سی پیک اور کثیرالثقافتی میل جول کا پہلو

جغرافیائی اور علاقائی باہمی رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہونے کے تناظر سے قطع نظر پاک چین اقتصادی راہداری نے اس بات کی بھی امید پیدا کردی تھی کہ اس سے پاکستان کی معاشی اٹھان ممکن ہوگی اور صنعتی شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ لیکن یہ امید آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ مقتدر اشرافیہ اس منصوبے کی حقیقی طاقت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور اس کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع

Read more

رشید مصباح کے لئے

”کبوتر بازی اور غزل بازی میں کیا فرق ہے“ جب تین چار شاعر اکٹھے ہو جاتے اور کوئی اپنے نئے شعر سنا رہا ہوتا تو وہ درمیان میں یہ سوال اچھالتا۔ غزل دھری کی دھری رہ جاتی اور بحث شروع ہو جاتی۔ ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز چچلی انگلی میں سگریٹ پھنسا کر مٹھی سے زور دار کش لگاتا۔ ایسا بارہا ہوا اور شاعر ہر بار اس کے جال میں پھنس گئے۔ بات ویسے پھینکنے والی نہیں کہ کبوتر بازی اور غزل کہنے کے عمل میں کیا مماثلت ہے؟

کبوتر اڑانے کے فن میں بھی مخصوص گردانوں میں مہارت پیدا کرنا پڑتی ہے۔ کہ کس آواز کی گردان سے کبوتر اڑانے، لڑانے یا بلانے ہیں اسی لئے ایک زمانے میں عروض کے ماہر اساتذہ اور شعرا کبوتر بازی کے بھی رسیا ہوتے تھے۔ اس نے اپنی زندگی بھی ایک بازی کی طرح گزاری۔ اس کی زندگی اتار چڑھاؤ کا ایک ردھم تھی لیکن کورونا کی وبا کے سامنے بے بس ہو گیا۔ زندگی تھم سی گئی۔ لوگ گھروں میں مقید ہو گئے پڑھنے پڑھانے سے جو زندگی کی ڈور جڑی تھی وہ بھی ٹوٹنے لگی تھی۔

Read more

افغان طالبان، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور پاکستانی قیادت (مکمل کالم)

افغان طالبان کے اس اصرار نے کہ افغانستان میں القاعدہ کا وجود نہیں، دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ طالبان کے اس بیان سے اس برس امریکہ سے کیے گئے معاہدے پر کوئی خوش کن اثر نہیں پڑنے والا۔ اگرچہ طالبان کے انکار کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی بھی تاریخ رہی ہے لیکن طالبان کے افغانستان میں القاعدہ کے وجود نہ ہونے کا بیان ان کی سیاسی مجبوریوں کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان روابط کی طویل تاریخ ہے جس کو اب برقرار رکھنے میں طالبان کو دقت محسوس ہو رہی ہے۔

طالبان کی اپنے دوستوں اور دشمنوں سے انکار کی طویل جنگی حکمت عملی چلی آ رہی ہے یہاں تک کہ 90 ء کی دہائی میں جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تو دنیا بھر سے دہشت گرد افغانستان میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے پاکستان سے بھی فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث افراد نے بھی افغانستان میں پناہ لی۔ اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ لشکر جھنگوی کے دہشت گرد افغانستان میں تربیتی مراکز چلاتے رہے ہیں۔ پاکستان نے جب بھی دہشت گردوں کو افغانستان سے نکالنے کا مطالبہ کیا طالبان کی طرف سے ان کے افغان سرزمین پر موجودگی سے مسلسل انکار کیا جاتا رہا۔

Read more

چین بھارت کشیدگی: پاکستان کیا کرے؟

چین بھارت کشیدگی: پاکستان کیا کرے؟

بھارت کو چین کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد ایک بار پھر ہزیمت کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت سخت دباؤ میں ہے۔ اس کی حکومت کا لبہ و لہجہ وہ نہیں جو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دنوں میں ہوتا ہے بلکہ مودی کا یہ بیان کہ چین نے بھارت کی کسی چوکی پر قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی چینی فوجی بھارتی سرحدوں کے اندر آئے۔ ہر کافی لے دے ہو رہی ہے۔ بیس انڈین فوجیوں کی ہلاکت اور دس فوجیوں جن میں اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں ان کی گرفتاری۔

Read more

افغانستان: تزویراتی تبدیلی؟

ہمارے خطے کا جیوپولیٹیکل ( جغرافیائی سیاسی) منظرنامہ تیزی سے بدلتاچلا جا رہا ہے، رجائیت پسند طبقے کا خیال ہے کہ اس تیزی سے بدلتے منظر نامے کی بدولت وہ پاکستان کے جیو سٹریٹیجک (تزویراتی) نقطہ نظر میں تبدیلی کو محسوس کر رہے ہیں۔ بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ مذکورہ تبدیلی بڑے پیمانے پرجیو اکنامک ( جغرافیائی معیشت) کے گردگھوم رہی ہے، اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت واضح نظریاتی تبدیلی ہوگی۔ لیکن ہمارے ریاستی اداروں کے بیانات میں اس تیزی سے بدلتے منظرنامے کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا، یا شاید وہ اس کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان کے خراب معاشی اشارے ایسے خیالات کو وزن نہیں دیتے ہیں کہ ریاست اپنے جیوسٹریٹجک یا جیو اکنامک نقطہ نظر کو مستحکم کرنے کے لیے ایک مخصوص حد تک جتن کررہی ہے۔ یہاں تک کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری (سی پیک) ، جو ملک کی کمزور معیشت کے لئے گیم چینجر کی حیثیت سے مثال بنا کرپیش کی گئی تھی، ریاستی اداروں کی عدم توجہی کا شکار ہو گئی ہے۔ تاہم، جو طبقہ پاکستان کے جیوسٹریٹجک طرز عمل میں تبدیلی دیکھ رہا ہے وہ محض معاشی سے متعلق دلائل پر قابض نہیں، بلکہ یہ خاص طور پر افغانستان کی طرف ریاست کے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی طرز عمل پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔

Read more

وبا کے دنوں کی عید

عید ایک خوف کے عالم میں گزرے گی۔ یہ تو معلوم تھا لاک ڈاؤن کے عملاً خاتمے کے بعد کورونا کی وبا نے جو کروٹ لی ہے، تہوار کے دن کے جو چند معمولات کے بارے میں منصوبہ بندی کی تھی وہ کھٹائی میں پڑتے دکھ رہے تھے۔ لیکن پی آئی اے کے طیارے کے حادثے نے سوگ کا اضافہ بھی کر دیا ہے بلکہ اس سوگ نے تو کورونا کی وبا کا خوف بھی بھلا دیا ہے۔ وقت کی بات ہے ایک سانحے کے دکھ کو کم کر نے کے لئے ایک نئے حادثے کا سہارا ہوا ہے۔

شاعر اس پر بہتر مضمون باندھ سکتا ہے۔ لیکن طیارے کے سانحے پر قابل اجمیری کا رسوائے زمانہ شعر اگر برمحل نہیں بھی ہے تو کچھ مناسبت ضرور رکھتا ہے ؎ وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا یہ پاکستان کا مقدر ہی کیوں ہے کہ ہر چند سال بعد ایک خوفناک سانحہ گزرتا ہے، کبھی قومی اور کبھی نجی فضائی کمپنی کا طیارہ حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہر حادثے کے بعد تحقیقات کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ غفلت کے مرتکبین کو سخت سے سخت سزا اور لواحقین کے لئے مالی مداوے کے اعلانات ہوتے ہیں۔

Read more

وبا کے دنوں میں دہشت گردی کا خطرہ

اس وقت جب دنیا کورونا کی وبا کے خلاف جنگ میں مصروف عمل ہے، اقوام اور عالمی تنظیمیں وبا کے انسانوں، معیشت اور سماج اور نفسیات پر منفی اثرات کا جائزہ لینے میں جتی ہوئی ہیں، وبا کے خوف کے سایے میں بھی سکیورٹی خطرات موجود ہیں گو غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز پر دنیا کی توجہ کم ہے۔ مثال کے طور پر کورونا وبا کے دوران بھی دہشت گردی کے خطرے میں کوئی کمی نہیں دکھائی دیتی بلکہ کچھ علاقوں میں تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا جیسا کہ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

Read more

وبائیں اور توہم پرستی

وبائیں نا صرف انسان کی قوت مدافعت اور مضبوطی کا امتحان لیتی ہیں بلکہ وہ ان کی انسانوں کی قوت تخیل کی بھی جانچ کرتی ہیں۔ سازشی نظریات اور پیشگوئیاں بھی اسی طرح پھیلتی ہیں جس طرح کوئی وباء پھیلتی ہے اور موت کے خوف کو اجاگر کرنے سے لے کر انسانی روح کی بالیدگی تک ہر دائرہ کار ِ حیات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ تاہم قوت متخیلہ اور خواب دیکھنے کی صلاحیت کا دارومدار افراد کے

Read more

طالبان امریکہ امن ڈیل: پاکستان کے لیے پالیسی آپشنز

سال 2019 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج نے افغانستان میں داخلی طور پر سیاسی مصالحت کے امکانات کو مزید گہنا دیا ہے۔ ان نتائج کے سبب یہ امید بھی دھندلا گئی ہے کہ نئی قائم ہونیوالی حکومت ایک ایسی اجتماعی مذاکرات کار ٹیم تشکیل دے گی جو افغان طالبان سے بات چیت کرسکے گی۔ صدر اشرف غنی نئی صدارتی مدت میں فاتح ہیں تو انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو

Read more

نیشنل ازم اور ترقی کے نئے رجحانات

ملک بھر کی شاہراہوں کے کنارے مساجد، مدارس اور دیگر چھوٹی بڑی عمارتیں نظر آنا معمول کی بات ہے۔کراچی سے طورخم، اسلام آباد سے گلگت اور پشاور سے کوٹری تک پھیلے ہوئے مختلف مذہبی ادارے ملک کے اندر مذہبی تمدن کی موجودگی کا واضح مظہر ہیں۔ ان مساجد و مدارس اور مذہبی مراکز کا طرز تعمیر ایسی مذہبی قوتوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتاہے جو ایک طرح سے قومی ہم آہنگی پیداکرنا چاہتی ہیں۔ مذہبی اداروں کی باقاعدہ تشکیل کے

Read more

دہشتگردی کا چیلنج ابھی باقی ہے

سال 2019ء کے دوران پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں مزید کمی ہوئی اور اس وجہ سے جانی نقصان بھی کم ہوا۔ اگرچہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ دہشتگرد عناصر کی عملی صلاحیتیں کمزور ہوگئی ہیں تاہم دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ دہشتگرد عناصر تتر بتر تو ہوگئے ہیں تاہم ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور سماج میں وقوع پذیرانتہاپسندانہ افکار تاحال ان کے لیے انسانی، مالی اور نظریاتی کمک

Read more

نوجوانوں کا مسئلہ اور مقتدر اشرافیہ کے مفادات

ہمارے ہاں ’’سیاست‘‘ کا لفظ ایک گالی کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اس کوچہِ خراباں میں نوجوانوں کا قدم دھرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کچھ عرصہ سے پاکستان میں یہ تصور پنپ رہا ہے کہ مقتدر اشرافیہ ملک میں سیاسی سماج کی تشکیل پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ نوجوانوں کو متحرک کرنے اور ان میں بیداریِ شعورپیدا کرنے پر مائل نظرآتی ہے۔ دوسری طرف یہ رائے بھی سامنے آتی ہے کہ یہ

Read more

لنگر خانے ، بھوک کی سیاست

بظاہر تو حکومت پاکستان کا معصومانہ بیانیہ ایک فلاحی ریاست کا نعرہ ہے مگر یہ صرف عوام کے دل کو بہلانے کے لئے ہی ہے جسے حکومت مصنوعی اقدامات کے ساتھ مذہبی عقائد سے جوڑ کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ احساس سیلانی لنگر خانوں کی سکیم بھی حکومت کے اس طرح کے نمائشی اقدامات کا حصہ ہے ،جو تبدیلی کا احساس دلانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ حکومت ملک سے بھوک

Read more

طالبان کی مذاکرات میں نرم لب و لہجہ اختیار کرنے کی یقین دہانی

افغان طالبان ایک بار پھر تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں انہیں افغانستان میں اپنی عسکری قوت کھوئے بغیر سیاسی حکمت عملی تشکیل دینا ہے۔ ابھی تک تو طالبان کی قیادت کو یہی یقین تھاکہ امن مذاکرات ان کی فتح پر منتج ہوں گے۔ درحقیقت طالبان نے امریکہ سے مذاکرات کا آغاز ہی فتح کے احساس کے ساتھ کیا تھا اور انہوں نے امن عمل کے دوران خود کو سخت مذاکرات کار ثابت بھی کیا۔ طالبان کابل کی

Read more

عزت والے پُروقار خارجہ تعلقات

وقار، عزت نفس اور پسندیدگی کا عام انسانوں کی طرح اقوام کے رویوں پر بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ خواہش توہین کے خوف کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ وقار ایسا سرمایہ ہے جو اقوام اپنی سیاسی بصیرت، مضبوط معیشت اور جغرافیائی اہمیت کے ذریعے کماتی ہیں۔ دوستوں اور دشمنوں کا تعین بھی اسی اہمیت کے مطابق ہوتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر اسلامی دنیا اور مسلم امہ کی خاموشی پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا

Read more

کشمیر چیلنج: امریکہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا سکتا ہے

مقبوضہ کشمیر میں نئے انتفادہ نے سر اٹھایا ہے اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ نئی صورتحال اور تنازع کے خطہ کے سیاسی اور جغرافیائی منظر نامے پر گہرے اور دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ البتہ عالمی برادری ابھی تک باریکی بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور نئی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مختلف آپشنز پر غور و فکر میں مصروف ہے۔ یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بھارت کے قابل عمل منصوبہ بندی کے بغیر

Read more

بدلتا عالمی منظرنامہ اور پاکستان

گزشتہ ہفتے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی صورت میں پاکستان اور بھارت نے تناؤ کم کرنے کا ایک اور موقع کھو دیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کی طرف سے خیر سگالی کا جب بھی ہاتھ بڑھایا بھارتی حکمرانوں نے منہ پھیر لیا۔ جس سے پاکستان میں اس سوچ کو تقویت مل رہی ہے کہ بھارت کی اب ایک ہی حکمت عملی ہے کہ پاکستان کو ہرصورت اور ہر قیمت پر سفارتی طور پر تنہائی کا شکار کیا جائے۔ تاکہ پاکستان نئے عالمی تناظر میں عالمی اور علاقائی اتحادیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔

Read more

سکیورٹی اور معاشی بندوبست

وفاقی کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں کی بہت سی توجیحات ہو سکتی ہیں مگر حکومت کی اس پریشانی کی بظاہر بنیادی وجہ معاشی چیلنجز ہی بنے ہیں۔ وفاقی کابینہ میں تبدیلی وزیر اعظم عمران خان کے ایران اور چین کے اہم ترین دوروں سے محض چند روز پہلے عمل میں لائی گئی ہے۔ بظاہر ایران اور چین سے مذاکرات میں سکیورٹی اور معیشت ہی بنیادی نقاط ہوں گے ۔پاکستان چین سے معاشی ریلیف خاص طور پر سی پیک اور اکنامک زون

Read more

درجہ بندی میں پاکستان کا شمار غیر مقبول ترین ممالک میں

ہر فرد میں نرگسیت کی کم یا زیادہ، ایک مقدار ضرور موجود ہوتی ہے لیکن بعض دفعہ یہ اس سطح کو چھونے لگتی ہے جہاں تصویر اور آئینے کا فرق ہی ختم ہونے لگتا ہے اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ بھلا تصویر بھی کبھی آئینہ ہوتی ہے؟ یہ کوئی پیچیدہ یا بہت ہی فلسفیانہ بیانیہ نہیں ہے۔ اگر آپ میڈیا پر جاری بحثیں دیکھتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ بات کیا ہورہی ہے۔ میڈیا، خواہ مرکزی دھارے کا ہو، متوازی یا سماجی، ہر جگہ خبطِ عظمت ہے یا ماتم کدے۔

بحث تصورِ نسواں پر ہو، غیر مسلموں یا ”کم مسلموں“ کے حقوق کی، سماجی اور مذہبی اقدار کی۔ بات صرف مثالوں (تصوراتی تصور، جن کا عکس نہیں بن سکتا) کے گرد گھومتی ہے ہمارے دلائل، انداز گفتگو اور زہر بھرے نشتر ہماری جو تصویر بناتے ہیں وہ ہم ماننے سے انکار کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قصور کیمرے کا ہے ورنہ آئینے میں تو ہم بہت خوب صورت نظر آتے ہیں۔ یہ عمل بڑے پیمانے پر سیاسی اور علاقائی سطح پر بھی ایسے ہی رونماہورہا ہے۔

Read more

چالو بیانیوں پر قائم حکومتیں

حکومتیں مقبول اپنے اقدامات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ لیکن وہ سیاسی قوتیں جو چالو بیانیوں یا عمومی رائے عامہ کو برانگیختہ کر کے اقتدار میں آتی ہیں ان کے لیے اپنے ہی بچھائے ہوئے جال سے نکلنا مشکل ہوتا ہے اور ان میں ایسے اقدامات لینے کی ہمت نہیں ہوتی جو دورس اثرات کے حامل ہوں اور جنہیں زیادہ دیر تک یا د رکھا جا سکے. یہ چیلنج دنیا بھر میں ان تمام حکومتوں کو درپیش ہے جو چالو

Read more

پاکستان کے سماجی اشاریے کمزور ہیں

سماجی اشارات ایسے  کلیدی متغیرات کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں جنہیں سماجی و سیاسی استحکام اور  کسی بھی سماج یا گروہ کی خوشحالی کےجائزے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔بالخصوص ترقی یافتہ اقوام میں جہاں تعلیمی و تحقیقی کوششوں میں سماجی رجحانات اورمتعلقہ مسائل کی تفہیم کے لیےسماجی اشارات  کا استعمال زیادہ ہوا ہے وہاں کارپوریٹ حلقوں اور سرمایہ کاروں میں بھی ان متغیرات  کے استعمال میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر دوررس سیاسی استحکام، داخلی سلامتی،اور اقتصادی

Read more

پاکستان میں مدارس کی بحث

پاکستان میں مدارس کی بحث میں عمومی طور پر مذہبی اور سکیورٹی معاملات کا ہی ذکر آتا ہے ہمارے پالیسی ساز یہاں تک کہ ماہرین تعلیم مباحثوں میں مدارس کے تعلیمی پہلوئوں پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی مدارس پاکستان کی آبادی کی 15فیصد تعلیمی ضرورت پوری کرنے کے باوجود بھی ملک کے تعلیمی نظام میں کوئی خاص مقام نہیں بنا پائے۔ البتہ عظمت عباس نے اپنی کتاب madrassah Mirage-a contemporary history of Islamic Schools

Read more

پاک افغان مذہبی سفارتکاری

آئندہ چند ہفتوں میں افغانستان سے اسلامی سکالرز کا ایک وفد پاکستان آنے کی توقع ہے۔ یہ وفد دونوں ممالک کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات کی حمائت کے لیے دورہ کر رہا ہے۔ وفد ابتدائی طور پر اپنی توجہ پاکستان کے دینی مدارس پر مرکوز رکھے گا تاہم دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات میں جو اعتبار کھو چکے ہیں اسے بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ رواں برس کے وسط میں دونوں ملک افغانستان ایکشن پلان فار پیس

Read more

عمران خان نے خوابوں کی سوداگری کی ہے

عمران خان نے خوابوں کی سوداگری کی ہے۔ پاکستان کے نئے متوسط طبقے نے اپنی تمام سیاسی، سماجی، معاشی اور حتیٰ کہ روحانی توقعات عمران خان سے وابستہ کی ہیں۔ عران خان کیلئے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ جن خوابوں کی بنیاد پر اس نے سیاسی سرمایہ اکٹھا کیا ہے، انہیں کس طرح پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ پاکستان کا نیا متوسط طبقہ چاہتا کیا ہے؟ اس کی تفصیل میں جانے سے پیشتر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس نئے

Read more

سب کا پاکستان ایک خواب

گوجرہ ہنگاموں‘ جن میں عیسائی برادری کو ٹارگٹ کیا گیا تھا‘ کے بعد کچھ مسلمان دانشوروں نے اس معاملہ پر قابو پانے کے لیے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ فیصل آباد واقعہ نے ملک کا بین الاقوامی سطح پر تاثر بری طرح متاثر کیا تھا۔ 2009ء تو ایسا سال تھا جس میں اقلیتوں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے۔ ماہرین اس بات پر گہرائی سے غور و فکر کر رہے تھے کہ ایک ایسا ملک

Read more

سول ملٹری قیادت ایک ہی کتاب میں گم

تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت ایک ہی کتاب میں گم ہو گئی ہو۔ گزشتہ حکومتیں عسکری قیادت کے ساتھ ایک صفحے پر آنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں اور بہت کم ایسا ہوا کہ ایک صفحے پر آنے کے بعد دونوں اطراف نے اکٹھے ایک صفحہ بھی پلٹا ہو۔ یہ عمران خان کی کرشماتی شخصیات ہے یا پھر عسکری قیادت کا ان پر اعتماد کہ جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آٹھ

Read more

دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے!

باوجود اس کے کہ 2018ء میں بھی دہشت گردی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے پھر بھی گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے البتہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ حال ہی میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا آڈیو پیغام منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے اپنے پیروکاروں کو جنگ جاری رکھنے کی

Read more