جوان نسل سے چھینا گیا سوال پوچھنے کا انسانی حق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ayub-sheikh\"نام لیے بغیر ہم سے بار بار کہا اور پوچھا جاتا ہے، کہ \”یہ مت سوچو کہ ملک نے آپ کو کیا دیا ہے، بلکہ یہ بتاو کہ آپ نے ملک کے لیے کیا کیا؟\”۔۔ یہ سوال وہ خطیب اور داعی پوچھتے ہیں، جنہوں نے کئی زمانوں سے، اس سوال پر بھی قبضہ کیا ہوا ہے، تاکہ ان سے کوئی یہ نہ پوچھ سکے، کہ آپ نے ملک کے لیے کیا کچھ کیا، یا مذکورہ سوال کا آپ کیا جواب دیں سکیں گے۔۔۔ یہ بات آج کی میڈیا پر بھی صادق آتی ہے، تو ہر قسم کے سماجی عناصر پر بھی۔۔۔ آج کل نت نئے اور جدید صحافی ایوان زریں کے باہر کھڑے ہو کر، قومی اسمبلی یا سینیٹ کے اراکین سے پوچھتے ہیں کہ \” کیا آپ کو پاکستان کا قومی ترانہ صحیح سے یاد ہے؟\” یہ جدید صحافی قومی ترانے کی یادداشت کی بنا ہی پر کسی کو قوم کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ یعنی کسی کو قومی ترانہ یاد نہیں تو حب الوطنی سے خارج قرار دیا جا سکتا ہے۔ گویا قوم کی نمایندگی کا محض قومی ترانے ہی پر دارومدار ہے۔ باقی سب اس نمایندے کو معاف ہوجاتا ہے۔

جنرل ضیاالحق کی آمرانہ حکومت کے خلاف، جمہوریت کی بحالی کے لیے کی جانے والی جدوجہد، ایم آر ڈی کا قیام 14 اگست 1983 کو ہوا۔ باقی تین صوبوں کا احوال دگر ہے، لیکن سندھ کا یہ احوال تھا، کہ پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی تحریک، جمیعت العلمائے اسلام، تحریک استقلال وغیرہ گرفتاریاں پیش کرتے تھے۔ ایک دن ہمارے ایک بزرگ دوست ڈاکٹر بدر جونیجو، ایک اور ہاری رہنما مرحوم حمزو خان نے گرفتاری پیش کی۔ ان میں ایک مذہبی و سیاسی جماعت کے کارکن بھی قران پاک سینے پر تانے موجود تھے۔ لاڑکانہ جنرل ضیا کی انا کا مسئلہ بھی تھا، لہذا ان کی کوشش رہتی تھی کہ اس شہر سے کوئی شخص، کوئی بھی سیاسی کارکن گرفتاری نہ دے پائے۔ پولیس کو حکم تھا کہ جو بھی رضاکارانہ گرفتاری کے لیے جناح باغ کے قریب پھٹکے، اسے اٹھا کر لاڑکانہ سے باہر سنسان روڈ کے پاس کھیتوں میں چھوڑا آیا جائے، تاکہ پیدل واپسی پر ان کے کچھ گھنٹے ضائع ہوجائیں، اور \”بی بی سی\” کوئی خبر نہ دے سکے۔۔۔ لیکن اس روز گرفتاریاں ہوگئیں، اور خبریں بھی نشر ہو گئیں۔ اگلی صبح بدر جونیجو، حمزو خان اور دیگر کو فوری انصاف کے لیے سمری ملٹری کورٹ میں پیش کیا گیا۔ صاف ستھرے کپڑوں میں چانڈکا میڈیکل کالج کا طالب علم، کسان رہنما و دیگر کارکنان میجر صاحب کے سامنے پیش کیے گئے۔

پاکستان چوں کہ زرعی معاشرہ ہے، یہاں ہاریوں اور مزدوروں کی اکثریت ہے۔ پھر ان کے مسائل بھی زیادہ ہیں، تو میجر صاحب نے انصاف کی فراہمی کے لیے سب سے پہلے حمزو خان کو بلایا۔۔۔ نام، پتا، کاروبار، زمین، جائداد، ماں باپ، بال بچوں کے بارے میں پوچھنے کے بعد، اچانک حمزو خان سے کہا گیا کہ \”تیسرا کلمہ سناو؟\”۔۔۔ حمزو خان نے سوچا تھا، کہ میجر صاحب زرعی معیشت پر کچھ سوال کریں گے، یا باتیں پوچھیں گے، اس نے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے، یکا یک میجر صاحب سے سوال کر دیا \”آپ پانچواں کلمہ سنائیں؟\”۔۔ یہ انصاف کی فراہمی کی فوری عدالت تھی۔ ملزم سامنے موجود تھے، ایک کسان کے سوال نے منصف کا پارہ چڑھا دیا۔ فشار خون بلند ہوا، تو اسیر وہیں رہ گئے، صاحب بہادر کو چانڈکا میڈیکل اسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں پہنچا دیا گیا۔ فزیشن پروفیسر وزیر محمد شیخ صاحب نے ان کا علاج کیا۔ دوائیں لینے سے کچھ افاقہ ہوا تو معالج نے پوچھا ۔ \”اچانک کیا ہوا، سر؟۔۔ آج ہوا یا پہلے سے شکایت رہتی ہے؟\” میجر صاحب لوٹ کر عدالت آئے، فوری انصاف کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے، \’گستاخ\’ ملزم کو دیکھے بغیر انصاف سے نوازا۔۔۔ \’دس کوڑے، ایک سال قید\’۔۔ مجرم سکھر سنٹرل جیل منتقل کیے گئے۔ اس کسان حمزو خان مرحوم کا کہنا تھا، کہ سماج میں بعض سوالات پر بھی قبضہ ہوتا ہے۔ پہلے ہمیں ان سوالات کا وارث بننا ہے، حوالات تو سرکاری بھی وہی ہیں، جیسے ہمارے اپنے گھر۔۔ اِدھر رہیں یا اُدھر فرق نہیں ہوتا۔

کل اخبارات میں یہ خبر آئی، کہ پاکستان میں پانچ کروڑ لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ جن میں ڈیڑہ سے تین کروڑ تک جوان افراد شامل ہیں۔ یہ کل آبادی کا 10 سے 20 فی صد بنتے ہیں۔ 10 اکتوبر کو \”ذہنی صحت کا عالمی دن\” ہوتا ہے۔ اس موقع پر آغا خان یونیورسٹی کی ایک پروفیسر، کراچی پریس کلب میں یہ آگاہی دے رہیں تھیں۔۔۔ میں نے خبر پڑہ کر اپنے ایک دوست سے کہا کہ خبر الٹی چھپ گئی ہے۔ دراصل پانچ کروڑ صحت مند ہیں، باقی ذہنی مریض ہیں۔ چونکہ اس بیماری کا دیسی نام \”پاگل پنا\” مشہور ہوچکا ہے، اس کا بالواسطہ تعلق انسانی انا کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں کون اپنے آپ کو پاگل کہلاوائے گا، لہذا کروڑوں لوگوں میں موجود اس عیب کو ثواب میں تبدیل کرکے \”اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے\” کا ورد کیا جاتا ہے۔ بیماری چھپائی جاتی ہے، حکومت کی انا بھی مجروح ہوتی ہے، وہ بھی اس بات کو مخفی رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان میں اٹھارہ کروڑ لوگوں کے لیے محض 400 ماہرین ذہنی امراض ہیں۔ ان میں بھی کچھ مکھیاں مارتے رہتے ہیں تو کچھ انسانی انا۔

یہ ذہنی امراض نہیں ہیں، دراصل پاکستان کی جوان آبادی کے 20 فی صد حصے سے، ان کا سوال پوچھنے کا حق چھینا گیا ہے۔ وہ پوچھنا چاہتے ہیں، کہ ہم غریب کیوں ہیں؟ ہم مقروض کیوں ہیں؟ ہم دوسروں کی مرتب کردہ پالیسیوں کو کیوں اپناتے ہیں، اور ان پہ کیوں عمل کرتے ہیں؟ ہم مذہب کے نام پر اپنے ملک کو تاریک راہوں میں کیوں دھکیلتے ہیں؟ ہمارے کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر کچرے کے ڈھیروں پر کیوں بٹھائے گئے ہیں؟ ہم تعلیم یافتہ کب ہوں گے؟ ہم آزاد کب ہو‌ں گے؟۔۔ جب اُن کے پاس جواب نہیں ہوتا تو ایک نیا لیبل لگادیا جاتا ہے۔ پہلے کسی کو کافر، زندیق، مرتد پکارا جاتا تھا، تعذیر لگائی جاتی تھی۔ اب زمانہ بدلا ہے، تو پرانی ٹیپیں بھی گھس گئی ہیں۔ لوگوں نے پوچھنا شروع کردیا تھا، تو فوری انصاف کی خاطر دو اہم کام سرانجام دیئے گئے تھے۔ ایک 52 ٹی وی چینلوں کا آبشار بہایا گیا ہے۔ یک طرفہ۔ مکمل یک طرفہ۔۔۔ تاکہ لوگ صرف سن سکیں۔ بول نہ سکیں۔ سوال نہ کرسکیں۔ دوسرا کام یہ کیا، کہ سوال پوچھنے والوں کو ذہنی امراض میں مبتلا نسل، المعروف پاگل قرار دے دیا گیا۔ ہمیں اظہار کی یک طرفہ آزادی اور جدید لیبل سے نوازا گیا ہے۔
آج مجھے حمزو خان ہاری رہنما بہت یاد آئے۔ جنہیں سوال پوچھنے آتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *