ایف اے ٹی ایف: 4 ماہ مدت کا اصل مقصد کچھ اور ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافت کے ذریعے اگر پورا سچ بیان نہیں ہوسکتا تو کم از کم قطعی بے بنیاد کہانیوں کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ وزراء اور حکومتی ترجمانوں کے بیانات اس ضمن میں اپنا فریضہ کماحقہ ادا کررہے ہوتے ہیں۔انہیں من وعن چھاپ کر ڈنگ ٹپایا جاسکتا ہے۔ کالم نگاروں کی ’’دانش‘‘ کی انہیں ہرگز ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ہم میں سے فقط چند افراد مگر نجانے کیوں بے بنیاد کہانیوں کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالنے کو مائل ہوجاتے ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کا سب سے زیادہ تذکرہ اس کالم میں ہوا ہے۔

ہمیں جب اس ادارے نے گرے لسٹ میں ڈالا تو اس کے سنگین مضمرات کو معاشی امور کے بارے میں نابلد ہونے کے باوجود تھوڑی تحقیق کے ذریعے بیان کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا۔میرا آج بھی یہ اصرار ہے کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی منی لانڈرنگ وغیرہ کے ذریعے ’’فنڈنگ‘‘ اپنی جگہ ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ اس کو بنیاد بناکر لیکن جب کسی ملک کو اقتصادی دبائو کے تحت لایا جاتا ہے تو اصل مقاصد اس کے ’’کچھ اور‘‘ ہوتے ہیں۔تعلق ان مقاصد کا دُنیا کے طاقت ور ملکوں کے سفارتی حوالوں سے جڑے مفادات وترجیحات سے ہوتا ہے۔

FATF کے ذریعے جو دبائو آتا ہے اس میں کمی لانے کے لئے بہت مہارت سے سفارتی کارڈ کھیلنا بھی بہت ضروری ہے۔ ہمیں لیکن ایران اور سعودی عرب کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے میں مصروف کردیا جاتا ہے اور ہم ’’مسلم اُمہ‘‘ کے پردھان بنے اِترانا شروع ہوجاتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے پیرس میں FATF کا اجلاس ہوگیا۔ یہ اجلاس شروع ہوتے ہی میں نے احمقانہ اعتماد سے یہ لکھ دیا تھا کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا امکان موجود نہیں ہے۔گرے لسٹ سے باہر آنے کی مگر امید نظر نہیں آرہی۔ گزشتہ جمعہ کے روز جو اعلان ہوا اس کالم میں بیان کردہ توقعات کے عین مطابق تھا۔حکومتی وزراء اور ترجمانوں نے مگر اسے ’’بھارت کے مذموم ارادوں کی شکست‘‘ قرار دیتے ہوئے خوشی کے شادیانے بجائے۔بھارت کی یقینا یہ خواہش ہے کہ پاکستان کو FATF اپنی بلیک لسٹ میں ڈال دے۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لئے وہ اپنا سفارتی اثرورسوخ بھی بھرپور انداز میں استعمال کرتا ہے۔اس کا انداز مگر بیگانی شادی میں محاورے والے عبداللہ کی دیوانگی جیسا ہے۔

FATFمیں پاکستان کے خلاف اصل مدعی امریکہ، برطانیہ اور فرانس ہیں۔ہمارے خلاف ’’رپٹ‘‘ FATF میں امریکہ نے اس وقت لکھوائی جب ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی ایشیاء کے بارے میں اگست 2017 میں ایک نام نہاد ’’نئی پالیسی ‘‘ کا اعلان کردیا۔افغانستان میں ٹرمپ انتظامیہ کی خواہشات وترجیحات کے مطابق ’’امن کا قیام‘‘ اس پالیسی کے کلیدی اہداف میں نمایاں ترین تھا۔ FATFکی گرے لسٹ کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں طالبان کو زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے کو مجبور کیا گیا۔

ہمیں بلیک لسٹ سے باہر رکھنے کیلئے اگلے برس کی فروری تک جو مہلت دی گئی ہے اس کا اصل مقصد بھی طالبان کو امریکہ کیساتھ مذاکرات کے احیاء پر مجبور کرنا ہے۔اب کی بار تقاضہ یہ بھی ہوگا کہ حال ہی میں منعقد ہوئے افغان صدارتی انتخاب کے نتائج کو ’’ہضم‘‘ کرلیا جائے۔ ان کا احترام ہو۔ افغان انتظامیہ کے ساتھ گفتگو کی بھی کوئی صورت بنے۔ طالبان خود کو ’’اماراتِ اسلامی‘‘ شمار نہ کریں۔افغان قضیے میں ایک ’’اہم فریق‘‘ کی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے افغانستان میں جنگ بندی کا اعلان کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ بھارت کو FATF کے حوالے سے جو فوائد مل رہے ہیں وہ سفارتی زبان میں امریکہ،برطانیہ اور فرانس کے دبائو کا Rub Off ہیں۔

FATFکی وجہ سے پاکستان پر موجود دبائو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کیا۔ مقبوضہ کشمیر کو ایک وسیع وعریض جیل میں تبدیل کردیا۔ ریاست جموںوکشمیر کی تاریخی شناخت مٹادی۔ پاکستان اپنی اقتصادی مشکلات کی وجہ سے اس کی بھرپور مزاحمت نہ کرپایا۔چند سفارتی کارڈ ہمارے پاس مگر اب بھی موجود ہیں۔انہیں کھیلنے کیلئے جو مہارت درکار ہے وہ مجھ بدنصیب کو لیکن نظر نہیں آرہی۔

زیادہ تفصیلات میں آپ کو الجھانا نہیں چاہتا۔ اقوام متحدہ کی مرتب کردہ ’’دہشت گردوں کی فہرست‘‘ کا ذکر مگر ضروری ہے۔ افغانستان کے گل بدین حکمت یار کا نام بھی نائن الیون کے بعد اس میں ڈال دیا گیا تھا۔ حال ہی میں مگر حکمت یار نے افغان صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔ دوحہ میں طالبان کے جو نمائندے زلمے خلیل زاد سے مذاکرات میں مصروف تھے ان میں سے چند افراد کے نام بھی اس فہرست میں موجود ہوا کرتے تھے۔ یہ نمائندے مگر دوحہ میں قیام پذیر ہوتے ہیں۔روس اور چین جیسے ممالک میں تقریباََ سرکاری وفود کی صورت مذاکرات کرنے جاتے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی افغانستان میں ’’دہشت گردی‘‘ کے کئی واقعات ہوئے جن کی ذمہ داری طالبان نے برملا قبول کی۔ ذمہ داری کے ان اعلانات کے باوجود مذاکرات میں تعطل نہیں آیا۔ طالبان جس انداز میں خود کو افغان محاذ پر متحرک رکھے ہوئے ہیں اسے برقرار رکھنے کیلئے بھی ’’فنڈنگ‘‘ درکار ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ وہ ’’فنڈنگ‘‘ کہاں سے ہورہی ہے۔ FATF اس کے بارے میں پریشان کیوں نہیں؟کردوں کی ایک تنظیم ہے PKK۔شام کے شمال مشرقی شہروں میں بھرپور امریکی معاونت کی بدولت داعش کی مزاحمت میں مصروف YPGاس کی ذیلی تنظیم شمار ہوتی ہے۔

PKK کو امریکہ،اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے کئی برسوں سے ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ YPG اس کے باوجود امریکہ اور یورپ کی داعش کے خلاف جنگ لڑنے کی وجہ سے بہت لاڈلی رہی۔ٹرمپ نے مگر اکتوبر کے آغاز میں ترکی کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد کردوں سے لاتعلقی اختیار کرلی۔ اپنی ’’سرحدوں کو محفوظ‘‘ بنانے کیلئے ترک افواج اب شام کی سرحد کو پار کرکے کئی علاقوں پر قابض ہوچکی ہیں۔امریکی میڈیا میں کردوں سے ’’بے وفائی‘‘ کے خلاف دہائی مچی تو ٹرمپ نے اپنے نائب صدر اور وزیر خارجہ کو انقرہ بھیج دیا۔

ترکی کے صدر سے ملاقات کے بعد ’’جنگ بندی‘‘ کا اعلان ہوا۔ ترک افواج مگر جن علاقوں تک پہنچ گئی ہیں وہاں بدستور موجود رہیں گی۔ ان کے وہاں سے انخلاء کا ذکر ہی نہیں ہورہا۔ ’’کرد دہشت گردوں‘‘ کا ان علاقوں میں اب قیام ناممکن بنادیا گیا ہے۔معاملہ، یہ دہرانے کو مجبور ہوں، درحقیقت سفارتی اعتبار سے ’’مفادات و ترجیحات‘‘ کا ہوتاہے۔ پاکستان پر FATF کے دبائو کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ ہماری حکومت کی اصل فکریہ ہونا چاہیے تھی کہ پاکستان کی ’’گرے لسٹ‘‘ میں موجودگی کی وجہ سے ہمارے سینکڑوں افراد ’’غیر رسمی‘‘ تجارت کے ذریعے اپنی آمدنی بڑھانے کے امکانات سے محروم کردئیے گئے ہیں۔

ان افراد کا دہشت گردی سے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروباری افراد تھے جنہوں نے انٹرنیٹ کے مؤثر استعمال سے پاکستان کی چند اجناس کے روس جیسے ممالک میں خریدار ڈھونڈے۔ انہیں سمگلنگ کے ذریعے نہیں بلکہ باقاعدہ طریقوں سے آرڈر ہوا مال پہنچایا۔ وسیع تر تناظر میں یہ چھوٹے درجے کی E-Marketing تھی۔ اس کے امکانات اب معدوم ہوگئے ہیں۔ ہم FATF پر اثرانداز ہونے والے ممالک کو یہ سمجھا نہیں پائے کہ درمیانے اور چھوٹے درجے کے پاکستانی نوجوانوں کو E-Marketingکے امکانات سے محروم کرتے ہوئے درحقیقت انہیں ’’انتہا پسندی‘‘ کی جانب ہی دھکیلا جارہا ہے۔پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت کو دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے۔ 22کروڑ کی آبادی والے ملک کے ساتھ ایسا رویہ طویل المدتی تناظر میں خوفناک امکانات کا حامل ہوسکتا ہے۔ پنجابی محاورے والا ’’ہتھ‘‘ لہذا ہولا رکھا جائے۔

FATFکے دبائو سے قطع نظر IMF کے ایماء پر ہمارا FBR پہلے ہی ایک جنونی Documentation Drive میں مبتلا ہوچکا ہے۔ہمارے بازار کسادبازاری کی وجہ سے ادا س ہیں۔روزگار کے امکانات ختم ہورہے ہیں۔مہنگائی آسمانوں کو چھورہی ہے۔ریاستِ پاکستان کو مزید دبائو تلے نہ لایا جائے۔وگرنہ اس ملک میں بھی ویسے ہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے جو حال ہی میں عراق میں نظر آئے۔گزشتہ ہفتے سے لبنان کے عوام بھی بیروت کی سڑکوں پر براجمان ہوگئے ہیں۔ افراتفری کی کیفیت ہے۔ لبنان کی روایتی اشرافیہ اور ان کے عالمی سرپرستوں کو اس سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ پاکستان پر اقتصادی دبائو بڑھاتے ہوئے اس ملک کوبھی کامل انتشار کی طرف خدارا نہ دھکیلا جائے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •