اسٹوئسزم (Stoicism) کی فلاسفی سے خواتین کو سہارا مل سکتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو سال پہلے بک کلب میں‌ ایک فلسفے کے ٹیچر نے بھی آنا شروع کیا اور انہوں‌ نے ہائی اسکول کی فلسفے کی ٹیکسٹ بک پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس کتاب میں‌ دنیا بھر کے نامور فلسفیوں‌ کے خیالات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ فلسفہ صرف تعلیمی اداروں‌ میں‌ علمی بحث کے لیے ہی نہیں‌ ہوتا۔ ہم عام انسان بھی اس کوانسانی تاریخ، زندگی اور دنیا کو بہتر سمجھنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ فلسفے کی تعلیم وہ خزانہ ہے جو ہم سے پہلے گذرے ہوئے انسان ہماری زندگی بہتر بنانے کے لیے کتابوں‌ میں‌ دفن کرگئے۔ نہ صرف ان گذرے ہوئے فلسفیوں‌ سے ہم سیکھ سکتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کے تجربات کی بنیاد پر اپنی زندگی کے لیے اپنا فلسفہ بھی تخلیق کرسکتے ہیں۔

کیا تمام فلسفی مرد تھے؟ نہیں۔ دنیا کی تاریخ‌ میں‌ بہت ساری خواتین فلسفی بھی گذری ہیں۔ کچھ فلسفوں‌ کے ساتھ جو نام جڑے ہیں ان کو مردوں‌ کے نام تصور کیا گیا ہے حالانکہ وہ خواتین بھی ہوسکتی ہیں۔

آج کا مضمون لکھنے کا خیال میرے ذہن میں‌ تب آیا جب میں‌ نے آمنہ سویرا کا مضمون کرنٹ اکاؤنٹ سمجھی جانے والی عورتیں‌ پڑھا۔ اکتوبر میں‌ اسٹوئسزم ویک منایا گیا۔ میں‌ نے سوچا کہ اسٹوئسزم کی فلاسفی سے ان خواتین کو بہت سہارا مل سکتا ہے۔

آمنہ سویرا لکھتی ہیں کہ “’’آپ کے شوہر آپ کو کیوں چھوڑ گئے‘‘؟ یا ’’آپ دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتیں‘‘؟ ایسے سوالوں کے جواب ہر کس و نا کس، بالخصوص کسی اجنبی کو دینا، کس قدر مشکل ہوسکتا ہے اس کا اندازہ سوال کرنے والے کو نہیں ہوتا۔ اور ایسے میں جب سنگل مدر کے بچے بھی ساتھ ہوں، وہ حیران نظروں سے ماں کو کبھی سوال کنندہ کو دیکھتے ہوں، تو ایک بیوہ یا طلاق یافتہ ماں کی دلی کیفیت کا اندازہ ایک وہ خود ہی لگا سکتی ہے۔ اکیلی ماں کو ہمارا معاشرہ ابھی تک قبول نہیں کر پایا۔

اسکول میں بچوں کی فیملی فوٹو لینے کا چلن عام ہے۔ جب یہ تصویریں دیکھ کر بچوں سے اسی قسم کے سوال بچوں سے کیے جائیں، کہ تصویر میں تمھارے والد کیوں نہیں ہیں؟ تب بچوں سے کس جواب کی امید رکھی جائے؟ پتا کیجیے تو سنگل مدرز کی اکثریت نے یہ طرز زندگی خود اپنے لیے منتخب نہیں کیا، بلکہ حالات کے جبر نے، انھیں اس بند گلی میں لا دھکیلا ہے۔

شوہر کی وفات، بسلسلہ روزگار دوسرے شہر یا ملک میں سکونت یا پھر میاں بیوی میں علاحدگی، یہ وہ چند عوامل ہیں، جو ایک عورت کو باپ کا کردار ادا کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ صرف کچھ دیر کے لیے اُس تنِ تنہا ماں کے کرب کو محسوس کیجیے، جس کے ساتھ، بچوں کی پرورش و غم روزگار جڑا ہو۔ ایسی ایسی دشواریاں ہوتی ہیں کہ کہنے کو الفاظ کم پڑ جائیں، لیکن اردگرد، یہاں تک کہ اس عورت کے خاندان کو بھی اس کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔”

یہ تمام باتیں‌ جنوب ایشیائی معاشرے میں عام ہیں۔ میں‌ ان کو ذاتی طور پر اس لیے جانتی ہوں‌ کیونکہ جب ہمارے والد کی وفات ہوگئی تو یہ تمام سوالات ہماری والدہ اور ہمارے سامنے بھی آ کھڑے ہوئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہماری والدہ نے جہیز کے بجائے ہماری تعلیم میں‌ سرمایہ کاری کی تاکہ میں‌ اور میری دو بہنیں‌ اپنی زندگی میں آنے والے ہر مسئلے سے بہتر طور پر نبٹ سکیں۔

زندگی میں‌ جو بھی ہوتا ہے اس کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے ساتھ ہوجاتا ہے اور دوسرا وہ جو ہم اس کے جواب میں‌ کرسکتے ہیں۔ اسٹوئک فلسفہ یہ بتاتا ہے کہ جو عوامل ہماری طاقت سے باہر ہیں، ان کے بارے میں‌ خود کو پریشان کرنے سے ہمارا کچھ فائدہ نہیں‌ ہوگا۔ اسٹوئسزم کا فلسفہ زندگی میں‌ پیش آنے والے مسائل کا سامنا کرنے کی خود میں‌ ہمت پیدا کرنے کا سبق دیتا ہے۔

دنیا میں ہر طرح‌ کے انسان ہیں۔ کچھ اچھے کچھ برے۔ 1993 میں‌ جب ہم لوگ ایک چھوٹے سے شہر سکھر سے ٹلسا اوکلاہوما منتقل ہو گئے تو اس وقت یہاں‌ ہمارے بہت تھوڑے سے رشتہ دار رہتے تھے۔ آہستہ آہستہ سارا ننھیال ادھر ہی آگیا۔ نیا ملک تھا، سب بہن بھائی بھی چھوٹے تھے۔ امی کی تعلیم بھی گیارہویں جماعت تک تھی۔ کچھ مہینوں کے لیے ایک عارضی اپارٹمنٹ میں‌ رہ رہے تھے۔ ایک رشتہ دار کے گھر کا پتہ امیگریشن سروسز والوں کو دیا تاکہ وہاں تمام ضروری کاغذات اور ہمارے گرین کارڈ وغیرہ قابل بھروسہ جگہ پہنچ سکیں۔ ان کے گھر باری باری سب کے کاغذات آتے گئے اور ہم تک کوئی نہیں پہنچا۔

اس وقت میرے فرسٹ پراف کا امتحان چل رہا تھا اور میں‌ واپس پاکستان چلی گئی تھی۔ یہ بہت لمبا چوڑا مسئلہ بن گیا، امتحان ادھورا چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔ وہ بھی نائن الیون سے پہلے کی دنیا تھی تو ہو ہی گیا۔ آجکل اور بھی مشکل ہے۔ اس چکر میں‌ ایک سال ضائع ہوا۔ چانڈکا میں‌ ویسے ہی کھینچا تانی کرکے پانچ سال کی ڈگری چھ سال میں‌ مکمل ہوتی تھی۔ اپنے نام کے ساتھ اور اپنے مرحوم والد کے نام کے ساتھ فیل لکھا دیکھنا میرے لیے نہایت صدمے کا موقع تھا۔ اس سے پہلے آج تک کسی امتحان میں‌ فیل نہیں‌ ہوئی تھی۔ جس رات بیچ 20 کی الوداع پارٹی تھی، میں لائبریری میں‌ بیٹھی ہوئی پڑھ رہی تھی اور میری آنکھوں‌ میں‌ انسو آگئے تھے۔

کچھ اسٹوڈنٹس ہنستے اور مZاق بھی بناتے تھے۔ دوسرے انسانوں کے کیے کے بارے میں‌ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ باتوں سے انہوں‌ نے نہ سمجھنا ہوتا ہے اور نہ ہی سدھرنا۔ کافی لوگ Zہنی طور پر ٹھیک نہیں ہیں اور ان کو اپنی بیماری سمجھنے یا اس کا علاج کروانے میں‌ کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ کچھ میں پرسنالٹی ڈس آرڈر بھی ہیں۔ وہ اپنے ہاتھ، زبان اور زندگی دوسرے انسانوں کو تکلیف دینے میں‌ استعمال کرتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر ہونے کے لحاظ سے بھی میں‌ جانتی ہوں کہ جب تک مریض خود اپنی بیماری کو سمجھنا یا اس کو بہتر کرنا نہ چاہے، ہم اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔

اس واقعے کے بعد میں‌ نے اپنے اوپر اور اپنی زندگی پر مزید توجہ دی، اس ایک سال میں‌ ساری فزیالوجی اور اناٹومی مزید توجہ سے پڑھی اور اس کی وجہ سے میری میڈیسن کی بنیاد بہت بہتر ہوگئی۔ یہی وجہ ہوگی کہ مجھے آگے چل کر اینڈو کرنالوجسٹ بننے میں‌ مدد ملی۔ اس کے علاوہ نئی کلاس میں‌ اپنے ہونے والے شوہر سے ملنے کا موقع ملا جس کی وجہ سے آج میرے دو خوبصورت بچے ہیں۔ میری زندگی خراب کرنے کی کوشش کی گئی لیکن میں نے اس صورت حال کو اس کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر لیا۔

کچھ لوگوں‌ کا خیال ہے کہ خواتین جذباتی ہونے کی وجہ سے اسٹوئک نہیں ہوسکتیں۔ لیکن اسٹؤئک ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان پتھر کا بن جائے جو کچھ بھی محسوس کرنے سے عاری ہو۔ اسٹوئک فلاسفی انسانوں کو دیگر انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ خواتین اسٹؤئک ہوسکتی ہیں بلکہ میں‌ سجھتی ہوں کہ وہ اسٹوئک فلاسفی سے اپنی زندگی میں‌ کافی فائدے حاصل کرسکتی ہیں۔ ہم سب انسانوں کے جذبات ہیں۔ یہ انسان ہونے کا لازمی حصہ ہے۔ ہم سب ہی اس وقت اذیت محسوس کرتے ہیں جب ہمارے جذبات ہماری عقل پر غالب آجائیں۔ اپنے جذبات پر قابو پاکر ہم ان کو مثبت راہ میں‌ استعمال کر سکتے ہیں۔

خاص طور پر خواتین ہونے کے لحاظ سے ہمارے اندر بہت سارا غصہ بھرا ہوا ہے کیونکہ عورتیں نسل در نسل سے مردوں‌ کے گناہوں کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ ٹرمپ جیسے آدمی کا وائٹ ہاؤس میں‌ ہونا خواتین کی ہر لمحے توہین ہے۔ اسٹوئسزم سے اپنے غصے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ہمارے اردگرد لوگ کیا کررہے ہیں اس پر ہمارا کنٹرول شائد نہ ہو لیکن ان کے جواب میں‌ ہم کیا کرسکتے ہیں وہ ہمارے ہاتھ میں‌ ہوتا ہے۔

کافی لوگ اپنی طاقت اس لیے بھی کھو دیتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں‌ طاقت ہے۔ آپ کا ووٹ ایک طاقت ہے جس کو استعمال کرکے خواتین کے لیے بہتر لیڈر منتخب کرسکتے ہیں۔ بلکہ آُپ خود لیڈر بن جائیں۔ آپ کے حالیہ لیڈران اس لیے ناکام ہیں‌ کیونکہ ان کے لیے ملک کی پچاس فیصد آبادی کے مسائل سمجھنا ناممکن ہے۔ اس طرح‌ آپ کے غصے کو ایک مثبت راستہ ملے گا۔ ملک کے قانون میں‌ سنجیدہ مسائل ہیں جن کو درست کرنا بہتر مستقبل کے لیے لازمی ہے۔

نطشے نے اسٹوئسزم پر تنقید کرتے ہوئے اس کو “غلامانہ اخلاقیات” کہا جس میں‌ پسے ہوئے دبے ہوئے لوگ اپنے حالات سے سمجھوتا کرلیتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ حالات کی حقیقت کو سمجھنا اور ایک محفوظ دائرے کے اندر رہتے ہوئے آہستہ آہستہ تبدیلی پر کام کرنا غلامی نہیں بلکہ اس سے کسی بھی انسان کو ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی جن کو وہ بہتر کرسکتے ہیں بجائے اس کے کہ صرف حالیہ ناممکنات کا ماتم کرتے رہیں۔ اسٹوئسزم سے کسی بھی انسان کو انسانیت کا حصہ بننے میں‌ مدد ملتی ہے۔ خواتین کا وجود “سرکل آف ہیروکلز” کی طرح‌ ہے جو ایک چھوٹے سے ذہنی دائرے سے شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ بڑا ہوتے ہوئے قریبی خاندان، سماج اور تمام انسانیت کو گھیرے میں لے لیتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ خواتین کو ایک دوسرے سے مقابلہ ختم کرکے ایک دوسرے کو سہارا دینا شروع کرنا ہوگا۔ انسانوں‌ کو دوسرے انسانوں‌ کی ضرورت ہے۔ بلاوجہ بار بار کسی کو اس کی زندگی کے مسائل یاد کروا کر پریشان اور دکھی کرنے سے گریز لازمی ہے۔ اور اگر لوگ کر رہے ہیں تو آپ اسٹوئسزم سے اپنے ردعمل پر کام کرسکتی ہیں۔ اسٹوئسزم سے خود کو بیچاریاں‌ سمجھنا چھوڑ دینے میں مدد ملے گی۔ اسٹوئسزم سے اپنی شکل، اپنا رنگ، اپنا موٹاپا یا دبلا پن سب کچھ قبول کرکے خود کو بہتر محسوس کرنے میں‌ مدد ملے گی۔

اسٹوئک فلاسفی ہزاروں سال پرانی دانشمندی ہے جس سے آج کی دنیا کی خواتین کو زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی ہمت مل سکتی ہے۔ معاملات جیسے بھی ہوں اور چاہے ہم ان کو تبدیل نہ بھی کرسکتے ہوں، لیکن اپنے زہن پر پڑی بیڑیاں ضرور توڑ سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •