جواب شکوہ (اقبال سے پھر معذرت)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلمانو! تم کہتے ہو کہ یہ ملک تم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا، تمہارایہ بھی دعوی ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کی ہے اور تم اُس کی متعین کردہ حدود میں رہ کر یہ اختیار استعمال کرنے کے پابند ہو، ایسا تم نے آئین میں لکھ رکھا ہے، مگر یہ بھی تو بتلاؤ کہ کیا حقیقت میں تم نے کبھی اُن حدود و قیود کا احترام کیا؟ قرا ن و سنت کی پاسداری کا تمہیں دعوی ہے تو ذرا قران کھولو اور پڑھو کہ اللہ اس میں فرماتا ہے ”جو شخص اپنا عہد پورا کرے اور پرہیز گاری کرے، تو اللہ تعالی ٰ بھی ایسے پرہیز گاروں سے محبت کرتا ہے“ (آل عمران، 3 : 76 )۔

اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک کا آئین ایک عہد نامہ تھا، ریاست اور عوم کے درمیان، اس عہد نامے کی پامالی کو تم نے جرم سمجھانہ گناہ، کئی مرتبہ تم نے اِس عہد نامے کی خلاف ورزی کی، اُس پر تمہیں کوئی پشیمانی ہوئی اور نہ کسی کو سزا دی، جبکہ اللہ کے نبی ﷺ کی تعلیمات میں سے ایک بنیادی حکم یہ ہے کہ عہد کو ہر حال میں نبھاؤ۔ تم اپنا عہد توڑتے ہو اور اِس پر ذرا بھی شرمسار نہیں، ایسے میں تم کس منہ سے خدا اور اس کے رسول ﷺ کی شفاعت کے طلب گار ہو، کیسے یہ امید رکھتے ہو کہ اللہ تم پراپنی رحمتیں نازل کرے گا؟

دراصل تم نے وظیفوں اور عملیات کو اسلام سمجھ لیاہے، کرامات کے انتظار میں رہتے ہو، سستی اور کاہلی تمہاری گھٹی میں پڑی ہے، کبھی تمہیں کسی مسیحا کی تلاش ہوتی ہے تو کبھی کسی مرد مومن کے پیچھے چل پڑتے ہو، اپنے گریبان میں جھانکنے کی مگر زحمت نہیں کرتے۔ نماز میں اھدنا الصراط المستقیم پڑھتے ہو اور سلام پھیر کر ملاوٹ کرنے نکل جاتے ہو، یتیم کا مال کھاتے ہو اورمسجد کے مولوی کو چندہ دے کر سمجھتے ہو کہ تم نے پلی بارگین کر لیا، ذخیرہ اندوزی کرتے ہو اور پھر عمرہ کرکے مطمئن ہو جاتے ہوکہ تمہارے گناہ از خود معاف ہو گئے، ملاوٹ کرکے منہ پر کالک ملتے ہو اور پھر حج کرکے سمجھتے ہو کہ تمہارا چہرہ دھل گیا، ایسے میں حدیث مبارکہ تمہیں بھول جاتی ہے کہ جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں!

کیا تم نے اللہ کو ایسا سمجھ رکھا ہے کہ اُس نے تمہارے گناہوں اور آلائشوں کو محض اِس لیے دھو ڈالنا ہے کہ تم ظاہری عبادات کرتے ہو! تم کہتے ہو کہ ملک میں کوئی قانون قران و سنت کے منافی نہیں، یہ بھی تو بتلاؤ کہ کیا تمہارا کوئی کام قران و سنت کے مطابق بھی ہے؟ کیا چند ہزار روپے خیرات کر دینے کے بعد تم ٹیکس چوری نہیں کرتے، کیا یہ عین اسلامی فعل ہے، کیا غریب کی عزت نفس مجروح کرنے کے بعد کیمروں کی چکا چوند میں اسے آٹے کا تھیلا دینا پسندیدہ امر ہے، کیا مزدور کا پسینہ خشک ہونے کے بعد اسے ذلیل کرکے تنخواہ دینا سنت پر عمل کرنا ہے، کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کا قول یاد نہیں؟ کس منہ سے تم رسول اللہ ﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہو جب اپنے یتیم بھتیجے کی جائیداد ہڑپ کرکے فون پر نعتوں کی رنگ ٹون لگا لیتے ہو؟ شراب پر پابندی تو تم نے لگا دی لیکن کیا کبھی دولت کے نشے کو بھی حرام سمجھا، کبھی طاقت کے سرورسے نجات پانے کی کوشش کی، کبھی شہرت کے گھمنڈ کو برا جانا؟

اہل مغرب سے تمہیں حسد ہے کہ وہ آگے نکل گئے اور تم منہ تکتے رہ گئے کیونکہ تم نے فرض کر لیا کہ ملک تمہاری عبادتوں اور دعاؤں سے ٹھیک ہوگا، مگر کیاغیر مسلموں نے وہی اصول نہیں اپنائے جو تمہیں اپنانے چاہئیں تھے، کیا تمہارا کام فقط اسلام کے نام پر ادارے بنانا ہی تھا، اُن اداروں میں علم کی ترویج تمہارا فریضہ نہیں تھا؟ تم چاہتے تھے کہ اسلام کی اِس تجربہ گاہ میں سائنس دان، مفکر اورحکماپیدا ہوتے جیسے تمہارے آبا و ¿ اجداد تھے جو پورے عالم اسلام کے لیے رول ماڈل بنتے مگر اِس کام کی تکمیل کے لیے تم نے کیا عملی قدم اٹھایا۔

علمی تحقیق اور جستجو کے لیے ضروری تھا کہ تم ایک آزاد ماحول میں تنقیدی شعور کو پروان چڑھاتے، تمہاری جامعات میں ہر قسم کی بحث کی آزادی ہوتی، نوجوان یہاں سچائی کی تلاش میں آتے، ابن رشد بن کر نکلتے، ایسا ماحول دینے کی بجائے الٹا تم نے اِن درسگاہوں کوذہنی عقوبت خانوں میں بدل دیا جہاں نہ کوئی آزادی سے تحقیق کر سکتا ہے اور نہ کسی سیاسی حریف سے مکالمے کا اہتمام! اللہ نے تو تمہیں بتا دیا تھا کہ ”آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں“ ( 3 : 190 )، تم نے اِس حکم کی روح کو سمجھنے کی بجائے عید کے چاند پر جھگڑا شروع کردیا۔

تمہارا دعویٰ ہے کہ عشق رسول ﷺ میں تم سے کوئی آگے نہیں تو اللہ کے محبوب ﷺنے غیر مسلموں سے حسن سلوک کا حکم دیا تھا، انہیں اِس حد تک آزادی تھی کہ مسجد نبوی میں عبادت کر سکیں جبکہ تم نے اُن کی بستیوں کو آگ لگائی، اُن کی عبادت گاہوں میں دھماکے کیے اور انہیں جھوٹے الزام میں زندہ جلا کر بھٹی میں ڈالا، تمہی کہو کیا ایسے کام اُس ملک میں کیے جاتے ہیں جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہو؟ تم اللہ کے دین کی تبلیغ کرتے ہو، اجتماعات منعقد کرتے ہو، بہت اچھی بات ہے، مگر لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنے کا بہترین طریقہ تم نے بھلا دیا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر تمہارے اعمال اور حسن اخلاق تبلیغ کی صورت میں معاشرے میں پھیل کر لوگو ں کو متاثر کرتے؟

کیا تمہارے نبی ﷺ نے اپنے اخلاق سے ہی کفار کو اسلا م کی طرف راغب نہیں کیا تھا، پھر تم اُن کی سنت ﷺ پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ تمہاری ایک اور غلط فہمی جرم اور گناہ میں فرق کرنا ہے، تم روزہ چھوڑنے کو گناہ تو سمجھتے ہو مگر روزے کی حالت میں اندھا دھند گاڑی چلانے کو گناہ نہیں سمجھتے جبکہ ملکی قانون توڑنا صرف جرم ہی نہیں گناہ بھی ہے۔ محرم میں تم امام حسین ؓ کی شہادت کو یاد کرتے ہو، ٹی وی پر نمو دار ہو کر پروگرام کرتے ہو، کربلا کا سبق بتاتے ہو مگر جب وقت آتا ہے تو تم میں سے کوئی جماعت یزید کے ساتھ کھڑی ہو کر باطل کا ساتھ دیتی ہے تو کوئی گروہ خاموش ہو کر ”تقیہ“ کر لیتا ہے، نواسہ رسول ﷺ کے قتل پر ماتم تو کرتے ہو مگر حسین ؓ کی تقلید کرنے کی ہمت نہیں رکھتے اور طرہ یہ کہ منافقت کی چادر اوڑھ کر خود کو حق سچ کا علمبردار بھی کہتے ہو۔ تمہارے آئمہ نے بلا خوف و خطر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہا، سچ کہنے کی قیمت ادا کی، لیکن تم اپنی آسائشو ں کے غلام بن چکے ہو اور اب ٹسوے بہاتے ہو کہ ملک پر خدا کی برکتیں کیوں نازل نہیں ہوتیں!

شکوہ کرکے خود کو مظلوم ثابت کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ تم عہد نامے کی پاسداری سیکھو، آئین کو تقدس دو، خدا کے نام پر حاصل کیے گئے اِس ملک میں قانون توڑنے کو جرم ہی نہیں، گناہ بھی سمجھو، یہی اسلامی روح کے عین مطابق ہے، تمہاری مشکلات کا از خود خاتمہ ہو جائے گا۔

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کیا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 344 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada