پیپلز پارٹی لاڑکانہ سے الیکشن کیسے ہاری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسے وقت میں جب آصف علی زرداری، فریال ٹالپر، خورشید شاہ سمیت کئی رہنما کرپشن کے کیسوں میں نیب کی تحویل مں ہیں اور تقریبا پوری پارٹی قیادت انہی کرپشن کیسز میں عبوری عدالتی ضمانتوں پر ہے پیپلز پارٹی کی طرف سے لاڑکانہ شہر کی صوبائی اسیمبلی کی سیٹ پی ایس 11 ہارنا کوئی اچھا شگون نہیں۔

اس سیٹ پر پیپلز پارٹی کی طرف سے بلاول صاحب کے استاد محترم جمیل سومرو امیدوار تھے جبکہ جی ڈی اے کی طرف سے معظم عباسی امیدوار تھے۔  معظم عباسی معروف سیاسی شخصیت ڈاکٹر اشرف عباسی کے پوتے ہیں۔ مرحومہ ڈاکٹر اشرف عباسی ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی حکومت میں قومی اسیمبلی کی ڈپٹی اسپیکر رہ چکی ہیں۔  محترمہ بی نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں بھی ڈاکٹر اشرف عباسی لاڑکانہ سے جنرل سیٹ پر سردار سلطان چانڈیو کو شکست دے کر ایم این اے بنیں اور ان کو ایک مرتبہ پھر قومی اسیمبلی کا ڈپٹی اسپیکر بنایا گیا۔ ڈاکٹر اشرف عباسی کے بیٹے منور عباسی بھی لاڑکانہ سے ایم پی اے منتخب ہوتے رہے ہیں۔  ڈاکٹر صفدر عباسی اور ناہید خان اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔  اس خاندان کی پیپلز پارٹی سے جدائی محترمہ بی نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہوئی جب پارٹی آصف علی زرداری کے ہاتھ میں آئی۔

2018 کے جنرل الیکشن میں پی ایس 11 لاڑکانہ سے معظم علی عباسی پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کی بیٹی ندا کھوڑو کو شکست دے کر ایم پی اے بنے تھے مگر بعد میں ندا کھوڑو کی پٹیشن پر سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے معظم علی عباسی کو آئین کے آرٹیکل 62 (F) (1) کے تحت نا اہل کیا تھا۔ جس پر یہ ضمنی الیکشن ہو رہے تھے۔

پیپلز پارٹی کی لاڑکانہ کی یہ سیٹ ہارنے کی واحد وجہ بے انتہا کرپشن ہے۔  لاڑکانہ اربوں روپے بجٹ آنے کے بعد بھی تباہ برباد ہے۔  شہر کی گلیوں میں ایسے گٹر ابل رہے ہیں کہ اس الیکشن میں آصفہ بھٹو زرداری صاحبہ کو بھی گندگی سے اٹی بدبو دار گلیوں میں انتخابی مہم کے دوران کئی جگہ پر گندے پانی سے گزر کر جانا پڑا۔ لاڑکانہ کے اسپتال، خدا کی پناہ۔ تباہی کی انتہا پر ہیں۔ اس ضمنی الیکشن میں بلاول بھٹو صاحب پانچ دن لاڑکانہ میں رہ کر اپنے استاد محترم کی الیکشن مہم چلاتے رہے مگر لاڑکانہ کے عوام نے بتا دیا ہے کہ اب بھٹو گیری نہیں چلے گی۔ کرپشن کا حساب دو۔ اگر یہی حالات رہے تو اس حلقے سے آئندہ بلاول بھٹو زرداری بھی اسی طرح ہاریں گے جس طرح ان کی والدہ بے نظیر بھٹو کے دادا سرشاہنواز بھٹو 1936 میں فقیر منش قومی کارکن شیخ عبدالمجید سندھی سے ہارے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •