عمران خان کو وزارت عظمی سے کون دھکا دے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے آزادی مارچ کے نتیجے میں ملک میں مارشل لا لگایا گیا تو اس احتجاج کا رخ مارشل لا کی طرف ہوجائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اداروں سے تصادم نہیں چاہتے لیکن ’ماضی میں ایسے حالات پیدا کئے جاتے تھے کہ فوجی جرنیل مارشل لا لگا کر نجات دہندہ بن جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی اپنی مسلط کردہ ہے۔ وہی اس کے ذمے دار ہیں‘۔

سیاست دان بہت کم براہ راست ملکی فوج کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک کی سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ سر پھٹول کرنے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون بلکہ اس کی سرپرستی کی خواہش میں ہی حکمت عملی ترتیب دیتی رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے گزشتہ برس انتخابی دھاندلی کے الزامات کے بعد اسمبلیوں سے استعفے دینے پر اصرار کیا گیا تھا۔ اس میں ناکام ہونے کے بعد انہوں نے 31 اکتوبر سے آزادی مارچ کے نام سے جلوس نکالنے اور اسلام آباد پر دھاوا بولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شروع میں اس احتجاج کا مذاق اڑانے اور اسے غیر سنجیدہ کوشش سمجھنے کے بعد اب حکومت سیاسی طاقت کے اس مظاہرہ کی حدت محسوس کرنے لگی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ روز بنی گالہ میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں جمیعت علمائے اسلام سے بات چیت کے لئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس اعلان کے باوجود ابھی تک حکومت کی طرف سے مولانا سے باقاعدہ رابطہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی ۔ البتہ وزیر اعظم عمران خان نے آج اسلام آباد میں ’کامیاب جوان پروگرام ‘ کا افتتاح کرتے ہوئے تقریر میں دو مواقع پر مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرنا ضروری سمجھا۔ ایک تو انہوں نے نوجوانوں کو قرض دینے کے اس پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے میرٹ پر اصرار کیا اور کہا کہ وہ خود اس پروگرام کی نگرانی کریں گے ۔ اس طرح سارے فیصلے میرٹ پر ہوں گے اور مولانا فضل الرحمان کے لوگوں کو بھی قرضے ملیں گے۔

وزیر اعظم کی باتیں ہمیشہ کی طرح دلچسپ مگر حقیقت سے دور تھیں۔ اس پروگرام کی ‘خود نگرانی‘ کرنے کا اعلان کرکے بھی انہوں نے یہی واضح کیا ہے کہ اپنی حکومت کی تمام تر دیانت اور میرٹ کے دعوؤں کے باوجود وہ صرف خود کو ہی ’ایماندار اور دیانت دار ‘ سمجھتے ہیں اور صرف وہی پروگرام میرٹ پر کام کرسکتا ہے جس کی نگرانی وزیر اعظم خود کریں گے۔ یہ بالواسطہ ہی سہی عمران خان کی طرف سے ملکی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لئے مناسب اقدام میں ناکامی کا اقرار ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے جس جوش و خروش سے ملک میں میرٹ متعارف کروانے کی بات کی ہے اگر وہ اتنی ہی ہوشمندی سے اپنے ارد گرد کھڑے وزیروں اور مشیروں پر نگاہ ڈال لیتے اور جان سکتے کہ انہیں کس قابلیت یا میرٹ کی بنیاد پر ان اہم ذمہ داریوں پر فائز کیا گیا ہے تو شاید انہیں اتنی جلدی مولانا فضل الرحمان کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹنے کی دھمکیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اس موقع پر میرٹ اور جمہوریت کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ بھی فرمایا کہ ’مسلمان ہزار سال تک دنیا کی سپرپاور تھے لیکن وہ جمہوری کلچر سے بادشاہت کی جانب چلے گئے تھے۔ بادشاہت میں میرٹ نہیں ہوتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ میرٹ سب سے پہلے ہو اور میرٹ ہی جمہوری نظام کا خاصہ ہے‘۔ مسلمانوں کے عروج کی رومانوی کہانی سناتے وقت اگر وزیر اعظم یہ نشاندہی بھی کردیتے کہ کون سے عہد میں مسلمان حکومتوں میں جمہوری نظام متعارف تھا اور کب اس جمہوریت کو بادشاہت سے بدل دیا گیا تو نوجوانوں کے علم میں اضافہ ہوجاتا۔ اگر اسلامی معاشروں میں جمہوری نظام اتنا ہی استوار تھا جیسا کہ عمران خان نے بتانے کی کوشش کی ہے تو وہ بادشاہت میں کیوں تبدیل ہوگیا اور اس کے خلاف کوئی عوامی مزاحمت دیکھنے میں کیوں نہیں آئی؟

اس گنجلک تاریخی بحث میں پڑے بغیر اگر عمران خان صرف یہی واضح کردیتے کہ اگر جمہوریت ہی بنی نوع انسان کے لئے حکمرانی کا بہتر نظام ہے اور اسی میں میرٹ اور سب کے ساتھ مساوی سلوک کے اصول متعارف ہوسکتے ہیں تو خود ان کی حکومت کیوں ملک کو جمہوریت سے ’آمریت ‘ کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے کبھی آئینی ترمیم کی بات کی جاتی ہے اور کبھی ملک کا نظام تبدیل کرنے کو ہی عوام کی بہبود کا بہترین راستہ قرار دیا جاتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت پر نامزد ہونے کا الزام عائد ہوتا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ’ناکامی‘ کے باوجود یہ پارٹی درپردہ سرپرستی کی وجہ سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

عمران خان کی نگرانی میں کام کرنے والی حکومت نے گزشتہ ایک برس کے دوران ملک میں مساوی انصاف اور آزادی رائے کے تمام دروازے بند کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی ہے۔ عمران خان کے عملی اقدامات ان کے دعوؤں کے برعکس ہیں۔ حکومت اس وقت میڈیا پر پوری طرح کنٹرول کرچکی ہے اور کسی صحافی کو خود مختاری سے کام کرنے کی آزادی نہیں ۔ میڈیا ہاؤسز کو دباؤ میں لانے کے ہتھکنڈے اختیار کئے گئے ہیں اور سیاسی مخالفین کا مؤقف سامنے لانے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ یہ طریقے کسی ایسے لیڈر کو زیب نہیں دیتے جو نوجوانوں کے ایک پروگرام میں سو فیصد میرٹ کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اپنے دائیں بائیں کھڑے لوگوں میں سے کسی پر اس پروگرام کی دیانتدارانہ تکمیل کے لئے بھروسہ نہیں کرسکتا ۔ اور لوگوں کو میرٹ کا یقین دلانے کے لئے اپنی نگرانی کا جھانسہ دینے پر مجبور ہے۔

عمران خان نے آج کی تقریر میں ایک دوسرے موقع پر بالواسطہ طور سے مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ ’ ملک کی یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے‘۔ ان کا اشارہ بلاشبہ مولانا فضل الرحمان کی طرف تھا جن پر ان کے سیاسی مخالفین ( ان مخالفین میں عمران خان اور تحریک انصاف پیش پیش رہی ہے) ڈیزل کے کاروبار میں کمیشن کھانے اور دولت بنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ تاہم حکومت سنبھالنے کے ایک سال بعد بھی تحریک انصاف کی حکومت مولانا فضل الرحمان پر کرپشن یا مالی بدعنوانی کا کوئی الزام سامنے نہیں لاسکی۔ ایسی صورت میں وزیر اعظم کی طرف سے ڈیزل کا ذکر کرکے مولانا پر طنز کی کوشش کرنا کم ظرفی اور سیاسی ناپختگی کا مظاہرہ تھا۔ ایک طرف حکومت مولانا سے سیاسی مصالحت کا راستہ تلاش کرنا چاہتی ہے تو دوسری طرف وزیر اعظم خود اس تحریک کے قائد کو رسوا کرنے کے لئے اس قسم کی فقرے بازی ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سے بہتر ہوتا اگر وزیر اعظم پارلیمنٹ کی کارکردگی کے بارے میں بتا کر اپنی حکومت کی جمہوریت پسندی کا ثبوت فراہم کرنے کی کوشش کرتے۔ تحریک انصاف کے دور میں قومی اسمبلی جزو معطل بنی ہوئی ہے اور حکومت آرڈی ننس جاری کرکے کام چلانے کی کوشش کررہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان پر طنزیہ الزام تراشی کرنے والے وزیر اعظم کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ایسے ذاتی حملوں سے پیدا ہونے والی کدورت ملک میں سیاسی انتشار اور تصادم کا پیش خیمہ بن رہی ہے۔ ملک میں ابھرنے والی سیاسی صورت حال میں تقسیم واضح ہے۔ حکومت مخالف تمام سیاسی عناصر کسی نہ کسی طریقے سے مولانا کے مارچ کی حمایت کررہے ہیں۔ اس فضا میں متوازن بات کرنے والے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عمران خان جب ایک قومی فلاحی منصوبہ کا افتتاح کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان پر کیچڑ اچھالنا ضروری سمجھتے ہیں تو اسے حکومت کی طرف سے احتجاج کو مسترد کرنے کا پیغام ہی سمجھا جائے گا۔ اس صورت میں پرویز خٹک کی سربراہی میں قائم ہونے والی کمیٹی کی کسی بات کو مولانا فضل الرحمان کیوں سنجیدگی سے لیں گے؟

تصادم کو ہوا دینے کی حکومتی کوشش سے قطع نظر مولانا فضل الرحمان جس شدت اور استقامت سے احتجاج کرنے اور مارشل لا کی صورت میں عسکری اداروں کے سامنے ڈٹ جانے کی بات کررہے ہیں ، وہ موجودہ سیاسی ماحول میں سنسنی پیدا کرنے کا سبب ہے۔ سیاسی کارکنوں اور اپوزیشن پارٹیوں کے نیم دلانہ تعاون کے علاوہ وہ کون سی قوت ہے جو مولانا کو بیباک اور دو ٹوک لب و لہجہ اختیار کرنے پر آمادہ کررہی ہے؟ ماضی میں چلنے والی کوئی بھی سیاسی تحریک کسی درپردہ اعانت و سرپرستی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکی۔ حتی ٰ کہ 2011 میں تحریک انصاف کو سیاست میں فرد واحد کی پارٹی سے ایک سیاسی قوت بنانے والی لاہور کی ریلی کا کریڈٹ بھی اس وقت کے ایک ّشجاع الدولہ ٗ کو دیا جاتا ہے۔ اس لئے جوں جوں مولانا فضل الرحمان کے مارچ کی تاریخ قریب آرہی ہے، یہ سوال شدت اختیار کرتا جائے گا کہ اس احتجاج کی اصل قوت کون ہے اور اس کے نشانے پر کون ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے باوجود انہیں اپنا ہدف نہیں سمجھتے۔ وہ اس بات کا واشگاف اظہار کرتے ہیں کہ فوج نے انتخابی دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو ملک پر مسلط کیا ہے۔ آج انہوں نے متنبہ بھی کیا ہے کہ اگر ان کے عوامی احتجاج کو مارشل لا کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کا رخ عسکری ادارے کی طرف ہو جائے گا۔

ساری زندگی مصالحت و سودے بازی کی سیاست کرنے والے ایک لیڈر کو جارحانہ لب و لہجہ عطا کرنے والے کون سے عوامل ہیں۔ ا س سوال کا جواب جان کر ہی اس احتجاج سے نمٹنے کا اہتمام ہوسکتا ہے۔ بصورت دیگر عمران خان کو استعفیٰ دینے یا وزارت عظمی سے دھکا کھانے کے لئے تیار رہنا چاہئے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1297 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali