مولانا فضل الرحمن، شہباز شریف اور نئی دلہن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک سینئر رہنما کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کا حال اس بیوی جیسا ہے جس کا شوہر دوسری  شادی کر کے نئی نویلی دلہن گھر لے آیا ہے، اس کی خوب خاطرمدارت کی جا رہی ہے، نازنخرے اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب پہلی بیوی اندر ہی اندر سے انتہائی جل کڑھ رہی ہے۔ غصہ بھی ہے مگر اس گھڑی کے انتظار میں ہے کہ کسی روز اس کے شوہر کی نئی دلہن سے لڑائی تو ہو گی یا اس سے بیزار ہوکر ایک دن اسے اس کی یاد ضرور ستائے گی اور وہ لوٹ کر واپس اسی کے پاس آئے گا۔ پارٹی بھی اسی کشمکش میں ہے۔ اب وہ موقع کب آتا ہے اس کا کچھ پتا نہیں۔ تاحال تو پرانی بیوی زیرعتاب ہے۔

ادھر نواز لیگ میں پس پردہ رہنے والے دو گروپ واضح طور پر نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اندرونی خلفشار آشکار ہو رہا ہے۔ خاندان میں اختلاف رائے تو تھا ہی مگر اب خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ 1997 میں وزیراعلیٰ بننے سے لے کر آج تک پارٹی میں شہبازشریف کے موقف سے سب رہنماء واقف ہیں۔ جب کبھی انہیں کسی پارٹی اجلاس میں اکسایا بھی جائے تو وہ ایسی ویسی بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے آزادی مارچ پر شہباز شریف چاہتے ہیں کہ پارٹی ایسی کسی سرگرمی کا حصہ نہ بنے جس سے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراوَ کی صورتحال پیدا ہوجائے۔ جبکہ نوازشریف دھرنے میں پارٹی کی بھرپور شرکت کے حامی ہیں۔ شہباز شریف کا کیمپ نااہلی کے بعد چاہتا تھا کہ نوازشریف سیدھے گھر جائیں اور خاموشی سے اس وقت کا انتظار کریں جب اسٹیبلشمنٹ دوبارہ ان سے رجوع کرے۔ مگر نوازشریف نے جی ٹی روڈ کا انتخاب کیا۔ ‘ووٹ کو عزت دو’ اور ‘مجھے کیوں نکالا’ کا واویلا مچا کر پاناما سکینڈل زدہ لیگ میں دوبارہ جان ڈال دی۔

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کے اعلان نے شہباز شریف کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا۔ لیت و لعل اور ٹال مٹول کے بعد بالاخر شہبازشریف کو ایک بار پھر بڑے بھائی کے اصرار پر چاہتے نا چاہتے مولانا کے ساتھ کھڑے ہو کراعلان کرنا پڑا کہ ان کی پارٹی ‘بھرپور’ طریقے سے ان کے احتجاج میں شرکت کرے گی۔ اس سے پہلے پارٹی کی حکمت عملی یہ تھی کہ معاشی بحران میں گھری عمران حکومت کو وقت دینا چاہئے تاکہ اسے یہ کہنے کا موقع نہ ملے انہیں کام ہی نہیں کرنے دیا گیا کیونکہ احتساب کا چورن زیادہ دیر تک نہیں بکے گا اور بالاآخر کارکردگی دکھانا پڑے گی۔

مسلم لیگ بہت حد تک مطمئن تھی کہ ناتجربہ کار عمران حکومت گرتی ہوئی معیشت کو سنبھال نہیں سکے گی اور وقت آنے ہر وہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھائیں گے۔ منہ زور مہنگائی، خوفناک بیروزگاری، زبوں حال معیشت، گورننس کا فقدان، نااہل ٹیم، فیصلہ اور قانون سازی کی کمزوریاں اور احتساب کے نام پر اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں نے تحریک انصاف حکومت کی تبدیلی کے دعوے ہوا میں اڑا دئے۔ مسلم لیگ نواز تو اندر ہی اندر سے بہت خوش تھی کہ انہیں بالکل محنت نہیں کرنا پڑی اور نہ ہی اسے حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کے لیے کوئی تحریک چلانا پڑی۔

حکومت کو محسوس ہوا کہ عوام پر ‘تبدیلی’ کے اثرات بجلی بن کر گرے ہیں اور تحریک انصاف نے جتنے بھی بلند وبانگ وعدے کیے تھے وہ پورے ہونے والے نہیں ہیں تو اس نے اپنے سرگرم حمایتیوں کی تسلی کے لیے احتساب کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا۔ جو اپوزیشن رہنماء آواز بلند کرتا، اسے جیل بھیج دیا۔ پھر اپوزیشن نے جب محسوس کیا کہ انہیں کچھ زیادہ ہی دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے تو وہ بھی میدان میں نکل پڑے۔ مشترکہ اپوزیشن کے پہلے اجلاس نے حکومتی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان حکومت مخالف بیانیے میں سب سے زیادہ جارحانہ نظر آئی اور ‘آزادی مارچ’ کا اعلان کردیا۔ جس کے بعد دو بڑی پارٹیاں – پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز – کشمکش کا شکار ہوگئی کہ آیا مولانا کے آزادی مارچ میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں۔

پراسراریت زدہ آزادی مارچ آہستہ آہستہ زور پکڑتا گیا اور حکومت مذاکراتی ٹیم بنانے پر مجبور ہوگئی۔ شیخ رشید نے کہنا شروع کردیا کہ جب بھی علماء نے کوئی تحریک چلائی تو ملک میں مارشل لاء لگا۔ پھر کہا کہ طاقتور حلقے ان سے رابطے میں ہیں اور امید ہے مولانا فضل الرحمان اپنا آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کا فیصلہ واپس لے لیں گے۔ مگر مولانا کے ارادے واقعی خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ طاقتور حلقوں سے ان کے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد عمران سرکار میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آزادی مارچ کو روکنے کے لیے گرفتاریاں اور رکاوٹیں لگانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

دونوں بڑی جماعتیں دھرنے میں بھرپور طریقے سے شرکت بھی نہیں کرنا چاہتیں۔ مگر انہیں ڈر بھی ہے کہ مولانا اس وقت تاریخی مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پسے عوام کی ہمدردیاں اکیلے نہ سمیٹ لیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز نے جزوی طور پر جمعیت علماء اسلام کا ساتھ دینے کی حامی بھر لی ہے۔ مولانا فضل الرحمان ان بڑی پارٹیوں سے ان کی رائے بھی لیتے رہے مگر دونوں جماعتوں کے تحفظات دور کرنے سے قاصر رہے۔ مسلم لیگ نواز بضد تھی کہ مارچ اور دھرنے کی تاریخ نومبر کے آخری ہفتے تک موخر کردی جائے جبکہ پیپلز پارٹی کے موقف تھا کہ آزادی مارچ میں مذہبی کارڈ سے اجتناب کیا جائے۔

لاہور میں ہونے والی ایک ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے یہ تاثر دیا کہ شاید وہ ریاستی اداروں کی سیاسی معاملات میں بے جا مداخلت سے تنگ آچکے ہیں اور اب وہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر لاکر چھینے گئے جمہوری حقوق واپس دلانا چاہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ملک کی بڑی جماعتیں ان کا ساتھ دیں گی۔ اور اس سلسلے میں ان کی خواہش ہے یہ جماعتیں ان کے دھرنے میں جیسے بھی ہو، شرکت ضرور کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ زیادہ لمبے عرصے کے لیے دھرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور یہ دھرنا کسی ادارے کے خلاف نہیں ہے البتہ یہ عوام کے حق حکمرانی کے حصول کی تحریک کا آغاز ضرور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •