مولانا فضل الرحمن کے ڈنڈا بردار اور ہم سب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوب ہے یار۔۔۔ سوشل میڈیا مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی تیاریوں والی تصاویر سے بھر گیا۔ مولانا کے جانثار ایسے ڈنڈے تیار کر رہے ہیں جو ہم ”پینڈو پروڈکشنز “کو ان اساتذہ کی یاد دلا گئے جو صبح سکول کی اسمبلی میں ہی ہمارا آدھے سے زیادہ بدن ” شہید“ کر دیتے تھے۔

 جی ہاں! ہم بچپن سے ہی ڈنڈے کھانے والی قوم ہیں۔۔۔

لیکن ٹھہریے!! مولانا کی بات سے پہلے ڈنڈے کا بھرپور ذکر کرتے چلیں۔۔۔ کوہلو کا بیل۔۔ ہل چلاتے ڈھگے۔۔۔ ریڑھی میں جتے کھوتے۔۔ تانگے کھینچتے گھوڑے۔۔ گھاس کھاتی، کسی کی فصل میں منہ مارتی بھینسیں اور بھیڑ بکریاں۔۔۔ دم دبائے راہ چلتے آوارہ کتے۔۔۔ سبھی تو ڈنڈے کھاتے ہیں۔۔۔ ہم بیچاروں کو چار ڈنڈے پڑجانے سے کون سا اقوام متحدہ کا کوئی چارٹر سرنگوں ہوتا ہے؟ انسان جاندار تو حیوان بھی جاندار۔۔۔ فرق کیا؟

اوہ اچھا۔۔۔ اب سمجھا۔۔۔ آپ شاید یہ سوچ رہے ہیں کہ انسان اشرف المخلوقات میں سے ہیں، اس لیے ان کو ڈنڈے سے نہ ہانکا جائے۔۔۔ شاواشے۔۔۔

یار۔۔ اگر یہ وجہ اختلاف ہے تو پھر انسانوں کےلئے انسانوں والے شہر اور بستیاں ہونی چاہئیں، ” جنگل نما “ کچھ نہیں۔۔۔

اوکے۔۔۔ اوکے۔۔اختلاف آپ کا حق ہے لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ ہمارے سبھی بہادر اور ذہین جرنیلوں کا یہی کلیہ رہا کہ اس قوم کو ڈنڈے سے دبائے رکھو۔۔۔ اب آپ جنرل ایوب، یحییٰ، ضیاء اور جنرل مشرف کا ذکر نہ شروع کر دیجیے گا۔۔۔ ہم نے کہا ہے کہ ہر ذہین جرنیل ہمیں ڈنڈے سے دبانے کے حق میں رہا ہے، وہ کوئی جنرل یحییٰ ہو، جنرل اسلم بیگ ہو، راحیل شریف ہو، کیانی ہو یا پھر کوئی اور جنرل صاحب۔۔۔ جب طے کر لیا تو سب نے طے کر لیا، اس میں اونچ نیچ کیسی۔۔۔؟

سوری! بات مولانا فضل الرحمن کے جانثاروں کے ڈندوں سے چلی، سکول ٹیچرز کے ڈنڈوں تک آئی اور سیدھی جرنیلوں کی کورٹ میں جا گھسی۔۔۔ ویری سوری۔۔۔ ڈنڈے میں طاقت ہی ایسی ہے، بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہے۔۔۔ اف۔۔ بیچارے صلاح الدین پر برسنے والے ڈنڈے یاد آگئے۔۔۔ ارے وہی، مجذوب مبینہ اے ٹی ایم چور۔۔۔

چھوڑیئے! کس کس ڈنڈا بردار کی بات چھیڑی جائے۔۔۔ سیانے کہتے ہیں کہ” وِگڑے تِگڑے کا ڈنڈا پیر“۔

 دیکھیے نا! پوری قوم تو بگڑی ہوئی ہے، کوئی بھی اپنا کام ڈھنگ سے نہیں کرتا۔ موجودہ حکومت کو ہی لیجیے! کیسے کیسے دعوے تھے کپتان صاحب کے۔۔۔ جس وزیراعظم ہاﺅس کو اب تک بہت بڑی نامور یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہو جانا چاہیے تھا، اُسی میں بیٹھ کر اپنی کارکردگی صفر کیے ہوئے ہیں، کوئی اُن کے لئے بھی ڈنڈا۔۔۔ اُف۔

 ایک بار پھر سوری۔۔بھلا وزیراعظم کےلئے کون ڈنڈا سوچتا ہے؟ ہم ہیں ہی بُرے، اوٹ پٹانگ باتیں لکھتے رہتے ہیں، حکمران کی اطاعت کا باقاعدہ ”حکم“ ہے۔۔۔ یقین نہ آئے تو کسی پی ٹی آئی مولوی سے پوچھ لیں، پی پی پی، مسلم لیگ (ن) کے مولویوں سمیت مولانا فضل الرحمن سے اس وقت مذکورہ” حکم “ بارے کچھ پوچھنا مناسب نہیں۔۔۔

 اب آپ کہیں گے کہ ہم نے اس حکم نامے کے متعلق کہاں سے سنا؟ چلیے! آج ہم آپ سب کو اس بارے سب کچھ تفصیل سے بتا ہی دیتے ہیں۔۔

جب جنرل ضیاءالحق کی ڈکٹیٹر شپ عروج پر تھی تو اس وقت ہم ننھے منے تھے لیکن عقل و شعور پوری کم سنی اور معصومیت کے ساتھ ہمارے پاس بھی تھا۔ تبھی ہم نے اکثر مولویوں سے سنا کہ حاکمِ وقت کی اطاعت کرو، یہ آپ سب پر فرض ہے۔۔۔ ورنہ۔۔۔

یقینا تب ہمارے معصوم ذہن میں یہ سوال کئی بار ابھرا کہ اگر اللہ اور اس کے رسولکی طرف سے ایسا کوئی حکم ہے تو حسین عالی مقام نے یزید کی اطاعت کیوں نہ کی؟

خیر چھوڑیئے! اس ڈنڈا زدہ قوم کے لیے مزید کیا تڑپنا، ہم من حیث القوم ہیں ہی اسی قابل، مگر ذکر تو صرف اتنا تھا کہ سوشل میڈیاپر پر ایسی تصاویر عام دکھائی دے رہی ہیں جو مولانا فضل الرحمن کے جانثاروں نے اپ لوڈ کی ہیں اور یہ تصاویر ایسے رنگین ڈنڈوں کی ہیں جو مولانا کے احتجاجی مارچ میں ان کے تمام حامیوں کے پاس ہوں گے۔ جی ہاں! ان ڈنڈوں کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہے کہ جو بھی سامنے آئے، اسے رکھ رکھ کے مارو، چاہے سامنے آنے والوں میں بریگیڈیر اعجازشاہ ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ لیکن ٹہریئے! رُکیے! اور سوچیے!۔۔۔ نہیں! سوچیے ہر گز نہیں، بلکہ بریگیڈیر اعجازشاہ صاحب کے اب تک کے کارنامے گن لیجیے! آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

پھر وہی محاورہ یاد آگیا۔۔۔ ” وِگڑے تِگڑے دا ڈنڈا پیر

ایک پرانا پنجابی گیت بھی یاد آگیا۔۔۔ ”خاناں دے خان پروہنے

لیکن یہاں ” پیراں دے پیر پروہنے “پرفیکٹ آئے گا۔ کیونکہ دونوں طرف پیر ہیں، بریگیڈیر اعجاز شاہ بھی پیر اور مولانا فضل الرحمن بھی پیراں دے پیر۔۔۔

ایک اور پنجابی محاورہ یاد آیا۔۔۔ چلو! اردو میں لکھ دیتا ہوں۔ ” سانپ کو سانپ لڑے تو زہر کس کو چڑھے؟

معذرت خواہ ہوں دوستو! پورا کالم ہی زہریلا ہو گیا۔۔

چلیے! کالم کا زہریلا” منکا “ نکالتے ہوئے سوچتے ہیں کہ کیا یہ وقت کسی بھی طرح کے احتجاجی مارچ کے لئے موزوں ہے؟ کیا پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) جیسی جماعتیں مولانا کا بھر پور ساتھ دیں گی؟ کیا عمران خان کی نااہل حکومت اس قابل ہے کہ کسی بڑے احتجاج کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہے؟

افسوس ہے تو اس بات کا کہ ملکی اکانومی پہلے ہی ناکردہ گناہوں کی سزا پائے ہوئے ہے۔ مہنگائی اور غربت عوام کی ناک سے لکیریں نکلوا رہی ہے۔ پیارے وزیراعظم کے پاس چند بڑھکوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ مسئلہ کشمیر کے طفیل ہم جان چکے کہ پوری دنیا میں ہمارا کوئی دوست نہیں، ہماری کہیں کوئی ساکھ نہیں۔ ایسے حالات میں اگر کسی بھی طرح کی کوئی پُرتشدد تحریک شروع ہو جاتی ہے تو کیا بنے گا؟ یہاں ایک فلمی ڈائیلاگ بھی مارا جا سکتا ہے کہ ”تیرا کیا بنے گا کالیا“ لیکن یہ وقت کسی بھی طرح کی ڈائیلاگ بازی کا نہیں ہے، بڑھکوں والے کپتان صاحب سے لے کر وزیرداخلہ بریگیڈئر پیر اعجاز شاہ صاحب سمیت ہر فریق اور سبھی دھڑوں کے سوچنے کا ہے کہ اگر آزادی مارچ سے پُرامن طریقے سے نمٹا نہ کیا گیا تو اکانومی کا مزید بیڑا غرق ہو جائے گا۔ تاجر باہر نہیں نکلے گا، کاروبارِ زندگی ٹھپ ہو جائے گا۔ سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر ہم مزید کئی سال پیچھے چلے جائیں گے اور پھرغربت کے مارے ہر شخص کے ہاتھ میں ڈنڈا ہو گا۔ ایسا ڈنڈا جو ویرانیوں، بربادیوں کے علاوہ کچھ نہ دے گا۔

 کاش! حکمران معاملے کی نزاکت کو سمجھیں، کاش! مولانا فضل الرحمن بھی اپنے حواریوں کو سمجھائیں کہ سوشل میڈیا پر ڈنڈا برداروں سے کنارہ کریں۔ آزادی مارچ ان کا حق ہے مگر ابھی سے ملک میں دہشت پھیلا دینا جرم ہی نہیں بلکہ معصوم پاکستانیوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔

کاش! اس بات کا خیال رکھ لیا جائے کہ ہم سب پہلے ہی دہشتوں کے مارے ہوئے ہیں، مزید کسی بھی قسم کی دہشت یا افراتفری افورڈ نہیں کر سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سرفراز انور صفی کی دیگر تحریریں
سرفراز انور صفی کی دیگر تحریریں