وطن عزیز کی خارجہ پالیسی اور سب اچھا کی رپورٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ibrahimقومی سلامتی کمیٹی کے ہونے والے حالیہ اجلاس کے بعد ایک خبر نکلی، اور دور تلک پھیلی۔ وہ یہ کہ سویلین حکمرانوں نے اعلیٰ فوجی افسروں سے گذارش کی ہے۔ کہ \’انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے، یا عالمی تنہائی کو برداشت کیا جائے۔\’ یہ خبر پاکستان کے معتبر انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہوئی۔ دوسرے دن تقریبا تمام قومی اخبارات میں وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری رانا افضل کے حوالے سے، یہ بیان شائع ہوا، \’کیا حافظ سعید انڈے دیتا ہے، جو ہم نے اسے پال رکھا ہے؟\’

پہلی خبر کے شائع ہوتے ہی سول حکمرانوں کے ایوان میں بھونچال آ گیا۔ وزیراعظم ہاوس سے اس خبر کی تردید آگئی۔ خبر کی اہمیت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ ماضی میں وطنِ عزیز ہی میں خبروں کی بنیاد پر نہ صرف منتخب حکومتوں کو چلتا کیا گیا ہے۔ یا پھر کچھ وزرا اپنی وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ موجودہ حکومت کی کابینہ سے ایک زندہ مثال جناب مشاہد اللہ خان ہیں، جنہوں نے بی بی سی کو انٹرویو دے کر اپنے تئیں جناب عمران خان کے گزشتہ دھرنے کے حقیقی خالقوں کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا۔ اسی روز دارالخلافہ کے ایوانوں میں ایسا طوفان بپا ہوا، کہ وزیر اعظم کو اپنے ایک وفادار سیاسی کارکن کو کرسی سے ہٹانا پڑ گیا۔

ایک خبر، پھر تردید، پھر ایک اور خبر۔ مطلب یہ کہ عوام تک یہ پیغام تو پہنچایا جاچکا، کہ حکومت نے اپنی بسی اور بے اختیاری کے باوجود باضابطہ طور پر مطالبہ کردیا ہے، کہ اب حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر جیسے اثاثوں سے جان چھڑائی جائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس مطالبے پر عمل کروانے کے بجائے، ایک اور اہم اجلاس بلا کر خبر دینے، اور شائع کرنے والوں کے کان کھینچنے کا عندیہ دے دیا گیا۔

یہ شاید پہلی بار ہوا ہے، کہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام کو محض ایک خبر کی تردید کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرنا پڑا۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاوس سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ \’اجلاس میں شریک تمام افراد کا اس بات پر اتفاق تھا، کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے، انگریزی اخبار میں، جو خبر شائع ہوئی ہے، وہ من گھڑت اور قومی مفاد کے خلاف ہے۔ ایسی منفی خبروں سے قومی مفادات کو سخت خطرہ لاحق ہوا ہے\’۔۔ ( میں یہ نہیں کہتا، کہ مجھے بھی سینیٹر عثمان کاکڑ کی طرح قومی مفاد، اور قومی سلامتی کی معنی سمجھ میں نہیں آتے، حالاں کہ پاکستان میں یہ دونوں الفاظ بچپن ہی سے سنتے آئے ہیں۔ جس طرح یہ جملہ کہ ملک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے)

جیسا کہ اس اہم اجلاس میں حکومت اور فوجی اختیارات کے مابین یہ اتفاق ہوا ہے، کہ جو خبرشائع ہوئی ہے، وہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ جب اعلیٰ حکام ہی سب ٹھیک ہونے کی رپورٹ دے رہے ہیں، تو ہمیں معاملات کو شکوک و شبہات سے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔ اب ہمارے پاس تنہائی ونہائی، جنگ ونگ، خطرے وطرے کی سوچ سے جان چھڑانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔۔۔ نہ تنہائی ہے، نہ خطرہ ہے، بلکہ ہماری کامیاب پالیسیوں کی وجہ سے، ساری دنیا ہمارے ساتھ اور ہمارے پاس ہے۔۔۔ جب ریاست خود کہ رہی ہے، کہ سب ٹھیک ہے، تو ہمیں بھی مندرجہ ذیل باتوں پر اعتبار کرنا پڑے گا۔ آپ بھی ان باتوں پر اعتبار کیجیے، اور اپنے بچوں نیز پڑوسیوں کو بھی یہ اعتبار بخشیں۔

1۔ وطن عزیز اس بھری دنیا میں کسی بھی قسم کی تنہائی کا شکار نہیں، اگر کسی کو ایسا لگ رہا ہے، تو یہ اس کے دماغ کا خلل اور نظر کا دھوکا ہے۔ ہمیں صلاح کار برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کے پارلیمان میں دیئے گئے اس بیان پر بھی آنکھیں بند کرکے اعتبار اور اعتماد کرنا پڑے گا، کہ \’اگر نریندر مودی نے سعودی عرب یا کچھ اسلامی ممالک کا دورہ کیا تو کیا ہوا؟۔۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں، کہ وہ ہمیں تنہا کر رہا ہے\’۔۔۔ اب حاکم وقت اس تاثر ہی کو رد کر رہا ہے، تو ہم بھی یہ تصور کرنے میں حق بجانب ہیں، کہ کیا مغرب کیا مشرق، یعنی سارا عالم، پاکستان کو پیار بھری جپھی سے نکالنے کو تیار نہیں۔ جن کی ہم تک رسائی نہیں، وہ جادو بھری جپھی ڈالنے کو بے تاب ہیں۔

2۔ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو کل عالم میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر ایئرپورٹ پر ہمارا پاسپورٹ دیکھ ہی کر تمام عملہ نہ صرف احتراماََ جھک جاتا ہے، بلکہ آپ کو کسی الگ قطار میں کھڑا کیے بغیر پروٹوکول دیتے، باہر تک پہنچا آتا ہے۔ (قومی اسمبلی میں دیا گیا، وہ بیان بالکل جھوٹا ہے، جو پرویز مشرف حکومت کے وزیر محنت و افرادی قوت چودھری وجاہت حسین نے اس دور میں دیا تھا، کہ یورپ میں باقی لوگوں کے ہاتھوں کی انگلیوں کے نشان دیکھے جاتے ہیں، پاکستانیوں کے پاوں کی انگلیوں تک کی تلاشی لی جاتی ہے)

3۔ امریکا نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے اور \’ڈور مور، ڈو مور\’ کا مطالبہ نہ صرف واپس لے لیا ہے، بلکہ ایسا مطالبہ کرنے سے، کب کا توبہ تائب ہو چکا۔ یہی نہیں بلکہ سپر پاور نے ساری دنیا کو تنبیہہ کی ہے، کہ آیندہ کوئی بھی پاکستان سے اس قسم کا مطالبہ نہیں کرے گا، کیوں کہ پاکستان سے تمام کالعدم تنظمیوں کا قلع قمع کر دیا گیا ہے، اور دنیا کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے تمام بڑے دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس پر بھی اعتبار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ برطانیہ، فرانس اور چین نے دہشت گردی، یا دہشت گردوں کی سرپرستی کا جو الزام لگایا تھا، وہ کج فہمی، یا لاعلمی میں لگایا تھا، جس پر انہوں نے معافی مانگ لی ہے۔

4۔ سارک ممالک میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان کا پلڑا بھاری رہا۔ یہ بات بالکل غلط ہے، کہ افغانستان، بنگلا دیش اور بھوٹان نے بھارت کا ساتھ دے کر سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے، کہ جنوبی ایشیا کا کوئی فورم نہ ہونے کے باوجود پاکستان ایشیا کو جنگل سمجھ کر خود شیر کی طرح جی رہا ہے۔

5۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی طرح موجودہ صدر اشرف غنی نے افغانستان میں مداخلت کے جو الزامات لگائے ہیں، اس پر وہ شرمندہ ہیں۔ کیوں کہ انہیں اب یہ بات سمجھ آگئی ہے، کہ پاکستان افغانستان کو کوئی کالونی وغیرہ نہیں سمجھتا۔ نہ کبھی اس کی خود مختاری سے منکر رہا ہے۔

6۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی پارلیمان ہی میں بنتی ہے۔ پارلیمنٹ ہی اس پر نظرثانی کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ سول حکومت مکمل طور پر با اختیار ہے۔ سفارتی طور پر ناکامیوں، عالمی برادری سے تعلقات میں سرد مہری، پڑوسی ممالک سے سفارتی تعلقات خراب ہو جائیں، یا دو ملکوں کی افواج سرحدوں پر بندوقیں تان کر آمنے سامنے کھڑی ہوجائیں، تو اس کی ذمہ دار پارلیمنٹ ہے۔ کسی دوسرے ادارے کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔۔ یہ بھی سچ سمجھا جائے کہ ایسے افراد کو ذہنی امراض کے معالج کی ضرورت ہے، جو بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ پالیسی سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 49 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar

Leave a Reply