وارث میر کی حریّتِ فکر و عمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضیا الحق کے دورِ آمریت میں ملوکیت اور ملّائیت یکجان اور یک قالب ہو کر رہ گئی تھیں۔ اسلام کے نام پر ملائیت کی بزورِ شمشیر ترویج و اشاعت کے خلاف ہمارے دانشوروں کا ردعمل سیکولرازم یا کمیونزم کے نام پر اسلام فراموشی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ خوف و دہشت کی اس فضا میں وارث میر نے اسلام کی حقیقی انقلابی روح کو آشکار کرتے چلے جانے کا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔انھوں نے اقبال کے طرزِ فکر و عمل کو اپنا سرچشمہ فیضان بنا کرمُلائیت کو اسلامیت اور انسانیت کے حقیقی مفہوم سے آگہی بخشی اور ملائیت کا کلمہ پڑھنے کی بجائے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بیان کرنے کا فریضہ سرانجام دیا۔

اُنھوں نے یہ برمحل سوال بر وقت اُٹھایا تھا کہ:
”اس اسلام کا علم بردار، اب پاکستان میں کون رہ گیا ہے جو عارضی جنگی محاذ پر نہیں، زندگی کے عملی میدان میں بھی اشتراکیت اور سرمایہ داری کا مقابلہ کرسکے گا؟ آپ نے کبھی غور فرمایا! پاکستان میں جب کبھی خواہ مختصر عرصے کے لیے اسلام کے نعرے اور بعض مذہبی اجارہ داریوں کو زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے، مسجدوں کے خطبوں میں فرقہ پرستی کو ہوا دی گئی، فروگی اور گروہی اختلافات پر تحقیقی کتابوں اور پمفلٹوں کا سیلاب آ گیا اور مستقبل اور مستقبل کے چیلنج مناظرانہ تفسیر و تعبیر میں کھو گئے۔ کیا یہ ملک اس لیے حاصل کیا گیا تھا کہ توہمات و ضعیف الاعتقادیوں کی بنیاد پر اس کے سیاسی نظام کو استوار کیا جائے؟ امریکا کے چند مولوی آئیں اور وہ پریس کانفرنس کے ذریعے پاکستانی قوم کی سیاسی رہنمائی فرمائیں کہ ۷۷۹۱ء میں انھیں خواب میں بشارت ہوئی تھی کہ ایک خاص نام کا فرقہ پاکستان میں اسلام نافذ کرے گا؟“ ۱۔

وارث میر نے ان ’مذہبی اجارہ داریوں‘ کے سامراجی سرپرستوں کی نشان دہی میں بھی انتہائی جرأتِ اظہار کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اپنے قارئین کو بروقت خبر دار کرتے ہیں کہ:
”پاکستان کے قریب قریب تمام حکمران مغربی مفادات کے نیاز مند رہے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو ان کی Durability کے مطابق، یہ مفادات …. مناسب اور نامناسب ہر طریقے سے استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ سب لوگ امریکا کی آشیرباد سے تخت حکمرانی پر بیٹھے اور اسی کے اشارہ ابرو سے محروم اقتدار بھی ہوتے رہے۔ سیاستدانوں کی حکومت امریکا کے ساتھ فوجی معاہدوں میں شریک تو ہو گئی تھی البتہ امریکی وزارتِ خارجہ کی دستاویزات شہادت دیتی ہیں کہ سیاستدان وزیراعظم، پاکستان کی سر زمین کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا مسئلہ قومی اسمبلی میں زیرِ بحث لانے کی بات بھی کرتے تھے۔ اسی لیے پاکستان میں فوجی جرنیلوں کو برسرِاقتدار لانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اوراب تک یہ منصوبہ کامیاب جا رہا ہے۔ درمیان میں تھوڑے عرصے کے لیے بھٹو کی سول حکومت اور ان کے غیر معمولی عزائم، کباب میں ہڈی بن گئے تھے اور اس ہڈی کو نکال پھینکنا بہت ضروری ہو گیا تھا۔۲“

مغربی دنیا نے بلاشبہ اسلام کی حقیقی روح کی بیداری کے اندیشہ ہائے دُور و دراز کے پیشِ نظرہمیشہ ملائیت کی سرپرستی جاری رکھی ہے۔ اقبال نے اپنے درسِ خودی میں ہمیں یہ سمجھایا تھا کہ ملّا ئیت کے ردعمل میں اسلامیت کو ترک کر دینے کی بجائے اسلام کی انقلابی روح کو بیدار اور سرگرمِ کارکن دینے میں کوشاں ہو جانا درست راہِ عمل ہے:
بیا تا کارِ ایں اُمت بسازیم
قمارِ زندگی مردانہ بازیم
چناں نالیم اندر مسجدِ شہر
کہ دل در سینہئ مُلاّ گدازیم

گویا ملّا کی وجہ سے مسجد کو ترک کر دینا سراسرغلط ہے۔ درست طرزِ عمل یہ ہے کہ اپنے انقلابی افکار سے ملا کا دل پگھلا کر اُسے اسلام کی حقیقی روح سے آگہی بخشی جائے۔وارث میر نے یہی طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ خلّاق دانشور سیاستدان محمد حنیف رامے نے وارث میر کی تحسین میں اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ ”وارث میر کو نہ مولوی تسلیم کرتے ہیں نہ سوشلسٹ اور نہ کمیونسٹ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان کو اولیت دیتے ہیں اسلام کی سچی انقلابی راہ پر چلتے ہیں، قائداعظم اور علامہ اقبال کی پیروی کرتے ہیں اور صرف انقلاب کے نام کو استعمال نہیں کرتے، ان کو مفاد پرست طبقات کبھی تسلیم نہیں کرتے۔۳“

اپنے مضمون بعنوان ”کیا ترقی پسند فکر سیم و تھور ہے؟“ میں وارث میر نے ن م راشد کی نظم ”خواب سحر گئی“ کا برمحل حوالہ دیا ہے۔ اُس دور میں راشد کی اس پرانی نظم سے بصیرت اندوز ہونا لازم تھا۔ یہ نظم ایک مدتِ مدید سے ہم آپ سے بہت کچھ کہتی چلی آ رہی ہے۔ آئیے ہم آپ بھی اس نظم کو ایک بار پھر پڑھیں:
یہ قدسیوں کی زمیں
جہاں فلسفی نے دیکھا تھا، اپنے خوابِ سحر گہی میں
ہوائے تازہ و کشتِ شاداب و چشمہئ جاں فروز کی آرزو کا پرتو
یہیں مسافر پہنچ کے اب سوچنے لگا ہے
وہ خواب کابوس تو نہیں تھا؟
وہ خواب کابوس تو نہیں تھا؟
اے فلسفہ گو!
کہاں وہ رویائے آسمانی؟
کہاں یہ نمرود کی خدائی؟
تو جال بنتا رہا ہے جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کے
ہم اس یقین سے
ہم اس عمل سے
ہم اس محبت سے
آج مایوس ہو چکے ہیں

ن م راشد نے اپنی یہ نظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی تربیت یافتہ افسر شاہی کے کارندوں کے برسراقتدار آ جانے کی الم ناک صورتِ احوال میں لکھی تھی۔ آج وِکی لیکس نے یہ راز افشا کر رکھا ہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے لیاقت علی خان کو اس ”جرم“ کی پاداش میں شہید کرایا تھا کہ اُنھوں نے سرد جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ چناں چہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد، پاکستان میں سیاست کا عمل روک دیا گیا تھا۔ غلام محمد، اسکندر مرزا اور ایوب خان تحریکِ پاکستان کے خواب و خیال سے سراسر نا آشنا تھے۔ چناں چہ راشد نے طلوعِ پاکستان کے سہانے خواب کو ڈراؤنا خواب بنتا دیکھ کر یہ سوال اُٹھایا تھا کہ:
کہاں وہ رویائے آسمانی؟
کہاں یہ نمرود کی خدائی؟

راشد نے ہمیں تصورِ پاکستان کے آسمانی خواب کے پاکستان میں نمرود کی خدائی بن کر رہ جانے کی الم ناک صورتِ احوال کی جانب متوجہ کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان میں پھر سے نمرود کی خدائی نے ضیا الحق کے سفّاک دورِ آمریت کا رُوپ دھار لیا تھا۔ چناں چہ وارث میر کو راشد کی یہ نظم پھر سے یاد آئی اور اُنھوں نے پھرسے یہ سوال اُٹھایا، کہ ہمارا نیا حکمران طبقہ تصورِ پاکستان کے سہانے خواب کو نمرود کی خدائی بنانے میں کیوں کوشاں ہے؟

ایسے میں اُنھیں بانیانِ پاکستان کے خواب و خیال رہ رہ کر یاد آتے ہیں اور وہ اپنے ہم وطنوں کی توجہ اُن کی جانب منعطف کرانے میں منہمک ہو جاتے ہیں۔ اپنے سترہ دسمبر 1986 کے کالم بعنوان ”نئے خیالات ہوئے کیوں کر خطرناک؟“ میں یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ:
”پاکستان کا تصور پیش کرنے والے اقبالؒ اور پاکستان کی جنگ جیتنے والے محمد علی جناحؒ کے تاریخی کردار اور خدمات کی حفاظت کون کرے گا؟ اب پاکستان پر یہ وقت آن پڑا ہے کہ یار لوگ جناحؒ سے قائداعظمؒ اور اقبالؒ سے حکیم الامت کا اعزاز چھین لینا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دور قائداعظمؒ کی جمہوریت و آئین پسندی اور اقبالؒ کی روشن خیالی کا دور نہیں ہے۔ یہ دور تو صاحبان جبہ و دستار اور اصحاب سبزو محراب کا دور ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ تمہیں بیرونی نفس یا اندرونی نفس کا شیطان گم راہ کررہا ہے۔ پاکستان تو بنا ہی اس لیے تھا کہ مسٹر اور ملّا کی تمیز ختم کی جائے۔ ہم ایک ایسا حسین و جمیل معاشرہ پروان چڑھانا چاہتے تھے، جس میں قائداعظمؒ کی جمہوریت پسندی ہو تو اقبالؒ کا فکر و فلسفہ بھی ہو، مسجد بھی ہو اور محراب و منبر بھی ہو، جس میں قائداعظمؒ اور اقبالؒ کے مقام و مرتبہ کا بھی احترام ہو اور ان کے ناقدوں اور ان ناقدوں کے مریدوں کی عزت نفس بھی محفوظ ہو۔ پاکستان نفرتوں کو ختم کرنے کے لیے معرضِ وجود میں آیا تھا، نفرتوں کے شعلوں کو ہوا دینے کے لیے نہیں۔“۴

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پروفیسر وارث میر ہم سے آج بھی یہی سوال پوچھ رہے ہوں۔ آپ اس سوال کا جواب سوچیے میں اتنے میں آپ کو حبیب جالب کی نظم بعنوان ”وارث میر کے نام“ کے دو شعر سنادیتا ہوں:
لفظ اُس کا تیر تھا باطل کے سینے کے لیے
اہلِ حق کا قافلہ سالار وارث میر تھا!
ظلم سہتا تھا نہیں کہتا تھا ظلمت کو ضیا
آنسوؤں کو پی کے نغمہ بار وارث میر تھا!

٭٭٭
حواشی
۱۔ فلسفہ خوشامد، پروفیسر وارث میر، لاہور، ۷۱۰۲ء، صفحہ ۴۹۲۔
۲۔ ایضاً، صفحہ ۹۳۳۔
۳۔ وارث میر کہانی، تدوین: عامر میر، لاہور، ۵۱۰۲ء، صفحہ۶۶۲۔
۴۔ فلسفہ خوشامد، پروفیسر وارث میر، لاہور، ۷۱۰۲ء، صفحات ۹۹۲۔۰۰۳۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •