پی ایس 11 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ہارنے کی چار اہم وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان پیپلز پارٹی کی پی ایس 11 لاڑکانہ سے ضمنی الیکشن میں ہار پر پیپلز پارٹی کے خاتمے کی باتیں کی جا رہی ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جو اربوں روپوں کی کرپشن لاڑکانہ میں کی ہے وہی ان کے ہارنے کی وجہ بنی ہے۔ سندھ اسمبلی پی ایس 11 پر ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی تو دوسری طرح جی ڈی اے جس میں پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام ف، قوم پرست پارٹیوں سمیت پیپلز پارٹی مخالف چھوٹے بڑے دھڑے شامل تھے۔ اکثر و بیشتر ان ضمنی انتخابات میں عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بہت کم نظر آتا ہے اور اس ضمنی انتخاب میں بھی کچھ ایسا ہی رجحان دیکھنے میں نظر آیا۔

ملکی سیاست میں تھانہ کچہری، تقرریاں و تبادلے، ترقیاتی کاموں سمیت چھوٹے بڑے کام بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور عوام پارٹی ٹکٹ کے ساتھ امیدوار کی سلیکشن کو بھی بہت غور سے دیکھتی ہے۔ اکثر و بیشتر لوگ امپورٹیڈ امیدوار پر مقامی امیدوار کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے کام آسکے کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر امیدوار امپورٹیڈ ہوا تو پھر الیکشن کے بعد نظر نہیں آئے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لاڑکانہ کو لوگ بھٹو کے نام سے جانتے اور پہنچاتے ہیں مگر بڑھتی ہوئی آبادی، تعمیرات، کم وسائل، بد نظمی، لوڈ شیڈنگ، کم توجہ اور موسمی تغیرات کی وجہ سے لاڑکانہ مسائل کا گڑھ بن چکا ہے اور اگر کبھی کبھار بارش ہو جائے تو وبال جان بن جاتی ہے۔

گٹروں کا بدبو دار پانی بستیوں اور بازاروں میں بہتا نظر آتا ہے اور اندرون شہر کے اہم راستوں مثال کے طور پر باقرانی روڈ، وی آئی پی روڈ، ریشم گلی، شاہی بازار، جیلس بازار، پاکستانی چوک میں رکشہ اور چنگچی کی وجہ سے اکثر و بیشتر روڈ بلاک نظر آتی ہیں مگر دوسری طرف راستوں کو کشادہ کرنے اور قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن بھی جاری نظر آتا ہے۔ صوبائی اسمبلی کی پی ایس 11 پر پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے امیدوار جمیل سومرو تھے جو اکثر بلاول بھٹو زرداری کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔

دوسری طرف جی ڈی اے کے معظم علی عباسی تھے۔ معظم عباسی کا خاندان کبھی تو پاکستان پیپلز پارٹی کی وجہ سے لاڑکانہ میں جانا جاتا تھا اور یہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی طرح کہتے پھرتے تھے کہ ان کے کپڑے بھی بھٹو خاندان کی دین ہیں مگر آج یہی پیپلز پارٹی کے سخت مخالف بنے پھرتے ہیں۔ معظم عباسی نے 2018 کے جنرل الیکشن میں اسی نشست سے پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کی بیٹی ندا کھوڑو کو شکست دی مگر آرٹیکل 62 ون ایف کی وجہ نا اہل ہو گئے تھے جس کی وجہ سے دوبارہ ضمنی الیکشن ہوئے۔

معظم علی عباسی لاڑکانہ میں اہل علاقہ کے بجلی کا ٹرانسفارمر جل جانے کی صورت میں کبھی کبھار اپنی جیب سے واپڈا والوں کو خرچہ پانی دے کر بجلی کے ٹرانسفارمر تبدیل یا مرمت کروانے کے علاوہ لوگوں کے چھوٹے موٹے کام اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کرواتے رہتے ہیں دوسری طرف نثار کھوڑو ہو یا ان کی بیٹی ندا کھوڑو یا پھر جمیل سومرو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا تعلق لاڑکانہ سے ہے مگر وہ کبھی کبھار عید کے چاند کی طرح لاڑکانہ میں نظر آتے ہیں مقامی سیاست سے لے کر عوامی رابطے کی کمی جمیل سومرو کی ہار کا سبب ہو سکتی ہے۔

اور یہ بھی دیکھا گیا ہے بعض دفعہ اپنی ہی پارٹی کے لوگ اس طرح کے غیرموثر امپورٹیڈ امیدوارں کی سلیکشن پر ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھنیچ لیتے ہیں۔ باقی جہاں تک تعلق ہے کرپشن کا کہ اربوں کھربوں روپے لاڑکانہ پر لگے ہیں تو وہ بات بھی ڈاکٹر عاصم حیسن کے اربوں کھربوں کی طرح زبانی خرچ ہے جس کے ثبوت کہیں میڈیا میں غائب ہو گئے ہیں۔ بارشوں میں تو لاہور کی شاہراہیں بھی ڈوبتی نظر آتی ہیں جہاں کہا جاتا تھا کہ شریف خاندان نے پورے پنجاب کا بجٹ لاہور پر لگا دیا ہے اسی طرح اسلام آباد کی سڑکوں پر بھی گٹر کا بدبو دار پانی بہتا نظر آتا ہے۔

یہ وہی ملک ہے جہاں پر موبائل کارڈ لوڈ کرنے پر جو ٹیکس کاٹا جاتا تھا اس پر بھی لوگ کہتے پھرتے تھے کہ یہ ٹیکس آصف علی زرداری کے اکاؤنٹ میں جاتا ہے اور یہ وہ نیا ملک بھی ہے کہ جب سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں پر اربوں روپوں کے ٹیکس لگائے جائیں تو پاکستان تحریک انصاف کے تمباکو کی صنعت سے وابستہ طاقتور لوگ یہ کہہ کر ہٹوا دیں کہ غریب تمباکو کے کاشتکار اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر صرف کرپشن پیپلز پارٹی کا طرہ امتیاز ہے جس سے سندھ متاثر ہے تو باقی تینوں صوبے اور وفاق کرپشن کی لعنت سے کیا پاک نظر آتے ہیں؟ اگر سندھ میں ٹھیکے کمیشن کی بنیادوں پر ملتے ہیں تو کیا باقی تنیوں صوبوں، وفاقی اداروں نیشنل ہائی وی اور سی ڈی اے میں ٹھیکے پاک دامنی کی بنیاد پر ملتے ہیں؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن پی ایس 11 کے نتائج کو رد کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کا مینڈیٹ چوری کر لیا گیا ہے اور اس لیے وہ الیکشن سے پہلے الیکشن میں کچھ لوگوں کی تعیناتی پر اعتراض کر رہے تھے مگر مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی الیکشن کے نتائج شروع ہی ہوئے تو یہ مستند خبریں عوام میں پھیل گئیں کہ پیپلز پارٹی کا امیدوار ہار گیا ہے اور کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے پھرتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے رہنما علیم عادل شیخ تو پہلے سے ہی معظم علی عباسی کی جیت کے جشن میں شریک ہونے کے لیے لاڑکانہ میں موجود تھے اب یہ محض اتفاق تھا یا پھر درویش کی دعا یہ تو رب ہی جانتا ہے۔

باقی کرپشن، بد انتظامی، بد عنوانی، اقربا پروری، سفارش، صحت کی سہولیات کی کمی، راستوں پر گٹر کا بدبودار پانی بے حسی صرف لاڑکانہ میں نہیں بلکہ پورے ملک میں دیکھی جا سکتی ہے جس کا صرف تناسب کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ پی پی پی کو صرف کرپشن نے ہی ہروایا یا پھر ان کے امپورٹیڈ امیدوار کی غلط سلیکشن نے یا پھر معظم عباسی کا بجلی کا ٹرانسفارمر کام کر گیا یا پھر یہ سب کچھ پاکستان تحریک انصاف کے علیم عادل شیخ صاحب کے مبارک قدموں کا نتیجہ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •