ننگا بادشاہ اور مخبر چوہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"noorulhudaکبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر ہم سسپینس اور تھِرل سے بھرپور فلم کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔دو گھنٹے کی فلم میں کلائمیکس بس کوئی پندرہ منٹ کے فاصلے پر ہوتا ہے کہ اچانک کوئی کمرے داخل ہوتا ہے اور ہنس کر کہتا ہے کہ اچھا آپ یہ فلم دیکھ رہے ہیں۔ اس کے کلائیمکس پر اصل چور یہ نہیں، وہ نکلے گا۔

اور ہم سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں۔

کیسا لگتا ہے وقت سے پہلے کلائمیکس کا کسی اور سے پتہ چل جانا! دل چاہتا ہے کہ بتانے والے کا گلا دبا دیں ۔

یہی اس فلم کے ساتھ ہوا ہے جو ہم پچھلے کئی دنوں سے جم کر دیکھ رہے تھے کہ سیرل المیڈا داخل ہوا اور اس نے سب کو کلائمیکس بتا دیا۔

ایک اور کہانی یاد آتی ہے ۔

اس بادشاہ کی جو ننگا ہو کر چشمِ براہ عوام کے بیچ سے اپنی شاہی سواری پر سوار گزرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ بتاؤ میں نے کونسا لباس پہنا ہے؟ عوام اپنی اپنی نظر سے بادشاہ کو دیکھ کر اس کے لباس کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کر رہے تھے کہ ایک بچہ اچانک بول پڑا کہ بادشاہ تو ننگا ہے!

سیرل نے اسی بچے والی حرکت کی ہے!

\"naked-king\"

اس کہانی میں ضرور بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے اس بچے کو خوب لتاڑا ہوگا کہ بادشاہوں کو بھلا ایسا کہتے ہیں؟ بادشاہ اگر ننگا تھا تو یہ ریاست کا ایک راز تھا اور تمہارا فرض تھا اس راز کی حفاظت کرنا۔ بہت سوں نے پیٹھ تھپکی ہوگی کہ واہ میاں، تم نے وہ بات کہہ دی جو ہم کہنے کی تمنا بھی نہ کر سکے۔

انگریزی کی یہ کہانی بنانے والوں نے اپنے وقت کے بادشاہوں کو بتانا شروع کر دیا تھا کہ بادشاہ اگر ننگا ہوگا تو ننگا ہی دکھائی دے گا اور عوام کو سکھانا شروع کر دیا کہ بچوں کی سی معصومیت کے ساتھ جو دیکھ رہے ہو وہ سچ سچ کہہ دو۔

چلئے ایک اور ان دیکھا منظر بُنتے ہیں۔

ایک بند کمرے میں گنتی کے چند کردار خفیہ بات کرنے کے لیے موجود ہیں۔ ان میں سے گنتی کے چند افراد تھوڑے سے وکھری ٹائپ ہیں اور باقی کے ان وکھریوں سے عاجز آئے ہوئے۔ جس چور کو پکڑنے کے لیے سب مل بیٹھے ہیں اس پر وکھری ٹائپ گروپ کا ہتھ کچھ ہولا ہے اور ڈر ہے کہ چور ایک بار پھر ہولے ہتھ تلے سے نکل جائے گا۔ وکھری ٹائپ گروپ سے عاجز آ چکے گروپ کے ایک انتہائی انتہائی انتہائی عقلمند رکن کو چھپاک سے ایک آئیڈیا آتا ہے کہ بچوُ اب دیکھنا میں کیا چال چلتا ہوں! خبر کھول دیتا ہوں وہ بھی صبح صبح۔ پھر دیکھتا ہوں کہ کیسے جان چھڑاتے ہو، وہ بھی ایسے سمے جب لوہا پہلے سے ہی گرم ہے! جان چھڑاؤ گے تو ہاتھ جل جائے گا! آئیڈیا تو واقعی کمال کا آتا ہے عقلمند کو۔ یعنی کہ صبح صبح انگریزی کا معتبر اخبار بیڈ ٹی کے ساتھ وکھری ٹائپ صاحب کے سامنے جائے گا اور بس پھر اونٹ آ جائے گا پہاڑ کے نیچے! یہ کام شام کو چینلز کے شور میں تو ممکن ہی نہیں اور اردو اخبار کی رسائی تو خیر نہ تو بیڈ ٹی کے ساتھ صاحب کے بیڈ تک ہے اور نہ ہی پاس پڑوس کے کوٹھوں تک! انگریزی میں اور وہ بھی چھپی ہوئی خبر تو سمجھو پرنٹ ہوئی اور کوٹھوں چڑھی! فون اُٹھانے سے پہلے واہ واہ ہوگئی کہ جی بس چور پکڑا گیا۔ اب چوری نہیں ہوگی ہمارے محلّے میں! صاحب نے فون اُٹھا کر جب کہا کہ یہ کیا شور مچا رکھا ہے بلڈی عوام نے؟ تو عین پلاننگ کے مطابق کہہ دیا کہ لیجیے جناب صحافی حاضر ہے۔ اس کو سزا بھی دے دی ہے کہ وہ قدم بھی نہیں نکال سکتا اس ملک سے باہر! اب سات پشتوں تک پڑا سڑتا رہے گا پاکستان کی کال کوٹھڑی میں! ساتھ ہی ایک آنکھ دبا کر اخبار کو اشارہ بھی دے دیا کہ ڈٹے رہو منا بھائی، ہم تمہارے ساتھ ہیں!

گل مُک گئی!

\"cyril-almeida-600x400\"

مگر بہت زیادہ عقل یہیں مار کھا جاتی ہے۔ کوئی وکھری یونہی نہیں بنتا! پکی گولیاں کھیلی ہوئی ہوتی ہیں! جناب صحافی اور اخبار نہیں چاہیں، مخبر حاضر کرو۔ لیجیے مخبر تو صاف ظاہر ہے! ایک تم، ایک میں، ایک یہ اور ایک وہ۔ میں تو ہوں نہیں، اب تم تین میں سے ایک مخبر ہے!

اب باقی کے تین سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ مخبر کون ہے یا پھر مخبری کا کلاہ کس کے سر پر رکھا جائے؟ اور اگر اصل مخبر یہ کہہ دے کہ خبردار اگر کسی نے میرا نام لیا! سارے راز اُگل دوں گا تم سب کے! میں کوئی کم وکھری نہیں ہوں!

( پچھلے دنوں فیس بک پر ایک مزے کی پوسٹ پڑھی کہ اچھا دوست جتنی دفعہ بھی ناراض ہو اسے منا لینا چاہیے کیونکہ وہ بے غیرت سارے راز جانتا ہے)

مخبر+ صحافی + اخبار + چور = ریاستی راز

اوئے چھڈو یار ۔ یہ کونسا راز ہے جس کا بچے بچے کو پتہ ہے کہ بادشاہ ننگا ہے!

بس دو گھنٹے کی تجسس اور تھرل سے بھر پور فلم کا یہی تو کلائمیکس تھا کہ چور کو نہیں پکڑنا ہے اور چور سپاہی کا کھیل جاری رکھنا ہے!

ہمیں قبول نہ بھی ہو تو بھی ہمیں قبول ہے، کیونکہ ہم کون ہوتے ہیں قبولیت دینے، نہ دینے والے! ویسے بھی کلائمیکس کہانیکار اور ڈائریکٹر کی مرضی کا ہوتا ہے اور ہمیشہ تماشبینوں کی توقع کے مخالف رُخ پر بنایا جاتا ہے۔

بہت ہی زیادہ عقلمندوں کو بھی سمجھ میں آنا چاہیے کہ جناب سارے انڈے ایک جیب میں نہ رکھیں! ٹوٹیں گے تو پینٹ تو خراب ہوگی ہی! اور یہ کچی گولیاں بھی نہ کھیلا کریں۔ہم فلم بینوں کا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے!

اگر فلم یا ڈرامے کے اسکرپٹ پر ہی معاملات کو چلانا ہے تو ہم جیسے تجربہ کار اسکرپٹ رائٹرز کی اس ملک میں کوئی کمی نہیں، ان سے لکھوائیے۔ کیونکہ فلم اور ڈرامہ کا اسکرپٹ رائٹر دونوں طرف کی چال پر اپنی گرفت مضبوط رکھتا ہے۔ ایک طرفہ چال نہیں چلتا۔ ایک اور چیز ہوتی ہے جسے کہتے ہیں devil\’s advocate۔ جو مخالف کی چال چلتا ہے آپ کی پلاننگ پر اور ثابت کرتا ہے کہ آپ غلط چال چل رہے ہیں۔ ایک عدد عہدہ اس کا بھی رکھ ہی لیجیے۔ خدارا وہ عہدہ بھی اپنے پاس رکھنے کی غلطی مت کیجیے گا (زرداری صاحب اس طرح کے advocates کا پتہ جانتے ہوں گے یقیناً)

لیکن آپ اگر گھر کے آنگن میں کھیلتے بچوں اور بچیوں سے اسکرپٹ لکھوائیں گے تو پھر ڈرامہ تو پِٹے گا ہی۔

اور سر جی اگلی بار جب بند کمرے کا اجلاس کریں تو صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی یہ نظم ضرور یاد کر کے آئیں دوبارہ سے جو آپ سب نے اسکول میں پڑھی تھی۔

\"five_bound_mice_by_sodiepawp-d8qrzc2\"

پانچ چوہے

پانچ چوہے گھر سے نکلے

کرنے چلے شکار

ایک چوہا رہ گیا پیچھے

باقی رہ گئے چار

چار چوہے جوش میں آ کر

لگے بجانے بین

ایک چوہے کو آ گئی کھانسی

باقی رہ گئے تین

تین چوہے ڈر کر بولے

گھر کو بھاگ چلو

ایک چوہے نے بات نہ مانی

باقی رہ گئے دو

دو چوہے پھر مل کر بیٹھے

دونوں ہی تھے نیک

ایک چوہے کو کھا گئی بلی

باقی رہ گیا ایک

اک چوہا جو رہ گیا باقی

کر لی اس نے شادی

بیوی اس کو ملی لڑاکا

یوں ہوئی بربادی

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 88 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

One thought on “ننگا بادشاہ اور مخبر چوہا

  • 15/10/2016 at 8:20 pm
    Permalink

    نورالہدی شاہ, آپ نے جس گرما گرم موضوع کا تجزیہ کرتے ہوئے جو تبصرہ کیا ہے، بہت خوب ہے ۔ اب اندر کی باتیں تو کوئی ’’ مخبر چوہا ‘‘ ہی باہر لا سکتا ہے ۔ اور چوہوں کو بھی کمی نہیں، کم سے کم پورا گجرات ان سے بھرا ہوا ہے وہاں سے ایک آدھ ’’ مخبر چوہے ‘‘ بھی مل جائیں گے ۔ اور ہاں آپ نے جو ’’ بادشاہ ننگا ہے ‘‘ والی کہانی کا حوالہ دیا ہے یہ کہانی میرے وطن ثانی یعنی ڈنمارک کے عالمگیر شہرت رکھنے اوربچوں کے طلسماتی کہانیاں لکھنے والے ادیب و شاعر ہانس کریسٹین آنڈرسن کی تخلیق ہے کسی انگریز کی نہیں ۔ بچوں کے لیے اُن کی بیشمار دوسری کہانیوں کی طرح یہ کہانی بھی دنیا کی سبھی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے ۔ ہم نے بچوں کے لیے ایچ ۔ سی ۔ آنڈرسن کی کچھ کہانیوں کو اردو میں ترجمہ کیا ہے جسے ڈنمارک کی رائل لائبریری نے کتابی صورت میں شائع کرکے اردو پڑھنے والے خاندانوں کو یہ کتاب مفت مہیا کی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں یا خود انہیں پڑھ کر سنائیں ۔ یہ کہانیاں ہماری اپنی ویب سائٹ بھی موجود ہیں ۔ لنک حاضر ہے:http://www.urduhamasr.dk/hca/index.htm

Comments are closed.

––>