پڑھانا مت، لڑکی گھر سے بھاگ جائے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کے معاملے میں پدری سماج کے جبر کو بھلا کر ہمیشہ سے اپنی پگڑی عورت کے دائیں بائیں تلاش کی جاتی رہی ہے، یہ عام طور پر اس معاشرے کا المیہ ہے۔ معاشرے میں بیٹی کو برابر کا انسان کم لیکن اسے اپنی عزت زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ عزت اس بیٹی کو کبھی عزت کی زندگی نہیں دلا سکی۔ دو وقت کی روٹی تو خیر مل ہی جاتی ہے لیکن اپنی عزت کو ملکیت کے حقوق سے دست برداری سمیت خود کفالت کی زیادہ مخالف اور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ پدری معاشرے میں کچھ آزاد خیال لوگ بھی منافقانہ رویہ رکھتے ہیں، جو عورت کی آزادی پر یقین زیادہ اور خود کفالت پر کم رکھتے ہیں۔

ان سب وجوہ میں زیادہ مسائل بیٹی پڑھانے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ باپ بمشکل بیٹی کو اسکول یونیورسٹی بھیجتا ہے تو اس کے پیچھے پورا محلہ یا گاوں لگ جاتا ہے۔ پانچ چھے سو لڑکیوں میں سے کوئی ایک یا دو، گھر سے بھاگ جانے والی، ہراسمینٹ کا نشانہ بننے والی یا تعلیمی میدان میں ناکام ہونے والی لڑکی کی مثال دے کر لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ وہی لوگ جو سیکڑوں سماجی ظلم و جبر کی روایتوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں جو صدیوں سے عورت کے معاشی استحصال سے لے کر اسے کئی طرح کی اذیتوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ اذیتیں بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہیں۔ ایسے سماج میں بیٹی کو پڑھانے والے باپ کو ہر دوسرے فرد سے یہ فقرہ سننے کو ملتا ہے:
’’پڑھانا مت! بیٹی بھاگ جائے گی‘‘َ۔

ان سے جو فرسودہ عورت دشمن رسومات میں اُلجھے ہوئے ہیں، وہ لوگ جو:
● نوجوان بیٹیاں کنیز بنا کر دربار پر پیروں کے پاس چھوڑ آتے ہیں۔
● بیٹی کی زندگی کا فیصلہ لکھ کر اسے سزائے مرگ کی طرح سنا دیتے ہیں۔
● بیٹیوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔
● بیٹیاں ’’کالی‘‘ قرار دے کے قتل کرتے ہیں۔
● بیٹیوں کو رشتے جوڑنے کی خاطر استعمال کرتے ہیں۔
● لوگوں کی خوش نودی کے لیے ان کو بیٹیاں دے دیتے ہیں۔
● کم سن بیٹیاں بڑی عمر والوں سے بیاہ کر، ان کے ریپ کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں۔
● ملکیت میں حصے نہ دینے کے لیے کاغذوں میں انھیں مردہ تک لکھوا دیتے ہیں۔
● گھر میں قیدی بنا کر، غلام بنا کر رکھتے ہیں۔
● گھر میں قید عورتوں کو کسی چیز کی پسند کا حق نہیں دیتے۔
● اپنی بیٹیاں ابنارمل رشتے داروں کو بیاہ دیتے ہیں۔
● خود قتل، زنا، جرم، کر کے بیٹی کا رشتہ ونی میں دے کر، اسے پوری زندگی قید بامشقت کی سزا سنا دیتے ہیں۔
● جو بچیوں کو دو کوڑی کے لیے ترسا ترسا کر مار دے دیتے ہیں۔
● جو بچیوں کو  مجمع میں کوڑے مارتے ہیں۔
● جو بچیوں کو مجمع میں سنگ سار کرتے ہیں۔
● جو جھوٹے الزام لگا کر رسوا کرتے ہیں۔
● جن کی غیرت بچیوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔
● جن کو کبھی خود پر تو غیرت نہیں آتی لیکن پوری زندگی ان کی غیرت بچیوں کے گرد گھومتی ہے۔
● جو راہ چلتی عورت کو دیکھ دیکھ کر مار دیتے ہیں۔
● اور وہ جن کی بیٹیاں گھر میں جوبن گزار دیتی ہیں۔
● وہ جن کی بیٹیاں ملکیت اور حیثیت کے جھگڑوں میں حسرتوں کو مار دیتی ہیں۔
● وہ جن کے توسط سے بازار حسن بنا۔
● وہ جن سے چار سال کی زینب تک محفوظ نہیں۔
● وہ جن کی ہوس کی وجہ سے خواجہ سراؤں کو ایک عزت دار زندگی نہ مل سکی۔
● وہ جن کی وجہ سے چکلوں میں شمع جلا کرتی ہے۔
● وہ جن کی وجہ سے قحبہ خانوں میں رقص چلتا ہے۔
● وہ اکثر جو بھوکی بھکارن کو چھاتیوں میں گھور کر اللہ کے نام پر دو روپے دیتے ہیں۔
● وہ جن کی وجہ سے دیورا در دیوار جنسی کم زوری کے اشتہار آویزاں ہیں۔
● وہ جو خواب کھاتے لہو پیتے ہیں۔
● وہ جو کتا نہیں کھاتے لیکن ویاج کھاتے ہیں۔
● وہ جو دھرم رکھتے ہیں رحم نہیں رکھتے۔
● وہ جو داڑھی رکھتے ہیں بھرم نہیں رکھتے۔
● وہ جو پگڑی رکھتے ہیں شرم نہیں رکھتے۔
● وہ جو خنزیر نہیں کھاتے حق کھا جاتے ہیں۔
● ہاں وہی جو مونچھوں کو تاو دے کر خواجہ سراؤں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔
● وہ لوگ جو ورجنٹی ایکپلوائیڈ ہونے پر نوبیاہتا کو کالی قرار دے دیتے ہیں۔

سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب کے بہت سے قبائل میں ’پاک دامنی‘ نام کی ایک رسم موجود ہے۔ اس میں گاوں کے نیک مرد یا لڑکی کے باپ کے سامنے نوبیاہتا کی چارپائی پر سفید چادر بچھائی جاتی ہے۔ جس پر دُلھا دُلھن سہاگ رات مناتے ہیں۔ اس کے بعد فورا اسی چادر کو چیک کیا جاتا ہے، اگر اس پر دُلھن کےکنوار پن کے خون کے دھبے پائے گئے ہوں، تو ٹھیک ہے، ورنہ اس لڑکی کو کالا قرار دیا جاتا ہے اور اسی وقت قتل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی عورت دشمن رسم ہے، جس سے کئی عورتیں کاری قرار دے کر قتل کی جا چکی ہیں۔ سائنس با رہا بتا چکی ہے کہ دوشیزگی زائل ہونے کی وجہ صرف مباشرت ہی نہیں، اور بھی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں۔

بیٹی کو تعلیم دینے والے باپ کے دائیں بائیں ٹرٹراتے ’’بیٹی کو مت پڑھانا بھاگ جائے گی‘‘، سے کہنا ہے، اگر دس سال کی بچی کی پچاس سالہ سے شادی رچائی جائے، اس سے تو اچھا ہو گا، لڑکی گھر سے بھاگ جائے۔ بھاگ کر کہاں جائے گی؟ وہ اپنے مستقبل کی جستجو میں، بھاگ بھاگ کر تھک جائے گی، تب جا کر وہ کہیں منزل پائے گی۔ اک دن آئے گا، وہ باپ کا بوجھ اٹھائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
لطیف ابراہیم کی دیگر تحریریں
لطیف ابراہیم کی دیگر تحریریں