کیا سیرل المیڈا کی کہانی مریم نواز کو ڈبو گئی ہے؟

\"wisi-baba\"

سیرل کی سٹوری سے مچی گھڑمس جاری ہے۔ ایک مقبول ٹی وی پروگرام میں ”اعلی ترین فوجی عہدیدار“ کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔ سیرل کی سٹوری کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا گیا تو بس اتنا کہ ”یہ بتایا جائے کہ قومی سلامتی کے حوالے سے اہم اجلاس کی خبر کس نے لیک کی“۔

سوال بہت اچھا ہے ۔ اس کا جواب پریشان کن ہے، کم از کم نوازشریف کے لئے۔ کہیں کوئی خبر نہیں چھپی لیکن میڈیا میں، پنڈی میں یہی کہا جا رہا کہ سیرل کی خبر مریم نواز کے میڈیا سیل نے ہی لیک کی ہے۔ مریم نواز کا میڈیا سیل پنڈی والوں کے لئے ایک مستقل درد سر پہلے بھی رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پنڈی سے شروع ہوئی ”شکریہ راحیل شریف“ مہم کو مریم نواز کے میڈیا سیل نے ایک لطیفہ بنا کر رکھ دیا تھا۔

کپتان کا دھرنا بظاہر تو نوازشریف کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ پانامہ لیکس میں نوازشریف کا نام نہیں ہے۔ کپتان کی جاری شدہ مہم کا اصل نشانہ مریم نواز بن گئی ہیں۔ وہ مسلم لیگ نون کی سربراہی سنبھالنے سے بہت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں۔ آثار یہی ہیں کہ اب مریم نواز فوری طور پر مسلم لیگ نون کی صدر نہیں بن سکیں گی۔ اس میں مزید دچلسپ اور مصالحے دار پہلو بھی ہے۔ کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا پانامہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ نوازشریف کی سیاسی وراثت کے لئے اب شہباز شریف اور حمزہ کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔

سیاسی گرو اسی لئے محمود خان کو اہم قرار دیتے ہیں۔ نوازشریف اپنی فیملی سے مریم کے علاوہ کسی اور کو اپنی جگہ نہیں آنے دیں گے۔

\"maryamnawazsharif\"

سیرل کی متنازعہ سٹوری نے مریم نواز کے لئے حقیقی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ یہ کسی عدالت کا کیس تو ہے نہیں۔ تحقیقات ہونی ہیں تو پتہ لگ جانا ہے کہ لیک کا سورس کون ہے۔ سٹوری میٹنگ میں شریک کس افسر یا حکومتی اہلکار نے لیک کی۔ اس حوالے سے پنڈی میں لنگر گپ ایک لفظی ہی چل رہی ہے۔

سننے میں آ رہا ہے کہ نوازشریف کو چیک میٹ ہو گئی ہے۔ یعنی کوئی شطرنج کی بازی لگی ہوئی تھی جس میں انہیں مات ہو گئی ہے۔

صورتحال ایسی ہے کہ اپنے بے وثوق ذریعے، یعنی اپنے بے خبر سے رابطہ کرنا ہی پڑا۔ وہ مچلا ہوا بظاہر سو رہا تھا۔ اس نے کچھ بتانے کی بجائے سارا قصہ تفصیل سے سنا۔ چیک میٹ والی بات سن کر کہا کہ اچھا تو پھر۔ یہ سن کر اگ لگ گئی تو اسے کہنا پڑا کہ تمھاری حکومت نہیں بچ سکتی اب جا رہی ہے۔

بے خبر نے کہا کہ جا کر سکون سے سو جا۔ ساری باتیں ٹھیک ہیں بس اک ذرا سا فرق ہے۔ جس میڈیا گروپ نے یہ خبر چلائی ہے وہ بہت پرانے میڈیا گرو ہیں۔ انہوں نے خبر کی سب ذرائع سے تصدیق کر لی تھی۔ تصدیق ظاہر ہے انہوں نے پیدل جا جا کر تو کی نہیں تھی۔

زمانہ بدل تو گیا ہے، خراب بھی بہت ہو گیا ہے۔ دو بندوں کی آپسی بات وہ سب سن لیتے ہیں جنہیں نہیں سننی چاہئے۔ وزیر اعظم صاحب جب بلا کر پوچھیں گے کہ اچھا پھر ان سب کو نکال دیں؟ سب میں ایسا ایسا معزز افسر ہے جسے دیکھ کر اچھے اچھوں کا ہاسا نکل جانا۔

سول ملٹری کا بہنوں والا پیار لوٹ آئے گا ۔ چیک میٹ تو شاید ہو ہی گئی ہے ۔ پر بساط اصل میں متوقع محاذ آرائی کی ہی لپیٹی گئی ہے۔


اسی سے متعلق

سیرل المیڈا نہیں، مخبر کو سزا دی جائے: ”اعلی ترین عسکری ذرائع“
Comments - User is solely responsible for his/her words