ہمارے خطے کا جیوپولیٹیکل ( جغرافیائی سیاسی) منظرنامہ تیزی سے بدلتاچلا جا رہا ہے، رجائیت پسند طبقے کا خیال ہے کہ اس تیزی سے بدلتے منظر نامے کی بدولت وہ پاکستان کے جیو سٹریٹیجک (تزویراتی) نقطہ نظر میں تبدیلی کو محسوس کر رہے ہیں۔ بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ مذکورہ تبدیلی بڑے پیمانے پرجیو اکنامک ( جغرافیائی معیشت) کے گردگھوم رہی ہے، اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت واضح نظریاتی تبدیلی ہوگی۔ لیکن ہمارے ریاستی اداروں کے بیانات میں اس تیزی سے بدلتے منظرنامے کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا، یا شاید وہ اس کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کے خراب معاشی اشارے ایسے خیالات کو وزن نہیں دیتے ہیں کہ ریاست اپنے جیوسٹریٹجک یا جیو اکنامک نقطہ نظر کو مستحکم کرنے کے لیے ایک مخصوص حد تک جتن کررہی ہے۔ یہاں تک کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری (سی پیک) ، جو ملک کی کمزور معیشت کے لئے گیم چینجر کی حیثیت سے مثال بنا کرپیش کی گئی تھی، ریاستی اداروں کی عدم توجہی کا شکار ہو گئی ہے۔ تاہم، جو طبقہ پاکستان کے جیوسٹریٹجک طرز عمل میں تبدیلی دیکھ رہا ہے وہ محض معاشی سے متعلق دلائل پر قابض نہیں، بلکہ یہ خاص طور پر افغانستان کی طرف ریاست کے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی طرز عمل پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔
Read more