر لکھا کہ:  ‘میں اس آرمی آفیسر کو جانتا ہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دل چسپی لیتا ہے۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا’۔
جنرل گریسی نے قائد اعظم کے کشمیر فوج بھیجنے کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس لیے ان کی مدت ملازمت بڑھانے پر غور نہیں کیا گیا۔ جنرل گریسی نے جنرل ایوب خان کو نئے کمانڈر انچیف بنانے کی سفارش کی اور قائد ملت کو متنبہ کیا کہ جنرل ایوب کی سیاست میں دل چسپی پر نظر رکھی جائے۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد سیاست دانوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، اور سیاست دان مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ نظریہ پاکستان اور اس کے خالق کو بالکل بھلا دیا گیا۔ سیاست دانوں کے آپسی اختلافات کی وجہ سے جمہوری ثقافت پروان نہ چڑھ سکی۔ پاک  بھارت جنگ کے بعد بھارت کو مملکت کا اولین دشمن قرار دے دیا گیا اور قومی وسائل جو نو زائیدہ مملکت کی ترقی اور تعمیر نو کے لیے استعمال کیے جانے چاہیے تھے، اس کا بڑا حصہ فوج کے لیے مختص کر دیا گیا۔  قائد ملت نے جنرل ایوب خان کو کمانڈر انچیف نام زد کر دیا۔ جنرل ایوب خان کو عہدہ سنبھالتے ہی فوج میں مبینہ بغاوت (راول پنڈی سازش کیس) کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مبینہ سازش کو کچلنے کے بعد جنرل ایوب خان کا حکومتی امور میں اثر و رسوخ بڑھ گیا۔
قائد ملت لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر  1951  کو راول پنڈی میں لیاقت باغ میں شہید کر دیا گیا، جب وہ ایک جلسہ عام سے خطاب کر ر رہے تھے۔ قاتل کو موقع ہی پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ قاتل کو ہلاک کرنے کے بعد قتل کی سازش کا بے نقاب ہونا بعید از قیاس تھا۔ قائد ملت کی شہادت کے بعد گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا اور سابق بیورو کریٹ اور ملک کے پہلے وزیر خزانہ غلام محمد نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھال لیا۔ یوں قائد ملت کی شہادت کے بعد سیاسی و حکومتی خلا سول اینڈ ملٹری بیورو کریسی نے پورا کیا۔ جنرل ایوب خان نے قائد ملت کی شہادت کے بعد اپنے تاثرات اپنی کتاب ‘فرینڈز ناٹ ماسٹرز’ میں قلم بند کیے ہیں۔ جنرل ایوب خان کے مطابق قائد ملت کی شہادت کے بعد (ترجمہ): ’’میں نے کراچی میں کابینہ کے کئی اراکین سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم سے بھی ملا۔ ان میں سے کسی نے خان قائد ملت کا ذکر تک نہیں کیا اور نا ہی میں نے ان سے ہم دردی اور افسوس کا کوئی لفظ سنا۔ گورنر جنرل کو بھی احساس نہیں تھا کہ ملک ایک ممتاز اور اہل وزیر اعظم سے محروم ہو گیا ہے۔ میں حیران تھا کہ یہ لوگ اس قدر سنگ دل، بے حس اور خود غرض بھی ہو سکتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہر ایک کو ترقی مل گئی ہے۔ یہ میرے لیے نفرت انگیز اور بغاوت پر آمادہ کرنے والا رویہ تھا۔ مجھے واضح طور پر یہ تاثر ملا کہ وہ سب سکون محسوس کر رہے تھے کہ واحد شخصیت جو ان کو کنٹرول کر سکتی تھی، منظر سے ہٹ گئی ہے‘‘۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •