مولانا فضل الرحمن کی دیوانہ وار سیاست کا اٹھتا ہوا طوفان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تازہ خبر یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے کارکن ستائیس کی بجائے پچیس تاریخ (جمعہ) سے ٹولیوں کی شکل میں نکلنا شروع ہوں گے، ہر ٹولی بارہ بارہ افراد (جس میں دس کارکن اور دو خادمین) پر مشتمل ہوگی۔ یہ دو خادم سفر اور کھانے پینے کے انتظامات اور لیڈر شپ سے رابطے اور ہدایات لینے کی ذمہ داری بھی نبھائیں گے۔ رکاوٹوں کی صورت میں نئے راستوں کی تلاش اور انتخاب بھی ان خادمین کی ذمہ داری ہوگی۔ گویا ہر ٹولی کو دو افراد لیڈ کرتے جائیں گے۔

ابھی ابھی میں نے (جے یو آئی ) کے ایک ذمہ دار عہدیدار سے استفسار کیا کہ ایک چھوٹی سی ٹولی کو دو افراد کے لیڈ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ تو اس نے فقط اتنا کہا کہ اس لئے کے اگر ایک گرفتار ہو تو قیادت کے لئے دوسرا موجود ہو اور مرکزی لیڈر شپ سے رابطہ بھی نہ ٹوٹنے پائے۔ ستائیس اکتوبر کو مولانا فضل الرحمٰن کراچی میں ہوں گے اور امکان ہے کہ اس دن وہ سندھ سے برآمد ہونے والی آزادی مارچ کی قیادت خود سنبھالیں گے جبکہ خیبر پختون خواہ سے اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے مارچ کی قیادت سابق وزیراعلٰی اکرم درانی کریں گے۔

ایک ذریعہ یہ بھی بتا رہا ہے کہ اکرم درانی کی گرفتاری کی صورت میں اے این پی کے لیڈر اسفند یار ولی میدان میں اُتریں گے اور آزادی مارچ کی قیادت سنھبال لیں گے، بالفرض ایسا ہوا تو (اے این پی) کے سخت جان کارکنوں کا احتجاج دیدنی ہوگا، لیکن اس تپتے ہوئے منظر نامے میں فی الحال پنجاب کی سمت سے ایک گھمبیر اور پراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے لیکن پنجاب کے سیاسی مزاج سے واقف لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے مو اقع پر پنجاب اپنے پتے آخر تک اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے۔

جس کی ایک مثال ایوب خان کابینہ سے مستعفی ہونے والے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے استقبال کے لئے اچانک اور غیر متوقع طور پر لاھور ریلوے سٹیشن پر ایک خلقت کا اُمڈ آنا تھا جس کے بطن سے بعد میں طاقتور پیپلز پارٹی نکلی۔ جبکہ دوسری مثال ججز بحالی سلسلے میں نواز شریف کا صرف چند کارکنوں کے ساتھ لاھور سے نکلنا اور پھر تھوڑی دور دریائے راوی کے پل تک پہنچتے پہنچتے تاحد نگاہ عوامی لہر کا اُٹھنا تھا اب کے بار نتیجہ ججز بحالی کی صورت میں فوری طور پر آیا تھا جبکہ حال ہی میں وزارت عظمٰی سے معزولی کے بعد جی ٹی روڈ پر عوام کا سمندر وہ مثالیں ہیں جو موجودہ منظر نامے میں پنجاب کی گھمبیر خاموشی کو موجودہ حکومت کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بنا رہی ہے۔

اس حقیقت سے انکار ایک حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں کہ نواز شریف اپنی جرات، مظلومیت اور مقبولیت کے سبب پنجاب کے قدیم اور رومانی استعار ے گھبرو کا روپ دھار کر پورے پنجاب کے نفسیات پر سوار ہیں۔ اور یہی حوالہ پنجاب کے گلی کوچوں سے آزادی مارچ میں طاقتور عوامی حجم رکھنے والا ایک حیرت انگیز اور خوفناک ریلہ برآمد کر سکتا ہے، گویا اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ پنجاب کا احتجاج دوسرے صوبوں اور جماعتوں پر واضح برتری لے سکتا ہے اگرچہ شہباز شریف اور دوسرے لیڈروں کا رویّہ قدرے سہما ہوا اور نا قابل ستائش ہے لیکن نواز شریف کے حکم پر اب بھی اس کے کارکن ایک جنوں خیز جذبے کے ساتھ امڈتے اور لپکتے دکھائی دیں گے۔

مزید خبر یہ ہے کہ بال کی کھال اُتارنے والے زیرک اور جہاں دیدہ خبر نویسوں نے ایسا کوئی دریچہ نہیں چھوڑا جہاں تاک جھانک نہ کی ہو لیکن تاحال مولانا کو کسی بھی ”اشارے“ کا ثبوت نہ پا سکے اور جب بات تجزیے پر ہی آ کر ٹھہرتی ہے تو ”اتفاقات کی کڑیاں “ بھی باہم ملاتے ہوئے آپس میں نہیں جڑتیں۔ سو آخری اطلاع یہ ہے کہ مولانا کا اعتماد کسی اشارے کی مرہون منت نہیں بلکہ بدلتے ہوئے زمانے کا ادراک، عوامی موڈ سے آگاہی، روایتی اور دبے ہوئے میڈیا کے مقابل سوشل میڈیا کا اٹھان اور ثر ورسوخ اور عالمی منظرنامے میں ہوتی تبدیلیاں اسے پابہ رکاب بنا رہی ہیں لیکن اس میدان کارزار سے بہت دور ٹھنڈے ٹھار لہجوں اور سرگوشیوں میں بات کرنے والے اشاروں کنایوں میں ایک دھندلے منظرنامے کی تخلیق کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور دبے لفظوں میں سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک پرانے کیس میں نواز شریف کو عدالت میں پیش کر کے یہ موقع دینا کہ چند ہی سیکنڈ میں اپنے بیانیے سمیت ٹیلی ویژن چینلوں اور سیل فون سکرینوں پر چھا جائے کیا محض اتفاق ہے؟

 کیا انہی دنوں عمران خان کے خلاف پارٹی فنڈنگ کے خوفناک کیس کا انجام کی طرف بڑھنا معمول کا معاملہ ہے؟ پیپلز پارٹی کا پراسرار رویّہ، آصف زرداری کی بیماری کی افواہ اور بلاول سے ملاقات کہیں پیپلز پارٹی کے لئے نئے کردار کی تلاش کا سلسلہ تو نہیں ؟ شہباز شریف کے علاوہ شاہ محمود قریشی اور محمد میاں سومرو کی اہمیت کچھ زیادہ نہیں بڑھتی جا رہی ہے؟ مراد سعید کو وزارت سے ہٹانے کا مشورہ ”کس“ نے اور ”کیوں “ دیا اور اسے ماننے سے انکار ”کس“ نے کیا؟

بزنس مین طبقہ ہمیشہ سے اپنی شکایات لے کر وزیراعظم کے پاس جاتے رہے ہیں لیکن اب کے بار ان کا رُخ مارگلہ پہاڑوں کے دامن میں واقع قصر سفید کی بجائے پنڈی کی خاکستری رنگ کی عمارت کی جانب کس نے موڑا؟ لیکن ان پیچیدہ سوالات میں اُلجھنے کی بجائے ہم فی الحال اس آزادی مارچ عرف عام میں دھرنا پر اپنا ذوق نچھاور اور نگاہیں مرکوز کرتے ہیں جس سے ایک زمانے میں سیاسی بساط کے سب سے زیرک اور معاملہ فہم سیاستدان مولانا فضل الرحمٰن کی جنوں خیز دیوانگی اور باغیانہ سیاست ٹپکنے لگی ہے، مولانا فضل الرحمٰن طویل عرصے تک مسند و اقتدار کا لطف اُٹھاتے رہے لیکن جب اپنے جلسوں میں تقریر کرنے آتے تو ان کے سادہ لوح معتقدین ان کے لئے قائد انقلاب کے فلک شگاف نعروں سے آسمان سر پر اٹھاتے تو ہماری ہنسی روکنے سے نہ رُکتی لیکن پتہ نہیں یہ وقت کا کمال ہے یا حالات کا جبر کہ اب ہم گلی گلی گونجتے انہی سادہ لوح عقیدت مندوں سے قائد انقلاب کا و ہی نعرہ سنتے ہیں تو سوچ میں بھی پڑ جاتے ہیں اور سہم بھی جاتے ہیں ۔

سوچتے اس لئے ہیں کہ آخر اچانک ایسا کیا ہوا کہ اقتدار کی غلام گردشوں کے باسی نے نہ صرف اچانک دشت جنوں کا پرخار راستہ لیا اور جبہ و دستار کو اپنا پرچم بنایا بلکہ گریبان تک کو چاک کر ڈالا اور سہم س لئے جاتے ہیں کہ جس بحر سیاست کے کنارے مولانا نے پڑاؤ ڈالا اس بحر کی تہہ سے کیا خبر کوئی گوھرِ نایاب اُچھلتا ہے یا کوئی خون آشام بلا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •