انسانیت کا ہیضہ اور انسان
اکتوبر 2017ء کی بات ہے، میرا ایک مضمون روزنامہ ایکسپریس میں ”ازابیلہ خان، ابرام خان اور شناخت“ کے عنوان سے شایع ہوا، یہ مضمون اس رویے کے بارے میں تھا کہ جب انسان ایک سے زائد مذہبی شناختوں کو اختیار کرتا ہے اور اسے کسی قسم کا سوچ کا ارتقاء تصور کرتا ہے۔ میں اپنے مضمون کی اشاعت پر بڑا خوش تھا کیونکہ یہ میرا کسی اخبار میں شایع ہونے والا چوتھا مضمون تھا۔ یہ مضمون میرے حلقہ احباب میں ایک بوڑھے مارکسی نے بھی پڑھا، ویسے محترم کو مارکسی کہنا بھی دشوار ہے اس لئے کہ انہوں نے تا عمر پیسہ بنانے اور اسے جمع کرنے کی جدوجہد کی ہے مگر خیر اس نوع کے انتہائی Capitalist اشتراکی بھی ہوتے ہی ہیں۔ دوستوئفسکی نے اپنے عظیم ناول Possessed میں Liputin بھی اسی نوع کا ایک کردار دکھایا ہے۔
یہ بڑے میاں مجھ پر راشن پانی لے کر چڑھ گئے اور فرمایا کہ یہ میں نے کس طرح کے موضوع پر مضمون لکھ دیا ہے؟ ”یہ تو اچھی بات ہے کہ لوگ مذہب کے بجائے انسانیت کی شناخت کو اختیار کر رہے ہیں“ اور یہ کہ مجھے ”انسانیت“ کے موضوعات کو چننا چاہیے اس لئے کہ میں نفسیات میں پی ایچ ڈی ہوں کوئی ”ملا“ نہیں ہوں۔ ہر انسان کو اپنی رائے رکھنے کا تو حق ہے اور پسند اور ناپسند تو ہر کسی کی اپنی ہی ہوتی ہے، کوئی لکھاری کسی کو مجبور تو نہیں کر سکتا کہ وہ اس کی تحریر سے اتفاق ہی کرے اور تنقید تو خیر بڑی اچھی چیز ہوتی ہے مگر لوگ ایک بات رائے دیتے ہوئے بھول جاتے ہیں اور وہ بات بڑی عجیب ہے اور علم نفسیات نے اس کو انسان کی جانچ کے ایک اہم طریقے کے طور پر رائج کر رکھا ہے کہ انسان جب کسی بھی چیز پر بات کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے بارے میں ہی بات کر رہا ہوتا ہے۔ وہ جتنا بولتا ہے اس قدر خود کو ہی کھولتا ہے، اسی لئے بڑے سیانے خاموشی کو عقلمندی کہہ گئے ہیں۔ بہرحال میں نے حضرت کی بات پر کافی غور کیا کہ آخر انسانیت ہے کس چڑیا کا نام اور میں نے اگر یہ کہا کہ انسان ایک وقت میں ہندو، مسلم، عیسائی، یہودی وغیرہ ایک ساتھ نہیں ہو سکتا، تو اس بات میں میں نے ”انسانیت“ کا انکار کیسے کر دیا؟
2004ء میں ہمارے بڑے برادر کے ایک دوست (جن سے میرا بھی دوستانہ تعلق تھا) نے مجھے فیس بک پر ”ایڈ“ کیا، آپ برطانیہ میں سکونت پذیر تھے مگر یہاں کراچی میں ہی پیدا ہوئے تھے اور اطلاقی کیمیا میں ماسٹرز کر کے، دو چار سال یہاں نوکری کر کے 2003ء میں برطانیہ گئے تھے۔ آپ جب یہاں کراچی میں تھے تو بڑے کٹر مذہبی تھے اور ہر ہر شے آپ کو شرک و بدعت نظر آتی تھی، پھر آپ برطانیہ گئے اور وہاں آپ میں بقول کارل ینگ وہی تبدیلی واقع ہو گئی کہ جب انسان پر ”پرسونا“ کی جگہ shadow کی حکمرانی ہو جاتی ہے۔ آپ جب 2007ء میں کراچی تشریف لائے تو آپ اردو بھی انگریزوں کی طرح بول رہے تھے، چال ڈھال میں کمال نسوانیت در آئی تھی اور لباس کا رنگ بھی بڑا زنانہ معلوم ہو رہا تھا۔ پنک ٹی شرٹ، پنک پتلون اور پتلا سا سفید بیلٹ۔ خیر محترم نے بتا بھی دیا کہ وہ اب "gay” بن چکے ہیں۔ اب وہ بالکل شرک و بدعت کی بات نہ کر رہے تھے بلکہ انہوں نے فرمایا کہ وہ ”ایگنوسٹک“ ہیں اور پکے لبرل ہیں۔
بعد میں محترم نے فیس بک پر اعلان کیا کہ وہ اب ”ایگنوسٹک“ نہیں بلکہ ”ایتھیسٹ“ ہیں۔ محترم برطانیہ سے کینیڈا چلے گئے جہاں انہوں نے ترقی کی اور Active gay بن گئے اور اپنی ہی ”برادری“ کے ایک شخص سے شادی کر لی، اب محترم کا نام ان کی ”بیوی“ بننے والے شخص کے نام میں جڑ گیا، ان کی ”بیوی“ ایک سفید فام شخص ہے، ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ محترم انگریزوں سے دو سو سالہ غلامی کا بدلہ اس طرح لے رہے ہیں۔
محترم کی یہ سار کارگزاریاں دیکھنا بڑا مشکل کام ہوتا لیکن میں کبھی ان کی کسی پوسٹ پر منفی رائے نہ دیتا۔ اس لئے کہ 2007ء میں بھی میں نفسیات دان تو تھا (گو کہ پی ایچ ڈی نہیں تھا) مگر مجھ پر ”انسانیت“ کی بھاری ذمے داری لاد دی گئی تھی، تب محترم نے مجھ پر کڑی تنقید کی کہ میں نے فیس بک پر مذہب کے خانے میں سنی مسلمان کیوں لکھا ہوا ہے؟ کیا صرف مسلمان ہونا میرے لئے کافی نہیں؟ بلکہ مسلمان بھی کیوں، صرف انسان ہونا میرے لئے کافی کیوں نہیں؟ حالانکہ میں نفسیات کا طالب علم ہوں وغیرہ۔
تب میں نے محترم سے بڑے مودب طور سے عرض کی کہ حضور میری مذہبی یا مسلکی شناخت کے اظہار سے آخر کسی اور مذہب یا مسلک کی توہین کیسے ہو جاتی ہے؟ انہوں نے جواباً فرمایا کہ توہین تو نہیں ہوتی مگر "It is depressing to see a young and aspiring student of psychology like you lost in the round about of identity”
مطلب یہ کہ آپ کو یہ ”شوبھا“ نہیں دیتا۔ میں نے پھر اپنا سوال دہرایا کہ میرے کسی مذہب و مسلک کو ماننے سے یہ کیوں کر ثابت ہوتا ہے کہ میں دیگر مذاہب یا مسالک کی عزت نہیں کرتا یا ان کا دشمن ہوں؟ اس سوال کا کوئی جواب دینا انہوں نے گوارا نہ کیا مگر محترم میں اس قدر ”برداشت“ اور انگریزی میں انہی لبرلوں کی اصطلاح میں کہا جائے تو "Acceptance” اور "Tolerance” تھی کہ کچھ عرصے بعد ایک عالمی سیاست کے معاملے پر ہلکے سے رائے کے فرق پر انہوں نے مجھے اپنے دوستوں کی فہرست سے خارج کر دیا اور وجہ بھی بتا دی کہ میں ”انسانیت“ کی راہ سے ہٹ گیا ہوں“ تبھی یہ ”انسانیت“ میرے لئے ایک بڑی الجھن بنتی جا رہی ہے۔ ایدھی صاحب کا انتقال ہوا تو سوشل میڈیا پر ان سے منسوب یہ جملہ لکھا دیکھا کہ ”انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں“۔
مگر سوال یہ ہے کہ یہ انسانیت ہے کیا چیز اور اس کا مذہب سے ٹکراؤ کیا ہے آخر؟
انسانیت کا لفظ بعض اوقات کسی کا درد سمجھنے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی اس کا مطلب ہوتا ہے کسی سے احسن طور سے پیش آنا۔ کبھی اس کا مطلب ہوتا ہے انسانوں کی جمیع اکثریت۔ جس بھی معنی میں دیکھئے یہ لفظ اگر یہ ہی معنی رکھتا ہے کہ جو اوپر بیان ہوئے تو کون سا مذہب یہ تلقین نہیں کرتا کہ انسان سے ہم دردی سے پیش آیا جائے؟ قرآن مجید اور تورات مقدس میں درج ہے کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے تمام انسانیت کا قتل کیا۔ ہر مذہب نے انسان کو دوسرے انسان کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک مذہب اور ان انسانیت کے ”پرچار“ کرنے والوں کی بات میں ٹکراؤ کہاں ہے؟ اس پر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”مذہب انسانوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیتا ہے، یوں انسان بٹ جاتے ہیں، پھر وہ دوسرے گروہ انسانی کو حقیر سمجھتے ہیں، خود کو حق کا علم بردار اور دوسرے کو باطل پرست سمجھتے ہیں اور دوسرے گروہ انسانی کو ختم کر دینا چاہتے ہیں“ یہ دلیل مکمل طور پر غلط ہے اور اس میں وہ Trap لگا ہے جس میں PK والے راج کمار ہیرانی سے لے کر میرے مذکورہ دونوں جاننے والے حضرات سب کو الجھاتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ مذہب حق کا تصور دیتا ہے، جب آپ حق پر ایمان لے آتے ہیں تو اہل حق کا حق آپ پر دیگر انسانوں سے بڑھ کر ہوتا ہے، پھر جو حق کو نہیں مانتے ان کے بھی درجات ہیں۔ اسلامی ریاستوں میں ایسے افراد کی کہ جو مسلم نہ ہوں، عزت، جان، مال، عبادت گاہوں، کاروبار کے لئے امان ہے۔ اگر یہ خود اہل اسلام سے لڑائی نہ کریں تو یہ اہل ذمہ کے درجے میں آتے ہیں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مسلمان کو بہت گناہ کسی جانور پر ظلم کرنے سے ملتا ہے، پھر کسی زمی پر ظلم کرنے کا گناہ ہے۔ یعنی اللہ نے مسلمان کو صرف انسان ہی نہیں جانور پر بھی ظلم سے روکا ہے اور خالص گروہی نفسیات کے بالکل خلاف ”اپنے لوگوں“ یعنی مسلمانوں سے بھی زیادہ، غیروں یعنی زمی غیر مسلموں پر ظلم کرنے سے روکا ہے۔
ایک حدیث ہے کہ ”مسلمان کا ساتھ دو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔۔۔۔ یعنی اگر وہ ظالم ہو تو اسے ظلم سے روکو اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس پر ظلم کرنے والے کو روکو“ یہ وہ ضابطے وہ قاعدے ہیں کہ جن کی وجہ سے جب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے بیت المقدس فتح کیا تو کسی غیر مسلم کا قتل عام نہ ہوا، کوئی کلیسا ڈھایا نہیں گیا، یہی قائدے ہیں کہ جب مسلمانوں کو ہسپانیہ سے نکالا گیا تو سلطان سلیم اول نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہود کے لئے بھی جہاز بھیجے اور یہود کو استنبول میں بسایا اور ان کے لئے وہ شیلوم تعمیرا کرایا جو آج بھی استنبول میں موجود ہے، پھر یہ بات کہ مذہب اگر انسانوں کو گروہوں میں بانٹتا ہے تو وہ گروہ عقائد پر مبنی ہوتے ہیں جب کہ انسانوں کو ان انسانیت کے علم برداروں نے رنگ، نسل اور معاشی نظاموں کے گروہوں میں جس طرح بانٹا ہے، اس کی تو کوئی نظیر تاریخ انسانی میں نہیں۔
انہی انسانیت کے علم برداروں نے دیوار برلن بنائی اور کوریا کو دنیا کی سب سے بھاری فوجی سرحد سے بانٹا۔ اس انسانیت کے سب سے بڑے علم بردار برطانیہ اور امریکا نے تاریخ انسانی کے سب سے بڑے قتل عام کیے۔ آخر یہ سفید قوم تو یورپ سے گئی تھی امریکا جب کہ وہ انسانی آبادی سے لبریز ایک خطہ تھا۔ آج وہاں کے مقامی باشندے کہاں ہیں؟ صدر روز ویلٹ کے عہد تک سرخ ہندیوں کے قتل عام ہوتے رہے، پھر انسانیت کے علم بردار روسی بالشویکوں کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جنہوں نے 3 کروڑ ”انسان“ روس کے طول و عرض میں مار ڈالے؟ امریکا نے جاپان پر ایٹم بم گرائے، ویت نام میں، کوریا میں، لاطینی امریکا میں، عراق میں، افغانستان میں، الغرض جہاں دیکھو وہاں انسانی خون کے دریا بہا دیے مگر پھر بھی وہ انسانیت کے چیمپئن ہیں اور مذہب نے انسانوں کو گروہوں میں بانٹا ہے؟ اہل کوریا کی اکثریت کا تو مذہب بھی ایک ہے، نسل بھی ایک ہے، ثقافت بھی ایک ہے، خطہ بھی ایک ہے مگر وہ 80 سال سے بٹے ہوئے ہیں، تو کیا یہ گروہ تقسیم انہی گروہوں کی کی ہوئی نہیں جو ”انسانیت انسانیت“ کے راگ الاپتے ہیں اور مذاہب پر تبریٰ بھیجتے ہیں؟
Eric Fromm اپنی کتاب The anatomy of human destructiveness میں لکھتا ہے کہ دور قدیم کا مذہبی انسان تو دراصل جدید انسان کے سامنے تخریبی رویوں میں ننھا بچہ تھا، دور قدیم میں جنگوں کی تعداد اور ان میں انسانی ہلاکتیں دور جدید المعروف ”دور انسانیت“ کے موازنے میں دسواں حصہ بھی نہیں۔ اندازہ لگائیے کہ جنگ عظیم اول میں تین کروڑ اور جنگ عظیم دوئم میں 7 کروڑ انسان مرے اور اس کے بعد ہونے والی سرد جنگ میں کم و بیش 100 کے قریب جنگیں، خانہ جنگیاں ہوئیں۔ ان میں ہونے والی ہلاکتوں کے تخمینے بھی خوفناک ہیں۔ کیا یہ سب جنگیں انسانیت کے علم برداروں کی پیداکردہ نہیں تھیں؟
جو لوگ گروہوں کے ہونے کا انکار کرتے ہیں وہ بھی خود کو لبرل سیکولر یا اشتراکی کہہ کر کسی ڈبے میں ضرور ڈالتے ہیں اور ان میں جس قدر نفرت اور عدم برداشت دوسرے گروہوں سے ہے، اس کا تو عشر عشیر بھی مذاہب میں ایک دوسرے کے لئے نہیں، کبھی کمیونسٹ اور لبرل ایک ساتھ نہیں رہ پائے، کبھی نازی اور لبرل ایک ساتھ نہیں رہ پائے اور نازی اور اشتراکی میں بھی کبھی نہ بن پائی، جب کہ ہزاروں مذاہب کے ماننے والے کسی نہ کسی عمرانی معاہدے میں بندھ کر الگ الگ خطوں میں ایک ساتھ بستے ہیں اوران میں ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا وہ جنون بھی نہیں جو ان اہل ”انسانیت“ میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ یہ انسانیت انسانیت کی تکرار دراصل ایک ہیضہ ہے جو دراصل انسانوں کی محبت سے نہیں بلکہ تفریق اور تفاخر کے ہی جذبے کا خوبصورت لیبل ہے۔ ایک چھتری ہے جس کے تلے بیٹھ کر انسانوں کا مصلح بن جانے اور تقریباً دیوتا ہی بن جانے کی سہولت میسر آ جاتی ہے، پھر اس چھتری کے باہر کے انسان انسان ہی نہیں رہتے، ذمی بھی نہیں، جانور بھی نہیں، کچھ بھی نہیں۔


