“فضل الرحمٰن انڈین ایجنٹ” – کھیل کا انداز بدلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

 ایک “منظور شدہ دفاعی تجزیہ کار” جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نےمولانا فضل الرحمٰن کو انڈین ایجنٹ قراردیا ہے۔ریٹائرڈ جنرل صاحب کو شاید اندازہ نہیں کہ فاطمہ جناح، سہروردی، بگٹی، غفار خان،ولی خان، بھٹوز، نواز شریف، فیض، فراز،جالب وغیرہ کے ساتھ نام آنا باعث شرم نہیں، ایک اعزاز ہے۔ موصوف کو ان سب میں قدر مشترک بتائے جانے کی ضرورت تو نہیں ہونی چاہئے کہ ان سب کو مختلف اوقات میں غدار اورانڈین ایجنٹ قرار دیا گیا۔ براہ راست یہ تہمت بھی لگائی اور باقاعدہ یہ تاثر قائم کرنےکے لیے مہم بھی چلوائی جاتی رہیں ۔

ایک اورمشترک پہلو ان سیاست دانوں اور شاعروں کایہ ہے کہ وقت نے ان کے چہرے پر ڈالی گئی دھول صاف کی، یہ معاشرے کی قابل ذکر حصےکے محبوب ٹھہرے جب کہ ان کی حب الوطنی کومشکوک قرار دینے والے ایوب خان سے پرویزمشرف تک اب اپنے گھر والوں اور چند کاسہ لیسوں کو ہی عزیز ہیں۔

مؤخر الذکر کی عمر دراز ہو، ان کے بیانات سے لگتا ہے ماضی کی یاد ستاتی ہے جب ان کیذات “جدھر دیکھوں ادھر تو ہی تو ہے” کانمونہ تھی، ان کے اپنے بقول جنرل راحیلشریف نے عدالت پر دباؤ ڈال کر انہیں یہاںسے نکلوایا، ان کا کہنا ہے کہ ادارہ خیال
رکھتا ہے، اس سب کے باوجود واپس آنے کیہمت مجتمع نہیں کر پا رہے۔ اب تو علیلہیں، خدا صحت یاب کرے لیکن جب کمانڈو والیچستی اور جارحیت دونوں برقرار تھیں تببھی کمر میں کسی نامعلوم درد کی آڑ میںعدالت سے آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔  دوسری
طرف آخری زندہ انڈین ایجنٹ سزا سنائےجانے کے بعد بیٹی سمیت جیل جانے کے لیےواپس آ گیا۔ اب فضل الرحمٰن کو بھی اسیفہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔

ویسے بظاہر امجد شعیب کو غصہ اس وجہ سےآیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ریٹائرڈ”بڈھے” جرنیلوں کو یہودی اور اسرائیلی ترجمان قرار دیا اور کہا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ امجد شعیب صاحب برملا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرتےہیں۔ اگر تو وہ علمی بنیادوں پر ایساسمجھتے ہیں تو ان کو مولانا کی بات پر اسشدید ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئےتھا۔ اس طالب علم سمیت بے شمار لوگاسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی سرکاریپالیسی پر منطقی اور غیر جذباتی نظر ثانیکے قائل ہیں۔ یہ ایک ملک کی خارجہ پالیسیکا سوال ہے، جس پر سوال اٹھانا، اس کیحمایت یا مخالفت کرنا کسی لحاظ سے بھیقابل گرفت یا قابل نفرت نہیں گردانا جاناچاہئے۔ اسرائیل کے ساتھ ریاستی تعلقات کےمکمل انقطاع کی موجودہ پالیسی اور اسپالیسی کو تبدیل کرنے کے حق یا مخالفت میںدونوں طرف مضبوط دلائل کے انبار موجودہیں۔ اسے کسی کی نیت کا سوال بنانا اگربدنیتی نہیں تو جہالت اور شدت پسندی ضرور ہے۔

لگتا ہے امجد شعیب کو غصہ اسرائیل کوتسلیم کرنے والی بات سے زیادہ اس ٹھیس کاہے جو مولانا کی بات سے ان کے دائمیحاکمانہ پندار کو پہنچی ہے۔ حاکمانہ اداروں سے وابستہ لوگوں کو کبھی کسی نے کسی کا ایجنٹ نہیں کہا تھا ۔ یہاں تو یحییٰ  خان بھی سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر سفرآخرت کو روانہ ہوئے۔ حمود الرحمٰن کمیشنکی رپورٹ پتہ نہیں کس سرد خانے میں برفاتی پڑی ہے ۔

تاہم امجد شعیب صاحب کو شاید اس پانی کی مقدار کا اندازہ نہیں جو محاوراتی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہے۔ باقی دنیا سمیت پاکستانی معاشرے پر بھی گزشتہ ساٹھ سال سےجغرافیائی، آبادی میں اضافے، ٹیکنالوجی اور ایجادات جیسے عوامل کے متنوع اثرات
اجتماعی سوچ کے انداز میں جوہری تبدیلیوں کا سبب بنے ہیں۔ یہ 1965 نہیں نہ ہی “میراماہی چھیل چھبیلا، کرنیل نی جرنیل نی”والا میوزک ریڈیو پر سنا جاتا ہے۔ یہ ساؤنڈ کلاؤڈ اور یو ٹیوب کی صورت میں عالمی موسیقی تک رسائی رکھنے والی نسل کا
دور ہے۔ صدی بھی بدل چکی۔ صرف مادی ضروریات اور چیلنجز ہی نہیں بڑھے ساتھ ساتھ مادی امکانات بھی بڑھے ہیں۔ یہ کارجوئی  (entrepreneurship) کا دور ہے۔ یعنی اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی سوچ پنپ رہی ہے۔

شخصی آزادی اب چند سرپھروں کا نہیں، گلیمحلے اور تھڑے میں زیر بحث آنے والا موضوعبن چکا۔ اب روزگار کے لیے نوجوانوں کیپہلی ترجیح سرکار یا فوج کی نوکری نہیں جوکبھی ہوتی تھی۔ اسی طرح  فوج بھی کچھروزگار کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر اورکچھ اپنی صفوں میں موجود بے غرض پیشہ ورسپاہیوں اور نوجوان افسروں کی قربانیوںکے طفیل جو غیر مشروط احترام پاتی تھی اسمیں بھی فرق پڑ چکا۔ آج دفاع وطن پر قربانہوتے جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کیبجا  طور پر تحسین کی جاتی ہے تو دوسری جانب آئینکو مطلوب سویلین بالادستی اور اس میںرکاوٹ کے طور پر فوج میں موجود طاقتورعناصر کے کردار پر بجا طور پر تنقید بھیکی جاتی ہے۔

اجتماعی شعور غدار غدار کے کھیل کو مستردکر چکا۔ اس کھیل کو میسر تماشائیوں کیتعداد میں ناقابل یقین کمی ہو چکی۔ رنگماسٹر کو کوئی نیا کھیل ترتیب دینا ہو گاورنہ ٹکٹوں کی فروخت میں کمی سے سرکسمتاثر ہو گا۔ اگر اجارہ دارانہ سوچ کے تحت
سرکس اسی پرانے تماشے کو جاری رکھنے پراصرار کرے گا تو کھلی منڈی میں آزادمسابقت کے اصول کے پیش نظر دیگر کاروباریبھی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں ماریں گے۔ حتمیفیصلہ بہرحال  “صارف” نے کرنا ہے اورصارفین نے اجارہ داری کو اپنے مفاد سے
متصادم سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ اسے بقا کاکھیل مت بنائیں، بقائے باہمی میں ہی بقاہے۔ بقائے باہمی کا راستہ آئین سے ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •