بے سوچے سمجھے اولاد: نہ مزہ نہ سواد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہیں ایک لطیفہ پڑھا تھا: ’’میاں بیوِی میں شدید اختلاف کے باوجود بچوں کی مسلسل پیدائش بھی مشرقی روایات کی خوب صورتی ہے‘‘۔ اس پہ ہنسا جا سکتا ہے، پر مجھے اسے پڑھ کر رونا آتا ہے۔ یہ ایک لطیفہ سہی پر اس میں ایک پوری داستان موجود ہے۔ جیسے ایک آرکیٹکٹ کو کورا کاغذ دے کر کہا جاتا ہے، اس پہ وہ نمونہ بناو کہ جب وہ زمین پہ وجود میں آئے تو دنیا اش اش کر اُٹھے، پھر دنیا نے دیکھے ہیں وہ نمونے جسے  مصر کے اہرام، تاج محل، برج خلیفہ، دبئی مال اور ایسے لاتعداد نام جو دنیا کے عجائبات میں آتے ہیں، یا نہ بھی آئے ہوں، تو بھی لوگ وہاں جانا فخر محسوس کرتے ہیں۔

جیسے جوہری کو سونے کی ڈلی پکڑا کر کہا جاتا ہے ایسا ڈیزائن، جیسے  ڈیزائنر کو کپڑا دے کر کہا جاتا ہے، ایسا ڈیزائن، جیسے نگینہ تراش کو ایک پتھر دے کر کہا جاتا ہے تراش دو، ہیرا بنا تراش ہو تو کم قیمت، تراش دو تو بیش قیمت، اور پھر دینا اُسے ’’کوہ نور‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ بالکل ویسے ہی دو لوگوں کو ایک بچہ دیا جاتا ہے کورا کاغذ، ایک سانس لیتا وجود جسے تراشنا سنوارنا اُن دو افراد کا فرض ہے، جنھوں نے پیدا کیا۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بچہ پیدا کرنے کے بعد بھٹو والی اسکیم پہ عمل کرنا فرض سمجھ لیا ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان۔ اگر یہ سب پورا ہوتا ہے تو بس کافی ہے، اور اگر ایک سے زیادہ کے لیے پورا ہو سکتا ہے تو اور بھی اچھی بات۔ ویسے بھی روٹی، کپڑا، مکان کی اسکیم میں دو وقت کی روٹی کسی مزار اور لنگر سے بھی مل سکتی ہے۔

آج کل تو ویسے بھی مزید لنگر کھل رہے ہیں۔ کپڑے مانگے تانگے کے چل جاتے ہیں، رہی بات مکان کی تو سونے کے لیے سمینٹ کی چھت لازمی تھوڑی ہے! ترپال کو بھی چھت کہا جاتا ہے اور مزار کی چھت کو بھی چھت کہتے ہیں۔ وہ بس نیک کام میں اسٹیٹس والی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ چاہے آپ کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔ اخلاق تربیت کیا فضول باتیں ہیں۔ ایسی باتیں سوچ کر بچوں کی تعداد کم رکھنا بہت غلط  ہے۔ بچہ پیدا ہونا چاہیے۔ معاشرے کے لیے مفید بنانے کا ٹھیکا صرف والدین کا تھوڑی ہے، اب معاشرے کی وجہ سے پیدا کیا ہے تو معاشرہ کرے، تربیت۔

پہلا بچہ پیدا نہ ہو تو یہی لوگ طعنے دیتے نہیں تھکتے، اور مشوروں کی فہرست کا تو کوئی حساب نہیں۔ سو پہلا بچہ لوگوں کا منہ بند کروانے کے لیے وقف ہوتا ہے کہ یہ دیکھیں سب ٹھیک ہے، تو ہوا ناں معاشرے کے لیے؟ دوسرا بچہ پہلے کے ساتھ کھیلنے کے لیے، یا جوڑی مکمل کرنے کے لیے، تیسرا بس ایویں اور چوتھا، اماں بی کی ضد مان کے اور  پانچواں غلطی سے۔ اگر پہلی دوسری، تیسری بیٹی ہو، تو بیٹے کی خواہش میں مزید بچے تا کہ اُن کی نسل چل سکے اُن کا نام لیوا ہو۔ جس مذہب کو مان کراولاد کی کم تعداد کو گناہ سمجھتے ہیں، لوگ اُسی مذہب میں خود کو سید کہلوانا اور سید ہونا باعث فخر سمجھتے ہیں مگر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ حضرت امام حسین  نواسہ رسول صلٰی اللہ علیہ وسلم تھے۔

 اوپر نیچے یوں بچوں کی تعداد سے نہ تو عورت کی جسمانی اور ذہنی صحت ٹھیک رہنے دیتی ہے اور اگر مرد گھر کا واحد کفیل ہو تو مرد کا معاشی ضروریات کا بوجھ بھی بڑھ  جاتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم، جہاں صبح کا ناشتا پانچ بجے شروع ہو کر دس بجے تک جاتا ہے، پھر گیارہ بجے دوپہر کے کھانے کی تیاری جو تین بجے تک جاتی ہے، اور ساتھ ہی شام کی چائے کے لوازمات کا وقت ہوا چاہتا ہے اور چائے کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی رات کے کھانے کی تیاری۔ مرد تو صبح گئے رات واپس آئے، ان سب میں کہاں وقت ملتا ہے تربیت کا۔

نوکر چاکر ہوں تب تو ویسے بھی بچے والدین کی نہیں آیا کی ذمہ داری ہوتے ہیں، یا اسکول والوں کی، تو کرے معاشرہ تربیت۔ اسکول وہ لگژری ہے جو مڈل کلاس اور ایلیٹ کلاس تو افورڈ کر سکتی ہے مگر اسکول تربیت نہیں کرتا، بس چند ہندسے، الفاظ رٹاتا ہے۔

 جن کو یہ لگژری بھی میسر نہیں، اُن کے بچے سڑک کنارے چھوٹی موٹی نوکری کرتے یا بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ پر تربیت کہیں نہیں، پھر معاشرہ سکھاتا ہے، اور جو معاشرہ سکھاتا ہے، اُسے ہم سب روز دیکھتے ہیں۔ خبروں میں یا ایک اسٹیٹس لگا کر افسوس بھی کرتے ہیں۔ زینب کے قاتل پر، کسی بچہ یا بچی  کے ریپ پر، مشعل خان کو درندگی سے مارنے والوں پر، جنید، آسیہ اور لاتعداد کی زندگیاں برباد کرنے والوں پر، قندیل کے قاتل پر، ملالہ پہ اور اسکول میں بے شمار بچے مارنے والوں پر، گھٹیا وِڈیوز بنانے والوں پر، کبھی نام نہاد سیاست دانوں پر، کم جہیز پہ جلتی لڑکیوں پہ، معاشرتی بوجھ تلے دبتے فرسٹریٹد مرد اور توجہ، سکون کی تلاش میں جھنجلاتی عورت پہ۔ تربیت نہ ہو تو ایسے بے شمار عوامل جو خبروں میں گاہے گاہے نظر آتے ہیں، معشرے کا ناسور بن جاتے ہیں۔

بچہ برا یا اچھا پیدا نہیں ہوتا، اسے اچھا یا برا بنایا جاتا ہے۔ روٹی، کپڑا، مکان ابتدائی ضروریات  ہیں۔ پر صرف یہ کافی نہیں۔ مگر اس نا کافی کو سوچنے کے لیے وقت چاہیے۔ والدین کے پاس ہی وقت نہیں تو معاشرہ کیوں وقت دے؟ جب اپنی اولاد ہی سے بات نہیں کریں گے، تو خرابیاں تو پیدا ہوں گی ناں۔ بس ایک ریس کا گھوڑا یا خچر تیار کرنا کافی نہیں، جو لڑکوں کے لیے بالکل رنبیر کپور کے ڈیئلاگ جیسا ہوتا ہے، “بائیس تک پڑھائی، پچیس پہ نوکری، چھبیس پہ چھوکری، تیس پہ بچے، ساٹھ پہ رٹائرمنٹ اور پھر موت کا انتظار‘‘َ۔

لڑکیوں کے لیے ویسے بھی یہ معاشرہ الگ معیار رکھتا ہے تو ڈایئلاگ بھی  کچھ الگ ہو گا۔ بیس میں لڑکیاں یا تو بی اے کر لیتی ہیں یا چھوڑ چکی ہوتی ہیں۔ عمر کم نہ ہو تو شادی نہیں ہوتی۔ عموماََ بی اے والی یا بی اے پاس والی لڑکی بیس کی ہوتی ہے،۔ایم اے والی تو ویسے ہی بوڑھی ہوتی ہے، نوکری والی کی شادی عذاب، سو جس عمر میں لڑکے نوکری کی تلاش میں ہلکان ہوتے ہیں، اُس عمر میں لڑکیاں شادی کے وظیفہ اور رنگ گورا کرنے میں ہلکان ہوتی ہیں۔ پڑھ کر بھی تو گول روٹی ہی پکانی ہے، اور جو پروفیشنل بن جاتی ہیں، وہ تو ویسے بھی گھر بسانے والی نہیں رہتیں۔ تو لڑکیوں کے لیے ڈائیلاگ کچھ ایسے بنتا ہے، ’’بیس تک پڑھائی، چوبیس میں شادی، تیس تک بچے اور پھر ساری عمر جلنا کڑھنا، میک اپ، لڑنا، اور موت کا انتظار‘‘۔

ہمارے معاشرے کا ایک المیہ جو بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے، پر اس پہ بات کرنا ہم بد اخلاقی اور نا مناسب سمجھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •