سابق وزیر اعظم نواز شریف طبیعت ناساز ہونے پر ہسپتال منتقل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو طبیعت خراب ہونے اور ان کے خون کے نمونوں میں پلیٹلیٹس کی تعداد انتہائی کم ہو جانے پر انھیں رات گئے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔

ترجمان نیب نے میاں نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو مکمل طبی معائنے کے ساتھ ساتھ پلیٹلیٹس کی سطح میں اضافے کے لیے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو انھیں 24 گھنٹے طبی سہولیات مہیا کرنے کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاعات کے ساتھ ہی مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نیب دفتر لاہور پہنچے تھے جبکہ پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد بھی نیب دفتر لاہور کے باہر جمع ہوئی اور ٹائر جلا کر سڑک کو بلاک کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے اپنے بیان میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘خطرناک علامات کے ظاہر ہونے اور سرکاری ٹیسٹ رپورٹس میں سنگین خطرات کی واضح نشاندہی کے باوجود ہسپتال منتقل نہ کرنا حکومتی بے حسی اور بدترین سیاسی انتقام پر مبنی پالیسی ہے۔’

شہباز شریف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘نوازشریف کی جان سے کھیلا جارہا ہے، اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان ہوں گے۔’

انھوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ جیل مینوئل پر عمل نہ کر کے حکمران لاقانونیت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی حراست میں ہیں جبکہ احتساب عدالت کی جانب سے انھیں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مسلم لیگ ن کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میاں نواز شریف کا طبی معائنہ سروسز ہسپتال میں کیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ مسلم لیگ ن کی صدر میاں شہاز شریف اور نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان موجود ہیں۔

انھوں نے نیب حکام پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو گذشتہ دو ہفتوں سے نواز شریف سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ زیر حراست شخص کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور سرکاری طور پر کیے جانے والے ٹیسٹ کی رپورٹس بھی ہمارے ساتھ شئیر نہیں کی گئی تھی۔‘

مریم اورنگزیب کے مطابق پیر کو نواز شریف کے ذاتی معالج نے نیب دفتر لاہور میں نواز شریف سے ملاقات نہ کرنے پر احتجاج کیا اور نیب حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت ملنے پر نواز شریف کے خون کے نمونے لیے جنھیں دو آزاد لیبارٹریوں میں معائنے کے لیے بھیجا گیا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’خون کے نمونوں کے ٹیسٹ رپورٹس میں نواز شریف کے خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد انتہائی کم 16 ہزار آنے پر نیب حکام سے پانچ گھنٹے تک نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست کرتے رہے لیکن نیب نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نیب کی جانب سے کوئی ردعمل نہ ملنے پر ہم نے ان رپورٹس کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری کیا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ کارکنان کے نیب دفتر کے باہر پہنچنے کے بعد نیب حکام نے مجبوری میں نواز شریف کو ہسپتال منقتل کیا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’پانچ گھنٹے کی تاخیر کی ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔‘

نواز شریف

ترجمان نیب کا موقف

قومی احتساب بیورو کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘نواز شریف کی حالت قابو میں ہے اور ان کا ڈینگی ٹیسٹ منفی آیا ہے’۔

ان کا دعویٰ ہے کہ پلیٹلیٹس میں کمی مبینہ طور پر ایک ایسی دوا کی وجہ سے ہوئی ہے جو خون کو پتلا کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس دوا کو مبینہ طور پر ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے تجویز کیا تھا۔

مسلم لیگ ن نے الزام لگایا ہے کہ نیب کی جانب سے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا جس کے ردعمل میں ترجمان نیب کا کہنا تھا کہ پیر کو نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ان کے ساتھ تین گھنٹے رہے۔

ترجمان نیب کے مطابق ‘میڈیا میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ نیب نے انھیں نواز شریف کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی ہے یہ درست نہیں اور سراسر بے بنیاد ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10798 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp