ایک سلگتی اور ترستی لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھوڑا گلی سے ذرا پہلے پی ایس او پیٹرول پمپ کے قریب ایک نئی کرولا کھڑی تھی۔ اس کا بونٹ کھلا تھا۔ وقت شام کا تھا، میں اسلام آباد سے مری واپس آ رہا تھا۔ میں نے بریک لگائی کہ شاید کسی کی مدد کر سکوں۔ کرولا کے پیچھے گاڑی روک کر میں باہر نکلا۔ ایک سانولا نوجوان گاڑی کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کے قریب ایک گوری چٹی بھرے بھرے جسم والی لڑکی فکر مند انداز میں کھڑی تھی۔ لڑکی کی عمر ستائیس اٹھائیس برس رہی ہو گی۔ اس نے ٹائٹ جینز پہنی ہوئی تھی۔

“ہائے! کیا آپ کو مدد کی ضرورت ہے؟” میں نے ان قریب پہنچتے ہوئے پوچھا۔
ان دونوں نے نگاہیں اٹھا کر مجھے دیکھا۔
“گاڑی بند ہو گئی ہے اور میں سمجھ نہیں پا رہا کہ ایسا کیوں ہے؟” نوجوان نے کسی قدر پریشان لہجے میں کہا۔
“میں کوئی مکینک تو نہیں ہوں مگر کوشش کرتاہوں کہ کوئی مدد کر سکوں۔”

پندرہ بیس منٹ تک میں نے اس نوجوان کے ساتھ گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر ہم اسے اسٹارٹ نہ کر سکے۔
“مکینک کو بلانا پڑے گا، اگر آپ چاہیں تومیں اپنے مکینک کو فون کر کے بلا لیتا ہوں وہ ٹو چین کر کے گاڑی مری ورک شاپ میں لے جائے گا۔” میں نے کہا۔
“ہوں۔ یہی بہتر ہے۔ ہم مری ہی جا رہے تھے۔ آپ اس کو بلا لیں۔” نوجوان نے پرخیال انداز میں کہا۔

میں نے فوراً فرید مکینک کو فون کیا کہ وہ اپنی گاڑی پر آ جائے۔ میں نے اسے تفصیل بتا دی۔
“بس اب آپ ریلیکس کریں۔ وہ آدھے گھنٹے میں آ رہا ہے۔”
“تھینک یو۔”
ہم گپ شپ کرنے لگے۔ خاصا دل چسپ جوڑا تھا۔ لڑکی کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتی تھی اور نوجوان بھی کسی کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر تھا۔ انہوں نے تفصیل بتائی نہیں تھی اور میں نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔

مکینک اپنی گاڑی میں آیا تو اس کے ساتھ اس کا ایک لڑکا بھی تھا۔ میں نے نوجوان سے کہا کہ گاڑی مکینک کے حوالے کریں اور خود میرے ساتھ بیٹھ جائیں۔
“وحید یہ بہت اچھا مشورہ ہے کیوں کہ مجھےبہت بھوک لگی ہے۔” لڑکی نے فوراً کہا۔ نوجوان نے سر ہلا دیا۔ ظاہر ہے مکینک ٹو چین کر کے انتہائی کم رفتار سے جاتا۔ چناں چہ کرولا مکینک کے حوالے کر کے وہ میری گاڑی میں بیٹھ گئے۔

دورانِ سفر گپ شپ کا سلسلہ جاری تھا۔ وحید نے لڑکی کو نجمی کہہ کر پکارا تھا۔ شاید اس کا اصل نام نجمہ رہا ہو گا۔ مری پہنچ کر میں نے انہیں ایک ہوٹل کے سامنے اتار دیا۔

کمرہ بک کروانے کے بعد روم سروس سے کھانا منگایاگیا۔ کھانا کھا کرنجمی وہیں رک گئی اور میں وحید کو ورک شاپ لے گیا۔ مکینک گاڑی لے آیا تھا اور کام کر رہا تھا۔ ہمیں دیکھ کر اس نے چائے منگا لی۔ بہر حال ایک گھنٹے بعد گاڑی ٹھیک ہو چکی تھی۔ وحید میرا بے حد شکر گزار تھا کہ میں نے خاصا ساتھ دیا ہے۔

“کل آپ کیا کر رہے ہیں۔” وحید نے دم رخصت مجھ سے پوچھا۔
“ویک اینڈ ہے، سو فری ہوں۔”
“تو پھر صبح آئیے ناں ہماری طرف۔ کوئی سیر کا پلان بنائیں گے۔”
“ٹھیک ہے، سوچوں گا۔” میں نے مسکرا کرکہا۔

ہم اپنے اپنے راستوں پر روانہ ہوئے۔ اگلی صبح تقریباً نو بجے مجھے وحید کی کال موصول ہوئی۔
“جی جناب! ناشتا کر لیا کیا؟”
“جی نہیں۔”
“تو پھر فوراً آ جائیے، مل کر کرتے ہیں۔”
“او کے۔”

میں پندرہ بیس منٹ میں ان کے ہوٹل پہنچ گیا۔ وحید نے مجھے کمرا نمبر بتا دیا تھا۔ کمرا نمبر 205 کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی تو دروازہ کھل گیا۔

دروازہ نجمی نے کھولا تھا۔ وہ اپنے گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑ رہی تھی۔ وحید کہاں ہے؟
“وہ نہا رہے ہیں؟” نجمی نے بتایا۔
“کمال ہے آپ لوگ ابھی تیار بھی نہیں ہوئےاور مجھے فوراً آنے کے لیے کہہ دیا۔”
“ہمارے ہاں وقت پر کون آتا ہے؟ میں نے ہی وحید سے کہا تھا کہ فوراً آنے کے لیے کہہ دو تا کہ آپ لنچ ٹائم سے پہلے آجائیں۔”  نجمی مسکرائی۔
“یاد رکھیے کہ ہمارے ہاں کچھ میرے جیسے سرپھرے بھی ہوتے ہیں۔ وقت کی پابندی کرنے والے۔” میں نے کہا۔
“شکریہ آیندہ یاد رکھوں گی۔” نجمی کا لہجہ خوش گوار تھا۔

اتنے میں وحید بھی واش روم سے نکل آیا۔ “جی جناب! کیا پلان ہے؟” اس نے پوچھا۔
“پلان یہ ہے کہ آپ اپنی گاڑی یہیں چھوڑ دیں اور میری گاڑی میں چلیں، میں آپ کو ایک بہترین جگہ پر ناشتہ کروانے لے جا رہا ہوں۔” میں نے کہا۔
“ہوں۔ پلان تو اچھا ہے مگر اس میں ایک ترمیم کر لیتے ہیں۔ میزبانی کے فرائض بھلے ہی آپ ادا کر دیں مگر گاڑی میری ہو گی۔”

مجھے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ چناں چہ ہم نتھیا گلی کی طرف رواں دواں تھے۔  راستے میں ایک خوبصورت مقام پر ریسٹورانٹ میں ناشتا کیا گیا۔ اس کے بعد ہم نتھیا گلی چلے گئے۔ وہ دونوں ہنسی مذاق بھی کرتے رہے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ میں نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔

راستے میں ایک جگہ وحید کا فون بج اٹھا۔
“ہیلو ڈارلنگ۔” اس نے فون اٹھا کرخوش گوار لہجے میں کہا پھر دوسری طرف کی بات سننے لگا۔
“ہم اس وقت نتھیا گلی کے خوبصورت نظاروں سےلطف اندوز ہو رہے ہیں۔ تم کیا کر رہی ہو؟” وہ پوچھ رہا تھا۔

وہ دو تین منٹ بات کرتا رہا۔ میں حیران تھا کہ ایک ڈارلنگ ساتھ ہے تو دوسری ڈارلنگ کون ہے لیکن پوچھنے سے گریز کیا۔ بہر حال شام تک میں ان کے ساتھ رہا۔ ہم نے خوب انجوائے کیا۔ دو تین بار وحید نے فون پر”ڈارلنگ” سے بات کی۔

شام کو ہم واپس آ گئے۔ ہوٹل کے کمرے میں چائے پینے کے بعد میں نے رخصت چاہی۔
“یار آپ کے ساتھ سیر کرنے کا لطف آ گیا۔ کل بھی آ جائیں۔ کل شام کو ہم واپس جائیں گے۔” وحید نے کہا۔ میں نے معذرت کر لی کیوں کہ اگلے روز میں مصروف تھا۔
“کوئی بات نہیں، ہم مہینے میں ایک دفعہ ضرور یہاں آتے ہیں۔ اب آپ سے دوستی ہو گئی ہے تو اگلی دفعہ ضرور تکلیف دیں گے۔” وحید بولا۔
“میں حاضر ہوں۔” میں نے سر جھکایا۔ “ویسے اگر تم برا نہ مانو تو کیا میں ایک سوال کر سکتا ہوں؟”
“ہاں ہاں کیوں نہیں۔” وحید بولا۔
“یہ آج بار بار آپ کو فون کس کے آ رہے تھے؟”
“یار وہ میری بیوی ہے۔” وحید نے کہا۔
“تو نجمی؟” میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“یہ بھی بیوی جیسی ہی ہے۔” نجمی اس کی بات سن کر ہنس پڑی۔
“آپ بھی کمال کرتے ہیں۔” نجمی نے اس کے بازو پر ہلکا سا مکا مارتے ہوئے کہا۔

میں نے سوچا کہ نجمی اس کی دوسری بیوی ہو گی اور شاید اس نے پہلی بیوی سے چھپ کر یہ شادی کی ہو گی۔ میں واپس آ گیا۔ ویک اینڈ کے بعد میں مصروف ہوگیا۔  میرے فون میں وحید اور نجمی دونوں کے نمبر تھے لیکن میں ان دونوں سے رابطہ نہ کر سکا۔ دو تین بار ان کی طرف سے گڈ مارننگ کے میسج آئے۔ میں نے بھی رپلائی کر دیا۔ مگر فون پر بات نہ ہو پائی تھی۔ پندرہ دن بعد شام کو میرے فون کی رنگ ٹون بجی۔ اسکرین پر نجمی کا نام جگمگا رہا تھا۔
“ہیلو ہاؤ آر یو؟ آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ میں مری آ رہی ہوں، میرے لیے کسی ہوٹل میں کمرا بک کروا دیں کیوں کہ اس بار اکیلی ہوں۔” نجمی کی آواز سنائی دی۔
اس نے کافی مشکل کام بتا دیا تھا۔ بہر حال ایک دوست کام آیا۔ میں نے نجمی کو ہوٹل کا نام اور کمرا نمبر بتا دیا۔ دو گھنٹے بعد نجمی ہوٹل میں پہنچ چکی تھی۔ میں اس کی خیریت دریافت کرنے پہنچا تو وہ بھری بیٹھی تھی۔ اس نے وحید کی ڈارلنگ کو ب ےنقط سنانا شروع کر دیں۔
“ریلیکس! میں چائے منگاتا ہوں۔”

“اس نے کئی بار ہمارا پروگرام خراب کیا ہے۔ اچھا خاصا وحید کا پلان تھا میرے ساتھ گھومنے پھرنے کا۔ پتا نہیں اس نے کیا بہانہ کیا کہ وحید مجھے چھوڑ کر اس کے پاس چلا گیا۔ میرا اتنا موڈ تھا گھومنے کا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے وہ نہیں آتا تو نہ سہی، میں پھر بھی جاؤں گی۔ اسی لیے آ گئی۔” وہ بول رہی تھی اور اس کے نتھنے زور سے پھول اور پچک رہے تھے۔ گورے گال سرخ ہو رہےتھے۔ اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے اسکرین پر نظر ڈالی اور اسے بجنے دیا۔
“فون کیوں نہیں اٹھا رہی ہو؟”
“وحید کا ہے۔ ابھی مجھے اس پر بہت غصہ ہے۔”
“غصہ جانے دو، اس سے بات تو کرو۔” میں نے کہا۔
اس نے سر ہلایا مگرعین اسی وقت فون بند ہو گیا۔
“میں بات کروں اس سے۔” میں نے آفر کی۔
“نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے وحید کے مزاج کا پتا ہے۔ وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتا، دیکھنا تھوڑی دیر بعد وہ مجھ سے ضرور رابطہ کرے گا۔” نجمی کے لہجے میں یقین تھا۔”تو پھر تم اسے کیوں تڑپا رہی ہو؟”
“وہ مجھے تڑپاتا ہے اور میں اس کو لیکن پیار بہت زیادہ ہے ہم دونوں میں۔”

“کیا اس کی پہلی بیوی کو پتا ہے تم دونوں کے بارے میں؟” میں نے پوچھا۔
“ابھی تک تو پتا نہیں ہے۔ کہیں آپ نہ بتادیں۔”
“مجھے کیا ضرورت ہے، آپ کے معاملات میں دخل دینے کی۔”
“اچھا یہ آپ نے کیا کہا وحید کی پہلی بیوی۔ اس کی ایک ہی تو بیوی ہے۔” نجمی نے کہا۔
میں حیران رہ گیا۔ یہ کیسی بات کر رہی ہے۔ اس دن بات تو ہوئی تھی۔
“میرا تو یہی خیال تھا کہ وہ پہلی بیوی ہےاور آپ دوسری۔”
“آپ کا خیال تھوڑا سا غلط ہے۔ آپ نے شاید ٹھیک سے سنا نہیں تھا۔ وحید نے کچھ اور کہا تھا۔” نجمی مسکرا اٹھی۔
“کیا مطلب؟ تو پھر وہ آپ کا کیا لگتا  ہے؟” میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“وہ میرا بوائے فرینڈ ہے اور کچھ نہیں۔” اس نے رسان سے کہا۔
“بوائے فرینڈ۔ سوری میں تو سمجھا تھا کہ آپ میاں بیوی ہیں۔”

“خیر کوئی بات نہیں۔ اصل میں ہم لڑکیاں چھوٹے شہروں سے بڑے بڑے خواب لے کر بڑے شہروں میں آ جاتی ہیں۔ اور جن کے بہن بھائی نکمے ہوں اور والدین غربت کی آخری سطح پر ہوں وہ سوچتے ہیں کہ ہماری کماؤ بیٹی شادی کر کے کہیں ہمیں بھول نہ جائے۔ چناں چہ ہماری طرف سے بے پروا ہو جاتے ہیں۔”

“اوہ۔ لیکن بوائے فرینڈ کیوں؟”
“آپ کیا سمجھتے ہیں کسی کے سلگتے اور ترستے ہوئے جذبات کو تسکین کی کوئی ضرورت نہیں۔ وحید میرے ساتھ کافی وقت گزارتا ہے۔ وہ کشمیر کا رہنے والا ہے۔ اس کی بیوی گاؤں میں رہتی ہے۔ وہ مہینے میں ایک دو مرتبہ گاؤں جاتا ہے۔ جس ویک اینڈ پر فری ہو تو میرے فلیٹ میں آ جاتا ہے۔” نجمی اس کی رفاقت کے لمحات یاد کرتے ہوئے مسکرانے لگی تھی۔
“جب اتنا کچھ ہے تو تم اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتی؟”
“کیسے کر لوں، وہ شادی شدہ ہے اور میں دوسری بیوی نہیں بننا چاہتی۔”
“تو پھر کیا ایسے ہی۔” میں بات مکمل نہ کر سکا۔
“تو کیا؟ بس ٹھیک چل رہا ہے ایسے بھی۔” اس نے گویا بات ختم کر دی۔

فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ وحید کا فون تھا۔ وہ اس کے پاس آ رہا تھا۔ نجمی کھل اٹھی میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •