لکشمی چوک کا بپتسما اور سیاحت کا فروغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاحت کے فروغ کو حکمران جماعت نے انتخابی منشور اور حکومتی ترجیحات میں نمایاں مقام دیا۔ اس ضمن میں بہت سے خوش کن دعوے اور وعدے کیے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم خود سیاحت کے فروغ میں بہت سنجیدہ ہیں۔ عملاً اس کے لیے کتنا کام ہوا، بالکل الگ موضوع ہے۔ سردست  مقصد سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کی جانب سے لکشمی چوک لاہور کا نام بدلنے کے احمقانہ اور بے سود اقدام کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے۔  یہ اقدام دیگر بد صورتیوں کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے حکومتی دعوے سے بھی میل نہیں کھاتا۔ اطلاع ہے کہ لکشمی چوک کا نام مولانا ظفر علی خان چوک رکھ دیا گیا ہے۔
یا تو حکومتی بزرج مہروں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ سیاحت صرف پہاڑوں اور درختوں تک محدود نہیں ہوتی۔ ثقافت اور تاریخ اس کا ناگزیر اور اہم حصہ ہیں۔ یا پھر سیاحت کا فروغ بھی باقی نعروں اور طولانی دعووں جیسا محض کھوکھلا اعلان ہی ہے۔
مصر بہت سارے حوالوں سے ہمارے جیسا ہی ملک ہے۔ تازہ ترین مشترک پہلو وہاں سے آئی ایم ایف کے نمایندے کی بحیثیت گورنر اسٹیٹ بنک درآمد ہے تاکہ وہ ہمارے معاشی دلدر دور کرے۔ کیا وہ ایسا کر پائیں گے، وقت ہی بتائے گا۔ اندازہ لگانا اگرچہ چنداں مشکل نہیں۔ تاہم وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں حکومتی آمدنی کے تین بڑے ذرائع ہیں:
1- امریکی امداد
2- نہر سویز کی چونگی
3 سیاحت۔
یاد رہے کہ مصری سیاحت کا غالب حصہ تاریخی اور ثقافتی مظاہر ہیں۔ جس طرح سوئٹزرلینڈ میں سیاحوں کی دل چسپی کے مقامات کی اکثریت قدرتی مناظر پر مشتمل ہے۔
ہمارے یہاں ان دونوں انواع کی سیاحت کے مواقع ہیں، قدرتی مناظر بھی اور تاریخ بھی۔ شمال میں تین بڑے پہاڑی سلسلے اور دنیا کی چھت، دیوسائی تو جنوب میں گرم ساحل کے ساتھ ساتھ تاریخ کے جابجا بکھرے اوراق۔ شمالی پنجاب میں گندھارا کی تہذیب تو وسطی پنجاب میں ہڑپہ کے آثار۔ تھر اور چولستان میں ریت کے بدلتے رنگ تو سندھ میں انڈس کے ڈیلٹے میں تہذیبی اوج حاصل کرنے والوں کے نشان ہائے منزل۔ ہم قدیم ترین تہذیبوں کی جنم بھومی ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ احمقانہ جذباتیت اور سطحی مذہبیت کے زیر اثر شہروں، قصبوں، بستیوں اور چوکوں کو کلمہ نہ پڑھایا جائے۔ ان کو بپتسما دینے کی بجائے نئے مظاہر تعمیر کیے جائیں اور جن مشاہیر کا اعترافِ خدمت مقصود ہے ان سے موسوم کیا جائے۔
 یہ تاریخ ہمارا ورثہ ہے۔ سوچیں کیا گنگا رام، گلاب دیوی، ایبٹ آباد، لکشمی چوک اور دیگر جگہوں کے نام بدلنے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ہم اپنے ورثے پر شرمندہ ہیں۔ کیا یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ جو اپنے ورثے پر شرمندہ ہوتے ہیں انہیں دیکھنے دنیا نہیں آتی۔ جو مالکوں کے لیے باعث شرم ہو اس میں کسی دوسرے کی کیا دل چسپی ہو سکتی ہے۔
ہم پہلے ہی لائل پور، منٹگمری، کیمبل پور، نواب شاہ سمیت بے شمار چھوٹی بڑی بستیوں پر اپنے عقیدے، فرقے، تعصب، عقیدت حتی کہ نفرت تک کی مہریں ثبت کر چکے ہیں۔ تاریخ مسخ کرنے کی یہ روش اپنی جڑوں پر کلھاڑی چلانے والی بات ہے۔ باقی پہلو بوجوہ ناقابل ہضم ہوں تو اقتصادی پہلو کو ہی پیش نظر رکھ لیں۔ تاریخ کو سیاحت کے لیے ہی بچا لیں۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •