اک ذرا ملتان روڈ سے الحمرا تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت یہی کوئی ساڑھے نو کا تھا اور ملتان روڈ بیچاری اورنج ٹرین کے پروجیکٹ میں ملوث ہونے کی سزا بھگت رہی ہے۔ سزا تو اُسے بھگتنی ہی تھی کہ شہباز شریف کے ساتھ جو نتھی ہو بیٹھی تھی۔ اب بھلا نیا پاکستان بنانے والوں کی ترجیح میں کیسے آتی۔

تُرک کمپنی البراق کا ٹرک راستہ روکے کوڑا ڈھونے میں جتا ہوا تھا۔ سڑک پر کھڑی میرے جیسی عورت دانت پیستے ہوئے کِسی جرمن سفارت کار کی اس بات کو یاد کرتی تھی کہ جس قوم کا کوڑا صبح تین بجے سے اٹھنا شروع نہیں ہوتا اور جو قوم نورپیر کے ویلے سے اپنے گلی کوچوں اور سڑکوں کو صاف سُتھرا نہ دیکھے اس قوم نے خاک ترقی کرنی ہے۔ اب بیٹھی سوچتی تھی کہ کتنی صحیح بات ہے۔ ہم تو اپنا کوڑا اٹھانے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ پرائی کمپنی ٹھیکے لیتی اور اُس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کرتی ہے۔ دوپہر ڈیڑھ بجے کام سے واپسی پر کھاڑک نالہ کے ٹریفک سگنل پر رکی۔ گاڑیوں کا اژدہام تھا۔ اِسی اثنا میں ایک بے حد چمچماتی سیاہ ری بورن نے پاس آ کر بریکیں لگائیں۔ ناکوں ناک بھری گاڑی کی عقبی سیٹ پر بیٹھے نوجوان لڑکے نے کیلے کے چھلکے شیشہ نیچے کرتے ہوئے سڑک پر یوں پھینکے جیسے پنڈ کی کِسی بارات پر ہوچھے سے چاچے مامے سکّے پھینکتے ہیں۔ ”ہائے“ میرے دل سے نکلا۔ سڑک اگرچہ بہت صاف اور چمکدار نہیں اور اطراف میں پھولوں کی بہار بھی ماحول کوخوبصورت نہیں بنا رہی پر پھر بھی اِس اندھے کو کچھ نظر نہیں آرہا ہے کہ کوئی اِس چھلکے سے پھسل سکتا ہے۔ اس کی ہڈی جوڑ ٹوٹ سکتا ہے۔ ہتھ چھٹ منہ پھٹ اس عورت سے تو ضبط نہ ہوا۔ دروازہ کھول فوراً چھلکے اٹھا اُس گاڑی والے لڑکے کو دیتے ہوئے کہا۔ ”کچھ تو خیال کرو۔ ماحول اگر خوبصورت نہیں تو اُسے مزید بدصورت تو نہ بناﺅ۔ انسانیت تو تمہیں کوئی پیغام دے رہی ہے۔ اِسے سُنو تو سہی۔ “

شکر خدا کا لڑکا بھی اچھا ہی تھا کہ وہ چھلکے پلٹ کر میرے منہ پر مارنے کی بجائے ہاتھوں میں پکڑ لیے اور شرمندہ سا ہو گیا۔ اردگرد بیٹھے گاڑیوں والے نے جو تاثر آنکھوں کے راستے دیے وہ کچھ ایسے ہی تھے جیسے کہتے ہو۔ عجیب سرپھری عورت ہے۔ ایک دو سے تو یہ تاثر بھی ملا۔ بڑی آئی ریفارمر۔

پر جب واپس مڑتی تھی تو پرلی طرف کھڑے رکشے کا دروازہ کھلا اور اندر بیٹھے ایک مرد نے گلے سے بلغم کا بڑا سا بزاق (تھوک) سڑک پر پھینکا اور ہرا ریکسیئن کا دروازہ بند ہو گیا۔ ڈرائیور کی سیٹ کے راستے مجھے اُس کا چہرہ نظرآتا تھا۔

میرے اندر کی استانی پوری طرح جاگ چکی تھی۔ تیس سال ہوتے ہیں۔ یہی سبق اپنے سکول کے بچوں کو پڑھا رہی ہوں کہ انہوں نے کاغذ کے ٹکڑے اور تھوک زمین پر نہیں پھینکنا۔ میں نے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے اک ذرا اُس کی طرف دیکھا اور کہا۔ ”نہ ہوئی کُھرپی میرے ہاتھ میں وگرنہ یہی غلیظ مادّہ زمین سے اٹھا کر تمہارے چہرے پر پھینکتی۔ کم بختو منہ سے نکال کر گال پر ذرا لگاﺅ پھر دیکھو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ یہ سڑکیں بھی ہمارا تمہارا چہرہ ہیں۔ ان پر گند پھینکتے ہو تو اس کا چہرہ بدنما نہیں لگتا۔“ واپس آکر سیٹ پر کیا بیٹھی۔ ایک یلغار تھی۔ سُرخی پاوڈر میں لپے پتے چہرے والیوں کی آنکھیں مسکارا سے بھری ہوئی۔ تمسخرانہ انداز میں ہاتھ پھیلائے ہوئے لہجے میں دھونس سی۔ فقیروں کی ایک نئی قسم۔

مجھے ہنسی آئی۔ اِن کی کسر رہ گئی تھی۔ مانگنے والوں نے بھی کتنے نئے نئے انداز اپنا لیے ہیں۔

چھوٹے پوتے کو لینا تھا۔ کلمہ چوک ڈائیوو کی ورکشاپ سے ملحقہ سکول کی برانچ کے سامنے سڑک کے درمیانی فٹ پاتھ پر خوانچہ فروشوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ چپس تلے جا رہے تھے۔ قلفیاں بک رہی تھیں۔ لچھّے والے کا ڈنڈا سب سے اوپر تھا۔ بچوں کا ایک ہجوم چپس والے کے گرد کھڑا تھا۔ گرما گرم چپس۔ اوپر سے مصالحے اور سُرخ چٹنی کا چھڑکاﺅ۔

گھر کا لنچ اور ابلے پانی کی بوتل بچے کو دینے اور ساتھ ہی باہر کی چیزیں نہ کھانے کی تاکید کرنے والی مائیں تو آنکھ اوجھل تھیں۔ بچے تو گرما گرم چٹخارے دار چپس کھاتے ہوئے یہ تھوڑی سوچ رہے تھے کہ تیل کیسا ہے اور چٹنی میں جو چیزیں استعمال ہوئی وہ ناقص تو نہیں۔ یہ تو بنانے والے کا دین ایمان ہے کہ وہ بچوں کی صحت سے کھیل رہا ہے یا اپنی روزی حلال کر رہا ہے۔

اپنا بچپن یاد آرہا ہے ایسا ہی چیزوں کو کھانے کا ہابڑا پڑا رہتا تھا ہمیں بھی۔ پر وہ زمانے بڑے اچھے تھے۔ نہ ماﺅں کو کوئی فکر فاقہ تھا اور نہ چیزیں بیچنے والوں کو پیسے بنانے کا ہوکا تھا۔ ہر چیز خالص اور اچھی ہوتی تھی۔

بڑے پوتے کو سکول سے لینے میں ابھی تھوڑا وقت تھا۔ میں الحمرا چلی گئی۔ وہاں آرٹ فیسٹیول ہو رہا تھا۔ سکول مدعو تھے۔ معاشرے کی دو انتہا ہیں۔ ایک بہت بڑے انگلش میڈیم سکول کے بچے اور گورنمنٹ سکول کی بچیاں۔

ہائے صدقے۔ بعض بچیوں کے پاﺅں میں بوٹوں کی بجائے چپلیں تھیں۔ کاش ذریعہ تعلیم ایک ہوتا۔ کاش نصاب ایک ہوتا۔ گو اب گورنمنٹ سکولوں میں بھی انگلش میڈیم شروع تو ہوگیا ہے مگر اب معیار کا کیا کیا جائے۔

مگر ایک بات ضرور تھی۔ میں نے ماٹھی غریب اِن بچوں کی چال ڈھال میں جو اعتماد اور چہرے پر بھی ”میں جو ہوں ٹھیک ہوں“ جیسے تاثر کی فراوانی محسوس کی تھی۔ اور مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی تھی۔

ہم بھی کیسی قوم ہیں جومصائب و آلام کی گھڑیوں میں اکٹھی ہونے کی بجائے اپنے اپنے محاذوں پر منفی سرگرمیوں میں جُت جاتی ہے۔ اب اِس نئے پراگے کو کیا کہیں جو مولانا فضل الرحمن ڈال رہے ہیں۔ کوئی پوچھے تھوڑا صبر کرلو۔ ڈنڈے سوٹوں سے مارچ پاسٹ ہورہا ہے۔ سلامیاں لی جا رہی ہیں۔ طاقت کے اظہار کی نمائش دوسرے لفظوں میں ہم بھی کچھ ہیں۔ تمہارے لیے سوچ لو خطرہ۔ حکومتیں بھی بڑی نکمی اور نالائق چاہے سیلاب ہوں، ڈینگی بخار ہوں یا زلزلے ہوں۔ یہ نہیں کہ آنے والے متوقع خطرات سے حکومتیں آگاہ نہیں ہوتی ہیں۔ ہوتی ہیں مگر عوام اُن کی ترجیحات میں نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •