حوالاتی نمبر 4266 : چیف جسٹس کے انصاف کا منتظر
میری گرفتاری اور رہائی کے حوالے سے تمام حکومتی ترجمان مسلسل یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ یہ قانون تو نواز شریف کے دور میں بنا تھا۔ ہم نے اس پر عمل کر دیا تو کیا قیامت آگئی۔ یہ مو ¿قف سراسر غلط ہے۔ نواز شریف یا کسی بھی دوسری حکومت کے عہد میں اسلام آباد کے لیے نہ کوئی کرایہ داری قانون بنا نہ کرایہ داری ایکٹ (Tenency Act ) پارلیمنٹ سے منظور یا نافذ ہوا۔ جس ’جرم‘ کے حوالے سے کوئی ایکٹ یا باضابطہ قانون موجود نہ ہو اس کے لیے دفعہ 144 کا سہارا لیا جاتا ہے جس کے ذریعے کیسی ایسی بات کو ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے جو عام حالات میں جرم کے زمرے میں نہیں آتی۔ میری گرفتاری بھی نہ تو کسی ایکٹ یا قانون کرایہ داری کے تحت ہوئی بلکہ اس کے لیے دفعہ 144 کا سہارا لیا گیا۔
معروف انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ کے سینئر اور کہنہ مشق صحافی طارق بٹ کی ایک بڑی ہی جامع رپورٹ 29 جولائی 2019 ءکو شائع ہوئی جس کا عنوان تھا۔
ICT has no law to collect tenant، s details
آئی سی ٹی (اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری) میں ’کرایہ داروں سے تفصیلات طلب کرنے کا کوئی قانون موجود نہیں‘ ۔ ’اسلام آباد میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو شہریوں پر لازم قرار دیتا ہو کہ وہ کرایہ داری کوائف پولیس کو فراہم کریں۔ البتہ پنجاب میں چار سال سے اس مقصد کے لیے ایک آن لائن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کام کے لیے ہر بار دفعہ 144 کا سہارا لیا جاتا ہے ”۔ رپورٹ میں ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔
”قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے لیکن کسی بھی حکومت نے اسلام آباد کے لیے اس طرح کا کوئی قانون نہیں بنایا“۔ 22 جولائی کو ڈپٹی کمشنر سے منسوب دفعہ 144 کے اعلامیے کے اندر یہ الفاظ شامل ہیں۔
’اس حکم نامے کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے گی۔ اسے سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن میں شائع کیا جائے گا۔ مقامی اخبارات کے ذریعے اس کی پبلسٹی کی جائے گی۔ تمام سب ڈویژنل عدالتوں، تمام تھانوں کے نوٹس بورڈوں اور دیگر اہم مقامات پر اس کی نقول آویزاں کی جائے گی ”۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 22 جولائی کے حکم نامے کی تشہیر تو کیا، اخبارات کو ایک رسمی خبر بھی جاری نہیں کی گئی۔ اس حکم نامے کے حوالے سے معروف صحافی اور کالم نگار انصار عباسی کی ایک اہم سٹوری 30 جولائی کو ’دی نیوز میں شائع ہوئی۔ اس کا عنوان ہے۔
Irfan saddiqui incident: Historic Low for police and civil services
انصار عباسی ڈپٹی کمشنر کے مذکورہ حکم نامے کے بارے میں بتاتے ہیں۔
”ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد کے اس حکم نامے کے درست اور جائز ہونے پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے جو 22 جولائی کو جاری کیا گیا اور جس کے تحت پولیس کو اطلاع دینا اور کرایہ دار کے کوائف فراہم کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ صرف ایک انکوائری کے ذریعے ہی پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ کیا مذکورہ حکم نامہ واقعی گزٹ نوٹیفکیشن میں شائع ہوا؟ کیا درست طریقے سے اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا؟ کیا قانون کے مطابق اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی یا یہ کسی پچھلی تاریخ میں جاری کر دیا گیا ’۔
اس مقدمے کے حوالے سے نادر روزگار نظیروں کا سلسلہ جاری ہے۔ میری ضمانت کے باوجود بے بنیاد ایف آئی آر پر بنا مقدمہ اب تک قائم ہے۔ تمام تر حقائق آشکارا ہو جانے کے بعد بھی انتظامیہ یا پولیس نے کیس اب تک خارج نہیں کیا۔ میں نے اگست کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اخراج مقدمہ کے لیے ایک پٹیشن دائر کی جو عدالتی تعطیلات کی وجہ سے اب تک نہیں سنی گئی۔ رجسٹرار ہائی کورٹ کی طرف سے کہا گیا کہ اس پٹیشن کے ساتھ مجسٹریٹ کی طرف سے منظور کی جانے والی ضمانت کا آرڈر / فیصلہ بھی منسلک کریں۔
میرے وکلا نے اگست کے پہلے ہفتے میں مجسٹریٹ مہرین بلوچ کی عدالت سے رابطہ کیا۔ بتایا گیا کہ صدیقی صاحب کی فائل کسی انکوائری کے لیے ڈی سی صاحب نے منگوائی تھی۔ ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ / ڈپٹی کمشنر سے بار بار رابطوں کے باوجود وہ بیل آرڈر (Bail order) نہیں ملا۔ پھر بتایا گیا کہ تھانہ رمنا سے معلوم کریں۔ وہاں سے بھی گوہر مراد ہاتھ نہیں آیا۔ کوشش جاری ہے۔ اس دوران میں نے ہائیکورٹ میں حلف نامہ جمع کرا دیا ہے کہ اپنی ضمانت کا تحریری فیصلہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ دیکھئے قسمت کب یاوری کرتی ہے۔
اس طلسم ہوشربا کا سب سے تحیر خیزباب، دو دن ہفتہ 27 جولائی اور اتوار 28 جولائی میں رقم ہونے والی داستان عدل ہے جو ابھی تک میرے حواس کی گرفت میں نہیں آرہی۔ دو دنوں میں ایک ہی عدالت اور ایک ہی منصف نے دو فیصلے صادر کیے جو ایک دوسرے سے کلیتاً مختلف بلکہ معکوس تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈیوٹی مجسٹریٹ مہرین بلوچ صاحبہ نے ہفتے کو میرے وکلا اور خود میری تفصیلی معروضات کو رد کرتے ہوئے مجھے جوڈیشل ریمانڈ پر چودہ دن کے لیے جیل بھیج دیا۔
انہوں نے وکلا کی طرف سے دائر درخواست ضمانت بھی دو دن کے لیے مو ¿خر کر دی۔ اگلے دن اتوار کو انہوں نے عدالت لگائی۔ دونوں فریق اور ان کے وکلا کی عدم موجودگی میں انہوں نے ضمانت منظور کی اور وکیل کو گھر سے طلب کر کے مچلکے حوالے کر دیے۔ یہ کہنا کہ ان کے دونوں فیصلے بظاہر کسی دباؤ کا نتیجہ تھے شاید توہین عدالت کے زمرے میں آئے۔ اس لیے میرا گمان غالب یہ ہے کہ دونوں فیصلے محترمہ مہرین بلوچ صاحبہ کے ذاتی اور ’دیانت دارانہ‘ فیصلے ہوں گے جو انہوں نے ضمیر کی پوری سچائی کے ساتھ صادر فرمائے کیونکہ ہفتہ اور اتوار کے درمیان رات بھی حائل تھی اور بہت سی حقیقتیں عالمی خواب میں آسمانوں سے بھی القا ہوتی ہیں۔
ایک بات البتہ تلوے میں نوکیلے کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے کہ میرے وکلا کی نشان دہی، میری معروضات اور ’جرم‘ کی نوعیت کے باوجود انہوں نے میری ہتھکڑی کیوں نہیں کھلوائی؟ یقینا یہ بھی کسی تقاضائے انصاف کی پاسداری ہو گی۔ میں میاں نواز شریف کی بیسیوں پیشیوں کے دوران احتساب عدالت میں موجود رہا۔ اس دوران درجنوں صحافی نہ صرف عدالت کے کمرے بلکہ برآمدوں اور احاطے میں بھی آزادانہ آتے جاتے تھے۔ زرداری صاحب کی کوریج پر بھی کبھی پابندی نہ لگی۔ میرے ضمن میں صحافیوں کو بیرونی پھاٹک سے اندر نہ آنے دیا گیا۔ کسی ایک بھی نہیں۔ جانے ایسا کیوں؟ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ عدالت بھی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس میں لگی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


