اسلام اباد دھرنے پر اعتراضات کے جوابات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اج کل مملکت خداداد پاکستان میں ہر طرف دھرنا دھرنا کا شور ہے۔ کوئی دھرنا کی مخالفت میں دلائل دے رہا ہے اور کوئی دھرنا کے حق میں۔

اج تک دھرنا مخالفین کی طرف سے جو سب سے بڑے اعتراضات سامنے ائے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

1۔ حکومت کے محض ایک ہی سال بعد دھرنا کی کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔

2۔ دھرنا کیلئے مولانا صاحب مذہبی کارڈ استعمال کر رہا ہے۔

3۔ دھرنا کیلئے مدرسے کے چھوٹے چھوٹے بچے ان کی مرضی کے بغیر زبردستی لائے جاتے ہیں۔

سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیں دھرنا کے جواز کے بارے میں کہ دھرنے کا کوئی جواز بنتا بھی ہے کہ نہیں؟

اگر قانون کے نظر سے دیکھا جائے تو ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ کسی بات یا کام کے حق میں یا مخالفت میں آواز بلند کرے۔ اس کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں ہے کہ اتنے وقت تک کسی کو احتجاج کا حق نہیں ہے۔ وہ اواز اپ عین اسی موقع پر بھی اٹھا سکتے ہیں دو دن بعد بھی اور ایک سال بھی اٹھا سکتے ہیں۔

دوسری بات حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ نے دھرنا رکوانے کے خلاف اپیل خارج کرکے فیصلہ دیا کہ احتجاج کرنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔

اگر ہم اخلاقی لحاظ سے دھرنا کے جواز پر نظر ڈالیں اور سابقہ اپوزیشن اور اج کے حکمرانوں کے دھرنا سے حالیہ دھرنا کا موازنہ کریں تو صورت حال کو اچھی طرح سمجھنے میں ملے گی۔

عمران خان نے دھرنا کیلئے یوم آزادی کا دن منتخب کیا تھا جبکہ مولنا صاحب نے دھرنا کیلئے یوم کشمیر کا دن منتخب کیا ہے۔

عمران خان کا دھرنا بھی منتخب حکومت کے ٹھیک ایک سال بعد ہوا تھا جبکہ مولنا صاحب کا دھرنا بھی موجودہ حکومت کا ایک سال پورے ہونے کے بعد ہونے جا رہا ہے۔

اس وقت 2013 میں انتخابی نتائج تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں نے تسلیم کئے تھے صرف تحریک انصاف چار حلقوں کی بات کررہی تھی جبکہ اج شروع سے ہی تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے انتخابات کے نتائج مکمل طور مسترد کئے ہیں، صرف تحریک انصاف انتخابات کو درست قرار دے رہی ہیں۔

اس وقت اپیل کیلئے الیکشن کمیشن اور عدالت پر تمام پارٹیوں کا اعتماد تھا جبکہ اج الیکشن کمیشن، نیب اور عدالتیں فریق بن چکی ہیں اور اپنا اعتماد کھو چکے ہیں اور حزب اختلاف سوچ بھی نہیں سکتی کہ ان کو انصاف نام کی کوئی ریلیف بھی مل سکتی ہیں۔ جبکہ حکومت کے لئے سپریم کورٹ تک خود مدعی خود وکیل اور خود منصف بھی بن جاتا ہے۔

اس وقت تحریک انصاف کا کوئی بھی کارکن یا رہنما جیل میں نہیں تھا جبکہ اج اپوزیشن کے تمام بڑے اور سرکردہ قیادت جیلوں میں ہیں۔

اس وقت پارلیمنٹ سنجیدہ لوگوں پر مشتمل تھی اور زیادہ قابل وقعت تھی جبکہ اج پارلیمنٹ غیرسنجیدہ لوگوں پر مشتمل ہیں جو بیان بھی ریکارڈ شدہ پڑھاتے ہیں اپنا کوئی سوچ، نظریہ یا موقف نہیں رکھتے بس واٹس ایپ کا انتظار کرتے ہیں۔

اس وقت پارلیمنٹ کی کارکردگی اچھی تھی اور قانون سازی کی صلاحیت بھی اچھی تھی جبکہ اج کی پارلیمنٹ کی کارکردگی صفر ہے اور قانون سازی نام کی کوئی چیز جانتی تک نہیں، بس ارڈینینسوں سے کام چلایا جا رہا ہے۔

اس وقت سول نافرمانی کی کال چلائی گئی تھی، سٹیج سے بجلی کے بل جلائے جا رہے تھے، بنکوں سے پیسوں کا لین دین نہ کرنے کی باقاعدہ تلقین ہورہی تھی جبکہ اج ایسا کوئی بھی غیرقانونی کام یا فعل کی ترغیب نہیں دی گئی ہیں۔

اس وقت پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملے ہو رہے تھے سپریم کورٹ کے عمارت پر شلواریں لٹکائی گئی تھی اور ان تمام کاموں کو باقاعدہ سٹیج سے اشیرباد مل رہی تھی اور شاباش دے رہے تھے جبکہ اج تک مولانا صاحب کے کسی بھی مارچ میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں ایا اور نہ ہی لوگوں کو ایسے کاموں پر اکسایا گیا ہے۔

اس وقت پولیس اہلکاروں اور افسروں کو وردیوں میں مار مار کر لہولہان کیا جا رہا تھا اور عمران حوصلہ افزائی کے لئے کہتے تھے کہ ان پولیس والوں کو میں اپنی ہاتھ سے پھانسی دوں گا جبکہ مولانا صاحب کے کسی بھی احتجاج میں نہ ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا ہے اور نہ ہی مولانا صاحب یا کسی دوسرے پارٹی لیڈر نے لوگوں کو ایسے کاموں کیلئے اکیسایا ہے۔

تو میرے خیال میں مولانا صاحب کیلئے اخلاقی جواز کیلئے یہی کچھ کافی ہیں اور حکومت کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا کہ وہ پرامن احتجاج پر تنقید کریں یا ان کے راستے میں روڑے اٹکائے۔

اج کل مولانا صاحب پر ایک اہم اعتراض یہ ہے کہ وہ مذہبی کارڈ استعمال کر رہا ہے۔ حالانکہ مولانا صاحب نے اسلام اباد دھرنے کا کوئی بھی مذہبی مقصد نہیں بتایا بلکہ اس کا نعرہ ہے کہ گزشتہ الیکشن میں عوام کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا گیا اور عوامی خواہشات کے برعکس عمران خان کو تنائج تبدیل کرکے حکومت دلوایا گیا ہے جو کہ مذہب کا نہیں، عوامی کارڈ ہے

دوسرا مولانا صاحب کا مطالبہ ہے کہ چونکہ موجودہ حکومت حقیقی عوامی نمائندہ نہیں ہے اس لئے فوری طوری پر مستعفی ہوجائے میرے خیال میں یہ بھی مذہبی نہیں بلکہ عوامی کارڈ ہے

تیسرا مولانا صاحب نے ایک بیانیہ تشکیل دیا ہے کہ ؛؛ اپنے کام سے کام رکھو؛ جو تمام جمہوری پارٹیوں کا مشترکہ بیانیہ ہے جس کے تحت کسی بھی انتخابی مرحلے یا کار سرکار میں ریاستی اداروں کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے بلکہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں۔ میرے خیال میں یہ بھی مذہبی نہیں بلکہ جمہوری کارڈ ہے

لیکن اگر اپ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو مذہبی کارڈ مسلمانوں کو بے وفوف بنانے کیلئے ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے کھیلا گیا ہے سب سے پہلا جو مذہبی کارڈ استعمال کیا گیا وہ تھا پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔ لا الہ الاللہ، کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے لاالہ الاللہ کیلئے پاکستان میں اج تک کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔؟

دوسری بات جو ہمیں رٹائی گئی ہیں کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ کیوں اور کیسے ہے؟

آئین پاکستان میں پاکستان کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ جمہوریہ پاکستان کے ساتھ اسلام کیا اور کتنا تعلق ہے؟

پاکستان نے جتنے بھی میزائل بنائے ہیں اس پر مذہبی نام رکھے گئے مثلا غوری میزائل ابدالی میزائل غزنوی میزائل، الضرار ٹینک، الخالد ٹینک وغیرہ کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے اسلحے کا ان ناموں کے ساتھ کیا تعلق ہے یہی نا کہ یہ ہمارے مذہبی ہیروز ہیں؟ کیا یہ نام کچھ اس طرح مناسب نہیں تھے کہ تھنڈر میزائل، اتش فشاں میزائل تباہی میزائل وغیرہ جو کہ ان کی خصوصیات ہیں لیکن یہ مذبہی کارڈ ہی ہے جو ایسے نام رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔

ضیاالحق کے دور میں اسلام اسلام کرکے اپنی مفاد کیلئے ایک ذہنی معذور قوم تیار کرنا کیا مذہبی کارڈ نہیں تھا؟

ابھی کچھ عرصہ پہلے جب منتخب جمہوری حکومت مضبوط ہو رہی تھی تو اسٹبلشمنٹ کے پیٹ میں اسلام کا مروڑ اٹھا اور نظام مصطفیٰ کے نام سے طاہرالقادری کو لانچ کیا گیا ،کیا وہ مذہبی کارڈ نہیں تھا؟

ساتھ ساتھ تحریک لبیک کو بھی میدان میں اتارا گیا۔ سپریم کورٹ کا اس بارے میں فیصلہ موجود ہے۔ تحریک لبیک نے اسلام کے نام پر پورا ملک جام کیا گیا تھا، کیا وہ مذہبی کارڈ نہیں تھا جب دھرنے کے شرکا میں 1000 ہزار روپے تقسیم کئے جا رہے تھے؟

اسٹبلشمنٹ کی اشیرباد سے مذہب کے نام پر وفاقی وزرا سے استعفی لئے گئے اور ان پر قاتلانہ حملے ہوئے، کیا وہ مذہبی کارڈ نہیں تھا؟

شیخ رشید اور ڈاکٹر یاسمین راشد مجاہد ختم نبوت بن کر ووٹ مانگ رہے تھے کیا وہ مذہبی کارڈ نہیں تھا؟

ریاست مدینہ کا لولی پاپ دینا کیا یہ مذہبی کارڈ نہیں ہے؟

سرکاری مولویوں کا جتھہ تیار کرکے ان سے مولانا فضل الرحمن کے خلاف اور دھرنا کے خالف فتوی دلوانا کیا یہ مذہبی کارڈ نہیں ہے؟

اقوام متحدہ میں کلمہ پڑھنا اور جہاد کرنا اور کشمیریوں کی بحیثیت مسلمان حمایت کرنا کیا یہ مذہبی کارڈ نہیں ہے؟ کیا اقوام متحدہ میں انسانیت کے ناطے کشمیریوں کی حمایت کرنا یا ان کیلئے ازادی مانگنا کوئی جرم تھا؟

ابھی حال ہی میں وزیراعظم کا چیدہ چیدہ علما سے ملنا اور ان سے دھرنے کے خلاف فتوی لگوانا مذہبی کارڈ نہیں ہے؟

جی ہاں یہ تمام مذہبی کارڈز ہیں جو ہر کوئی اپنی مفاد کیلئےکھیل رہے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ مولانا صاحب جب مذہب کا کارڈ کھیلتا ہے تو وہ مذہب کیلئے کھیلتا ہے اور جب اسٹبلشمنٹ مذہب کا کارڈ کھیلتا ہے تو وہ اپنی مفاد کے لئے اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کیلئے کھیلتی ہیں۔

مدرسے کے بچوں کیلئے حکومت کے پیٹ میں بڑا درد اٹھ رہا ہے لیکن وہ بھول گئی ہے کہ جب ہر جلسے میں سکول اور کالجوں کی طلبا اور طالبات آتے تھے کیا وہ بچے نہیں تھے؟

جب ڈی چوک پر 126 دن تک یہی بچے اور بچیاں ناچتے رہے تو کیا اس وقت وہ بچے نہیں تھے؟

جب ان لوگوں کے دھرنے میں حاملہ خواتین دھرنے کے دوران ہی بچے جنا کرتی تھی جس کو طاہرالقادری سٹیج سے اٹھا اٹھا کر فخر سے بتایا کرتے تھے کہ یہ دیکھو نظام مصطفی کیلئے قربانی۔۔۔۔ کیا وہ بچے نہیں تھے؟

جب منہاج القران کی بچیاں زبردستی دھرنے میں لائی جاتی تھی کیا وہ بچے نہیں تھے؟

دوسری بات یہ کہ پاکستان جمہوری ملک ہے یہاں ہر کسی کو ووٹ ڈالنے، اپنے نمائندے منتخب کروانے کا برابر حق حاصل ہے اب اگر ایک طبقہ زندگی یہ سمجھتا ہے کہ ان کا ووٹ چوری ہوا ہے تو اسکو اپ احتجاج کا حق کیوں نہیں دے رہے؟ اگر کالج اور یونیورسٹی کے طلبا کو یہ حق حاصل ہے تو مدرسہ کے طلبا کو یہ حق کیوں حاصل نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صادق برکزئی کی دیگر تحریریں
صادق برکزئی کی دیگر تحریریں