بلوچستان میں پانی کا بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے کئی سالوں سے بلوچستان میں پانی کا مسئلہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ شاید حکومت کی سستی اور نا اہلی کی وجہ سے۔ کہیں تو کس سے کہیں، لوگ بول بول کے تھک گئے اور حکومتی ارکان سن سن کے دوسرے کان سے نکالتے چلے جاتے ہیں۔ ویسے تو بلوچستان کے کئی شہروں میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں اور جو پانی گھروں میں آتا ہے، وہ پینے کے لائق بھی نہیں ہوتا۔ جانور مویشی انسان سبھی ایک گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔ اور ایسے میں بلوچستان میں صحت کی صورت احوال سے کوئی نا واقف نہیں ہو گا! لوگ پانی کے بحران کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔ دیکھ بھال سے محروم ہیں، مر رہے ہیں کیونکہ وہ علاج کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔

دوسرے ممالک میں ایسا پانی شاید گندی نالیوں ہی میں نظر آتا ہو گا لیکن ہمارے ہاں ایسا پانی آپ کو بلوچستان کے کئی شہروں میں پینے کے پانی کے استعمال کے لیے نظر آئے گا۔ بلوچستان کی شہری گھروں میں آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ صحت سے لے کر تعلیم تک، ماحولیات سے لے کر زراعت تک، سب ادارے تباہ حال ہیں۔ صوبائی دار الحکومت کوئٹہ خود بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ گھروں میں پانی آتا نہیں اور سڑکوں پہ سے پانی جاتا نہیں۔ بجلی نہیں، اسپتالوں میں ادویات نہیں، عملہ نہیں۔ بلوچ سونے کے پہاڑوں، قدرتی گیس اور بے شمار معدنیات کا مالک ہے اور بلوچستان میں معیارِ تعلیم دیکھیے، پانی کا بحران دیکھیے، اسپتالوں میں مریضوں کی حالت دیکھیے، اور دیکھتے رہیں۔ اگر کہیں شرم سے ڈوب مرنے کو چلو بھر پانی نہ ملا تو آ کے گھروں کا احوال دیکھیں، بے بس لوگوں کے آنسوں دیکھیں، تو آپ کی غیرت، آپ کی روح آپ کو جھنجھوڑ کے رکھ دے گی۔ پھر جا کے وہ ڈوب مرنے کا مقام پیدا ہو گا۔

قلم اور کتاب تو دور کی بات یہاں کے لوگوں کو میٹھا پانی اور اچھی خوراک تک میسر نہیں۔ اکثر پچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں. آخر کیوں؟ کوئی ایک امید کوئی ایک راستہ جس سے لوگوں کو گھروں میں صاف پانی مہیا کیا جائے؟ جس سے لوگوں کی محرومیاں ختم ہوں؟ ’’آپ کے بچے جب صبح اٹھتے ہیں، تو اسکول جاتے ہیں، میرے بچے پانی کی تلاش میں نکلتے ہیں‘‘۔ ہمیں کہتے ہیں کہ ہم گوادر کو بین الاقوامی شہر بنانے کی بات کر رہے ہیں، جب کہ وہاں رہنے والوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں۔ انسان زندہ رہنے کے لیے پانی اور غذا استعمال کرتا ہے۔ اگر اُسے مطلوبہ مقدار میں غذا اور پانی میسرنہ ہو، تو وہ کم زور پڑ جاتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو وہی انسان کئی ایک بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے اور یہی عمل بلوچستان کے لوگوں کا ہے۔ ان سب کا ذمہ دار کون؟

بنگلوں میں اے سی کی سرد ہوا میں بیٹھ کرغریب عوام کے لیے فیصلے کرنے والو، اللہ تم سب سے پوچھے گا۔ تپتی دھوپ میں کام کرنے والے غریبوں کا حق کھانے والو، اللہ پوچھے گا۔ جس کے گھر میں پانی نہ آتا ہو، وہ دو وقت کی روٹی کہاں چین سے کھاتا ہو گا۔۔ اللہ تم سب سے پوچھے گا۔ غریب عوام پر جو بھی گزرے لیکن اسمبلی میں بیٹھ کر صرف ’میں اور میرا لیڈر مہان‘ پر گھنٹوں تقریریں ہوتی ہیں، یا پھر گالی گلوچ کر کے ایک دوسرے پر پھول پھینکے جاتے ہیں۔ ایسی حکومت سے اور توقعات ہی کیا کی جا سکتی ہیں۔غریب ماوں کی اولادیں ان کی گودوں میں تڑپ تڑپ کر مر جاتی ہیں اور اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے والوں کو یہ چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔ یہ لوگ کس طرح اپنے بستر پر آرام کی نیند سو جاتے ہیں۔ کوئی احساس کچوکے نہیں لگاتا؟ کبھی ضمیر نام کا مردہ خواب میں آ کر نہیں ڈراتا؟

ان غریبوں کی محنت اور ان کے ایک ایک پسینے کی کمائی کا قرض بھی اگر حکومت انہیں ادا کرنے پر آ جائے، تو شاید پورا خزانہ کم پڑ جائے، پر ان کے قرض ادا نہ ہو سکیں گے۔ پانی جیسی نعمت بلوچستان کے لوگوں سے چھیننا اور انہیں اس چیز سے محروم رکھنا، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا اتنے سالوں میں یہ ایک مسئلہ حل نہیں ہو سکتا تھا؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر اس مسئلے پر بات کرنے والا کوئی نہیں؟ کیا ہم بلوچستان والے اب لاوارثوں جیسی زندگی جی رہے ہیں؟ کیا ہمارے حق میں بولنے والا کوئی نہیں؟ اگر ان حکمرانوں سے غریبوں کے مسئلے حل نہیں ہو سکتے ان کی چیخ پکار انہیں سنائی نہیں دیتی، تو کیوں حرام کی کمائی اور رشوت کے پیسوں پر چل کر اپنا اور اپنے ارد گرد چمچہ گری کرنے والوں کی آخرت خراب کر رہے ہیں؟ غریب کیوں اس چکی پر پستی چلی جاتے ہیں؟

غریب جو ہر چیز سے محروم والے دور میں زندگی گزارنے پر مجبور جو کرائے کے گھر میں رہتا ہو، ایسے میں ان کے گھروں میں 1000 سے زائد کا پانی کا ٹینکر آتا ہو، اس سے پوچھیں کہ زندگی ان تکلیفوں میں گزارنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ ایک بات جو شاید ان میں سے کوئی نہیں جانتا کہ سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں ننانوے کے ہندسے پر بھی ایک سانپ لپلپاتی زبان لیے بیٹھا ہے، جو اگر ڈس لے تو کھیل صفر سے شروع ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ندا بلوچ کی دیگر تحریریں
ندا بلوچ کی دیگر تحریریں