’’نواز شریف رہا ہو رہے ہیں‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض دوسرے ’’خاموش سیاسی مبصرین‘‘ کی طرح میری صحافیانہ چشم بھی میاں نواز شریف کو اکتیس مارچ دو ہزار بیس سے پہلے جیل سے باہر آتے دیکھ رہی ہے،،،( خاموش سیاسی مبصرین سے مراد ’’پولیٹیکل انٹلکچوئلز‘‘ کا وہ گروپ ہے جسے عوام نہ تو نیوز چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں اپنی اپنی نظریاتی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اخبارات میں ان کے تبصرے اور بیانات شائع ہوتے ہیں)۔ پاکستان میں یک جماعتی نظام حکومت مسلط کرنے کا وہ منصوبہ جو برسوں پہلے سوچا گیا تھا اس پر پانی پھر چکا ہے۔ یہ شعوری طور پر ہوا یا غیر شعوری طور پر؟

جمہوریت کو ٹریک سے اتر جانے کے خطرے سے خود ’’حالات و واقعات‘‘ نے بچایا ہے اور اس میں ’’اہم کردار‘‘ وزیر اعظم جناب عمران خان نے بھی اپنے بھولپن سے ادا کیا ہے۔ نواز شریف رہا ہونے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں بظاہر شریک تو نظر آئیں گے لیکن ان کا انداز سیاست بدلا بدلا اور ہلکا پھلکا دکھائی دے گا۔ ان کے لہجے اور سوچ میں پہلے جیسا تکبر بھی نہیں ہوگا۔ کینہ پروری میں کس حد تک تبدیلی آئے گی؟

اس کا جواب کوئی نجومی بھی نہیں دے سکتا۔ شہباز شریف کو ہمیشہ مرکز سے دور رکھا گیا لیکن مستقبل میں وہ مرکزی سیاست کے محور میں ہی دکھائی دیں گے۔ مریم نواز کا بے نظیر بننے کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، لیکن ان کی رہائی بھی بہت دور نہیں ہے۔ ن لیگ کے بعض لوگ جو اس وقت مختلف الزامات میں جیلیں کاٹ رہے ہیں اور نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں، ان کی رہائی یا بریت کی فی الحال تو مستقبل قریب میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ اگر وہ کبھی جیلوں سے باہر آ بھی گئے تو غالب امکان یہی ہے کہ ن لیگ کی آئندہ سیاست میں ان کا مقام و مرتبہ وہ نہیں ہوگا جو انہیں ماضی میں حاصل رہا ہے۔

رہی بات آصف علی زرداری کی تو انہوں نے پہلے بھی بارہ برس جیل کاٹی تھی۔ اب بھی ان کی جلد جان چھوٹتی ممکن دکھائی نہیں دے رہی۔ ان کی بد قسمتی یہ بھی ہے کہ شہباز شریف جیسا ان کا کوئی بھائی ہے نہ دوست، اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری میں کسی قسم کی،، شریفانہ صلا حیتیں موجود ہیں، وہ سانحہ کار ساز کی برسی پر اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔ انہیں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے لمبی لڑائی لڑنا پڑے گی۔

ابھی تک خیال یہی ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان سے دور رہیں گے۔ یہ ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہئے کہ بلاول بھٹو کی سیاسی تربیت آصف زرداری نے نہیں شہید بے نظیر بھٹو نے کی تھی لیکن بلاول اقتدار کے لئے کبھی اپنے والد سے ہٹ کر سیاست نہیں کریں گے۔ بلاول بھٹو کے دماغ کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ بات سرائیت کر چکی ہے کہ ان کے نانا چیرمین ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی میں مفتی محمود اور ان کی والدہ کی شہادت میں مولانا فضل الرحمان کا بالواسطہ یا بلا واسطہ ہاتھ رہا ہے، حالانکہ بی بی شہید مولانا کی گاڑی میں مسلسل اور بغیر حساب کتاب ڈیزل بھی ڈلواتی رہی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا اب تک بھی یہی دعوی ہے کہ عمران خان کی حکومت کو گھر بھجوانے کے لئے پوری قوم اور ساری اپوزیشن پارٹیاں ان کے ساتھ ہیں۔ اس دعوے کا عملی ثبوت دینے کے لئے انہوں نے جمعہ کے روز ن لیگ کے صدر جناب شہباز شریف سے مذاکرات کئے اور پھر دونوں نے پریس کانفرنس بھی کی۔ جیل میں بیٹھے ہوئے بڑے بھائی جناب نواز شریف کا خط آڑے نہ آتا تو شاید یہ مشترکہ پریس کانفرنس نہ ہوتی۔ نواز شریف کے خط کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اس میں لکھا ہوگا کہ ساری کی ساری ن لیگ مولانا فضل الرحمان کے مارچ پر وار دی جائے، لیکن ایسا دکھائی نہیں دیا۔

پہلے شہباز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کی اس کے بعد مولانا نے۔ شہباز شریف کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا، یقیناً ’’اداروں‘‘ نے پی ٹی آئی اور عمران خان کی بھر پور مدد اس لئے کی کہ ممکن ہے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا منظر نامہ بدل جائے، اور عمران خان کے آ جانے سے ملک ترقی کرنا شروع کر دے گا۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس،، تاریخی سپورٹ،، کے باوجود عمران خان بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اگر ’’اداروں‘‘ کی طرف سے اس طرح کی پچیس فیصد ’’سپورٹ‘‘ کسی گئی گزری حکومت کی بھی کی جاتی تو آج پاکستان ترقی کی شاہراہ پر جہاز کی طرح اڑ رہا ہوتا۔

اب عمران خان حکومت کو گھر جانا چاہئے اور نئے سرے سے انتخابات کرائے جانا چاہئیں،،، یہ تھے مولانا کے ساتھ کھڑے ہوئے شہباز شریف کے بیان کے مندرجات۔ ان کی ساری باتیں درست مانی جا سکتی ہیں، سوائے’’اداروں کی سپورٹ‘‘ والی بات کے، کیونکہ کون ہے اس ملک میں جو یہ نہیں جانتا کہ جو ادارے ممکنہ طور پر عمران خان کو مدد فراہم کر رہے تھے، انہی اداروں نے ماضی میں ایک بار نہیں مسلم لیگ ن کو بار بار اس سے بھی زیادہ ’’مدد‘‘ فراہم کی اور شہباز شریف کے اس تازہ ترین بیانیہ کے پیچھے بھی انہی ’’اداروں‘‘ سے نئی مدد کی اپیل کا اشتہار نظر آ رہا تھا۔

شہباز شریف کے مولانا کے ساتھ کھڑے ہو کر خطاب کا جو مطلب میری سمجھ میں آیا ہے وہ اس طرح ہے ،، عمران خان کو مبینہ طور پر سپورٹ کرنے والے اداروں نے کم از کم مولانا فضل الرحمان کی امیدوں پر پورا نہیں اترنا۔ ن لیگ مولانا کے ساتھ چلنے کے لئے اپنے کارکنوں کو کال نہیں دے گی۔ اگر مولانا اسلام آباد میں جلسہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو احسن اقبال اور تین چار مزید ن لیگی لیڈر وہاں خطاب ضرور کریں گے۔ اگر شہباز شریف کی کمر میں پھر درد نہ اتر آیا تو شاید وہ خود ن لیگی وفد کی قیادت کریں اور عمران خان حکومت کے خلاف ایک زبردست جذباتی خطاب بھی فرمائیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مولانا نے شہباز شریف سے ’’فتح کن‘‘ ملاقات کے بعد چوہدری برادران سے ملاقات کی۔ حالانکہ چوہدری پرویز الٰہی حکومت کی اس ٹیم میں شریک ہیں جس نے مولوی صاحب سے مصالحت کے لئے مذاکرات کرنے جانا تھا اور مولانا کا رد عمل یہ تھا کہ مذاکرات بھی اس وقت ہوں گے جب مذاکرات کار عمران خان کا استعفیٰ جیب میں ڈال کر لائیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوگیا کہ عمران خان نے اپنا استعفیٰ لکھ کر چوہدری پرویز الٰہی کو دے دیا ہو اور پرویز الٰہی نے وہ استعفیٰ مولانا کے سامنے پیش کر دیا ہو، اگر ایسا نہیں ہے تو کیا پھر یہ سوچ لیا جائے کہ چوہدریوں نے مولانا کو یہ کہہ کر اپنے گھر مدعو کر لیا ہو کہ،، ہم بھی آپ کے ساتھ مارچ میں شریک ہوں گے اور انہوں نے مولانا کے سامنے یہ ’’انکشاف‘‘ بھی کر دیا ہو کہ ایک کپتان سرفراز کی تو چھٹی کرادی گئی ہے اور دوسرے کپتان کی چھٹی آپ کے مارچ سے پہلے کرادی جائے گا۔

چوہدریوں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہوا ہے۔ اکتیس اکتوبر کے بعد اقتدار کا تاج مولانا کے سر پر سجنے والا ہے تو ان کا حق ہے کہ پیش بندی کرلیں۔ وزیر اعظم نے اپنے اقتدار کے پہلے سوا سال میں واقعتاً قوم کو مایوس کیا ہے، خراب معاشی حالات پر قوم ان کی تمام دلیلیں مسترد کر رہی ہے۔ لوگ اگلے سال میں بھی کسی ریلیف سے مایوس ہیں اور اس مایوسی کی بنیادی وجہ ان کی ٹیم ہے۔ FATF نے پاکستان کو ’’گرے لسٹ‘‘ سے نکالنے سے انکار کرتے ہوئے جس طرح فروری دوہزار بیس تک اہداف مکمل کرنے کی مہلت دی ہے، قوم مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات کے لئے انہیں زیادہ سے زیادہ کتنی اور مہلت دے سکے گی؟

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •