لنگر خانے ، بھوک کی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بظاہر تو حکومت پاکستان کا معصومانہ بیانیہ ایک فلاحی ریاست کا نعرہ ہے مگر یہ صرف عوام کے دل کو بہلانے کے لئے ہی ہے جسے حکومت مصنوعی اقدامات کے ساتھ مذہبی عقائد سے جوڑ کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ احساس سیلانی لنگر خانوں کی سکیم بھی حکومت کے اس طرح کے نمائشی اقدامات کا حصہ ہے ،جو تبدیلی کا احساس دلانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ حکومت ملک سے بھوک اور افلاس کے خاتمے کے نام پر چند لوگوں میں مفت کھانا تقسیم کا اہتمام کرے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر ملک بھر میں 112 لنگر خانے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

لنگر خانوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کی جانب سے ان کے ریاست مدینہ کے تصور پر تنقید پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ناقدین کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ ریاست مدینہ کا قیام 13ماہ میں ممکن نہ ہوا تھا ۔ وزیر اعظم کی تقریر میں کچھ بھی نیا نہ تھا یہاں تک کہ ان کا غربت کے خاتمے کا فلسفہ بھی پرانا ہی تھا۔ ترقی پذیر ممالک میں بہت سے ملک اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ لوگوں کو کھانا بانٹ کر ملک سے غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے لنگر خانوں کے افتتاح کے ایک ہفتے بعد ہی بھارت کے ماہر معاشیات بینر جی اور ان کی فرنچ نژاد بیوی ایسٹر ڈفلو Esther Dufloنے دنیا سے غربت کے خاتمے کیلئے اپنا تجرباتی تصور پیش کرنے پر نوبل انعام حاصل کیا ہے۔

ان کے مطابق عالمی غربت کی وجہ غربت کے خاتمے کے لئے روایتی فکر ہے۔ انہوں نے غربت کے خاتمے کے روایتی نظریات کوچیلنج کرتے ہوئے غربت کی وجوہات جاننے کی کوشش ہے کہ غریب مراعات پر کس قسم کے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ دونوں نے دنیا بھر کے 18غریب ممالک کے دورے کئے تو ان پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ غریب ممالک اس لئے سزا وار نہیں کہ وہ غریب ہیں یا یہ ممالک تاریخی طور پر بدنصیبی کا شکار ہیں بلکہ ان ممالک کو جہالت، لاعلمی اور اپنے مخصوص نظریات کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو اس تحقیقاتی مطالعے سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ ان کو پتہ چل سکے کہ غریبوں کو روٹی مہیا کر کے یا خیرات بانٹ کر غربت کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے 1904ء میں اقتصادیات بارے کتاب لکھی تھی اس کتاب کے پیش لفظ میں مسلمانوں کے معاشی امور کے متعلق نقطہ نظر کا ذکر کرتے ہیں جو پاکستان کے تناظر میں آج بھی قابل عمل ہو سکتا ہے ۔ علامہ اقبال نے اپنے وقت کے اقتصادی تصورات کو چیلنج کیا کہ دولت کا تصورانسان کو بدعنوان اور اخلاقی طور پر تباہ کر دیتا ہے۔ اقبال نے دلائل سے ثابت کیا کہ دولت کا حصول یا علم نافع انسان کی جنگی جبلت کو کنٹرول کرنے اوردنیا میں امن قائم کرکے ہم آہنگی پید کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کتاب کے دیباچے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سائنس اور معاشی میدان میں ترقی کرکے ہی برصغیر کے مسلمان ترقی کرسکتے ہیں۔

پاکستانی معیشت میں تجریدی فکر اپنائے بغیر پاکستان کی معاشی صورت حال کو سنبھالا نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان آج بھی قرون وسطیٰ کے دور کے بیانیے کے مطابق لنگر خانے کھول کر ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے اقدامات کر رہا ہے۔ مگر اس قسم کے عارضی اقدامات سے ملک کے سماجی اور معاشی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ عالمی ہنگر انڈیکس میں پاکستان کا 117ممالک میں 94واں نمبر ہے جو نہایت تشویش کی بات ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 24فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ جس سے ایک موثراور قابل عمل حکمت عملی مرتب کئے بغیر نبرد آزما نہیں ہوا جا سکتا۔

وزیر اعظم چین کے غربت کے خاتمے کے پروگرام سے متاثر ہیں یہ پروگرام چین کے ترقیاتی ایجنڈے اور حکمت عملی کا حصہ ہے۔

چین میںدیہی علاقوں میں غریبوں اور وسائل سے محروم افراد کو مفت خوراک مہیا کی جاتی ہے مگر مفت خوراک کی فراہمی بھی ان افراد کے سرکاری منصوبوں میں کام کرنے سے مشروط ہوتی ہے جن میں کام کرنے کا ان کو مناسب معاوضہ ملتا ہے اور مفت خوراک بھی۔ دی بائو Dibao پروگرام کے ذریعے چین غربت کے خاتمے کے لئے جو اقدامات کر رہا ہے ان میں غریبوں کو کم کرایہ پر گھروں کی فراہمی صحت کی سہولیات اورتعلیم کے ساتھ ناگہانی آفات کی صورت میں عارضی امداد شامل ہوتی ہے اور اس کام میں مقامی حکومتوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس اختیارات کی مرکزیت پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔

غربت کے خاتمے کی دوسری مثال بھارت کی ہے عالمی سطح پر غربت کے خاتمے کے لئے بھارتی حکومت کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے۔بھارت گزشتہ چند برسوں میں اپنی 3فیصد آبادی کو غربت کی لکیر کے نیچے سے نکال چکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارتی ماڈل کو قومیت کے فروغ کا باعث بننے پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے اور اس کی وجہ بھارتی حکمرانوں کی طرف سے ہندوتوا کو بڑھاوا دینا ہے۔

بظاہر اس قسم کے پروگرام انتخابی سیاست میں اپنے حلقے مضبوط کرنے کے لئے شروع کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کچھ مذہبی خیراتی اداروں پر دہشت گردوں سے تعلقات کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ کالعدم تنظیمیں بھارتی انتہا پسند جماعتوں کی پیروی کرتے ہوئے پنجاب اور سندھ کی اقلیتوں سے ایسا ہی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں مگر پاکستان میں مذہبی تنظیموں کے خیراتی پروگرام آر ایس ایس کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستانی تنظیموں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ عالمی نگرانی کی زد میں ہیں۔ بھارت میں بی جے پی نے بھوک کے کارڈ کو موثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنے ووٹ بنک میں اضافہ کیا ہے پاکستان میں گزشتہ انتخابات میں غربت انتخابی ایشو نہ تھا۔ حکمران جماعت نے بدعنوانی کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت کرپشن کے انسداد کے لئے اقدامات کرنے کے باعث شدید دبائو میں ہے اور حکومت نے اس دبائو کو لنگر خانے کھول کرریلیزکرنے کی کوشش کی ہے مگر بینر جی کا بھارتی اور پاکستانی حکمرانوں کے اقدامات پر خیال ہے کہ اس طرح غربت ختم نہیں ہو سکتی غربت کے خاتمے کے لئے پاکستان اور بھارت کو جہالت بے روزگاری اور کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •