ہاۓ اللہ اوئی اللہ ٹائپ لڑکیاں اپنے گھر بیٹھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ لڑکیاں پڑھائ اور اپنے کام پر کم اوردوسروں کی نظروں پر زیادہ دھیان دیتی ہیں.اس کے لیے انہیں بار بار مردوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ انہیں دیکھ تو نہیں رہے. ان کی آپس کی گفتگو بھی اسی تحقیق پرمبنی ہوتی ہے.جی ہاں میری اس تحریر کا محرک لاہور کےایک لیکچرار کی خودکشی کا واقعہ ہی ہے.کل میں اسکول کے لیے نکل رہی تھی، ایک آدمی رکشے سے اتر رہا تھا اس کی شکل مجھےجانی پہچانی لگی، میں نے اسے غور سےدیکھا، بالکل میرے بھائ سے مماثلت تھی،میں نے پیچھے پلٹ کر دو بارہ اسے دیکھا. وہ میری طرف اجنبی نظروں سے دیکھ رہا تھا میں شرمندہ ہو کر آگے بڑھ گئ. ایسا بہت مرتبہ ہوتا ہے.

جب میں وکالت کرتی تھی تب میری ایک دوست ایک جج صاحب کے لیے مجھے اکثر کہا کرتی کہ ان کی گھورنے کی عادت ہے. میں نے بھی ان کی یہ عادت نوٹس کی لیکن چند دن بعد میں نےاپنی دوست کو بتایا کہ جج صاحب جس وقت کسی سوچ میں ہوتے ہیں، تو ان کی نظریں کسی ایک طرف ٹک جاتی ہیں. اب چاہے، وہ مرد ہو، عورت ہو، یا کھڑکی کے باہر کے مناظر  ہوں، انکی کسی بھی طرف بے دھیانی میں تکے جاتےہیں.
میری اس بات پر میری دوست نے  بھی مشاہدہ کیا اور میری بات سے متفق ہو گئ.چلیں یہ تو دو الگ باتیں تھیں. لیکن گھورنا، دیکھنا، آخر اس میں ہراسانی کاپہلو کون سا ہے.  ہم بھی تو مردوں کودیکھتے ہیں، لیکن اگر یہ حرکت مرد کی طرف سے ہو تو اسےگھورنا کہا جا ئے گا.ایک بار سیکنڈ ائیر کے ایک اسٹو ڈینٹ نےایک لڑکی سے پوچھا کہ کیا وہ اس سے دوستی کرے گی.بجاۓ اس کے کہ وہ لڑکی اسے جواب دیتی، اسنے گھر جا کر اپنے بھائیوں کو یہ بات بتائی. بھائیوں نے اس لڑکے کو چند غنڈوں کے ساتھ مل کر  اتنا مارا کہ وہ پانچ مہینےہاسپٹل میں رہا.
لڑکیاں خود جب چاہیں دوستی کا ہاتھ بڑھادیں، کسی لڑکے یا ٹیچر کے قریب ہونے کیکوشش کریں، لیکن مردوں کا دیکھنا بھی انہیں گھورنا محسوس ہوتا ہے. خدا کے لیےلڑکی نہیں انسان بنیے. انسانوں کی طرح دوسرے انسانوں کی عزت کیجیے. کسی بھی غیر
تسلی بخش بات پر خود رد عمل دیجیے. اپنےباپ بھائی یا ارباب اختیار کو ضروربتائیں مگر اس وقت جب معاملہ اپنے ہاتھ سےنکلتا محسوس کریں.
ہائے اللہ، اوئ اللہ ٹائپ لڑکیاں اگر مرد کی بطور انسان عزت نہیں کر سکتیں تو انہیں گھر میں بیٹھنا چاہیے.
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •